کوئٹہ: جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولاناعبدالحق ہاشمی نے کہا کہ اگر حکمرانوں نے اخلاص ونیک نیتی اور انصاف سے کام کیا تو سی پیک سے بلوچستان کی تقدیر بدل سکتی ہے بلوچستان کے عوام کو وفاق اور صوبائی حکومت نے کبھی بھی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے آج بھی بلوچستان کے اکثر علاقے ہر قسم کی بنیادی انسانی ضروریات کو ترس رہے ہیں ملک وملت دشمن قوتیں ریاستی نظام اور معاشرتی اقدار سے دین کو پسپا کردینا چاہتی ہیں ۔ مساجد ، مدارس اور خانقاہیں و مزارات ان منفی قوتوں کا ہدف ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ تربت کے دوران صحافیوں سے گفتگو اورجماعت اسلامی کے بزرگ وبانی رکن ،خدمت گار ملااحمد دشتی و دیگر ذمہ داران سے ملاقات کرتے ہوئے کہی ان کے ہمراہ الخدمت فاؤنڈیشن کے صوبائی صدر میر محمد عاصم سنجرانی ،جماعت اسلامی یوتھ کے صوبائی صدر جمیل احمدمشوانی ،سید طارق رضوی، غلام اعظم دشتی ودیگر بھی تھے انہوں نے کہا کہ وسائل سے مالامال بلوچستان کوحکمرانوں نے ریگستان بنادیا ہے ہر طرف کرپشن وکمیشن مافیا مسلط ہیں تعصب ،نفرت ،لسانیت ،فرقہ واریت سے نجات وقت کی اہم ضرورت ہے اگر دینی قوتوں نے خود احتسابی اورمخلصانہ اتحادی جذبوں کو اجاگر نہ کیا تومعاشرہ اور ریاست سے دین کی پسپائی، مغربی جدید ظالمانہ سرمایہ دارانہ نظام اور تہذیب کا غلبہ اور اسلامی قوتوں کے لیے ہزیمت اور رسوائی نوشت�ۂ دیوار ہے ۔ جماعت اسلامی نے پہلے مختلف طریقوں سے سیاسی مذہبی دینی قوتوں کو متحد ویکجا کیا آئندہ بھی اتحاد اور یکجہتی کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے گی ۔ تحفظ ختم نبوت و ناموس رسالت قوانین کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا کرپشن کے خاتمہ کے لیے جماعت اسلامی عوامی عدالت میں مقدمہ پوری قوت سے لڑے گی بجلی کی لوڈشیڈنگ نے بھی بلوچستان کی پسماندگی وغربت میں اہم کردار ادا کیا ہے حکومت اہل بلوچستان کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی ، تعلیم وصحت کے بہترین مواقع فراہم کریں ۔