|

وقتِ اشاعت :   May 9 – 2017

کوئٹہ: زراعت ملک و صوبے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ صوبائی حکومت نے محکمہ زراعت اور زمینداروں کے مابین باہمی روابط کو مچید مستحکم اور فعال بنانے کیلئے اقدامات کا آغاز کر دیاگیا ہے اور ضلعی سطح پر متعلقہ زرعی شعبوں کے سربراہان کے ساتھ مل کر کسان کانفرنسز اور کسانوں کو جدید خطوط پر تربیت کا سلسلہ جاری ہے۔ تاکہ کسان بھائی زراعت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر صوبے اور ملک کی معیشت کی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کر سکیں۔ ان خیالات کا اظہار سیکرٹری زراعت عبدالرحمن بزدار نے گزشتہ روز ضلع شیرانی میں منعقدہ کسان کانفرنس کے دوران زمینداروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر محکمہ زراعت کے چاروں شعبوں کے ڈائریکٹر جنرلز اور دیگر حکام بھی موجود تھے ۔ سیکرٹری زراعت نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی کسان کانفرنس کا مقصد زمینداروں کو درپیش مسائل ،زمینداروں سے برائے راست آگاہی اور معلومات حاصل کرنے کیلئے منعقد کی گئی ہے تاکہ زمینداروں کو جدید زرعی اصولوں کے مطابق کاشت کاری کی جانب راغب کیا جاسکے اس سلسلے میں محکمہ زراعت کے چاروں شعبوں کے ماہرین صوبے کے ہر ضلع میں جاکر زمینداروں کو عملی تربیت دے رہے ہیں صوبے کے66اضلاع میں زرعی ورکشاپس منعقد کر کے زمینداروں کو جدید زراعت کی تربیت دی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ کسان کانفرنسوں کے انعقاد کا مقصد ان کے مسائل معلوم کرنا اور ان کے حل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لانا ہے کاشتکاری میں پانی کی کمی اور پانی کا ضائع بہت بڑی رکاوٹ ہے جس کے حل کیلئے کسانوں کو پختہ تالاب اور نالیاں پی وی سی پائپ دینے کیلئے تمام اضلاع میں منصوبے جاری ہیں جس سے 55%فیصد پانی کے ضائع کو بچایا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار کو بڑھانے کیلئے صوبے میں پانی اور مٹی کے نمونوں کے ٹیسٹ کیلئے لیبارٹریز قائم کئے گئے ہیں جس سے کسان اپنی زمین کا پانی اور مٹی کا نمونہ با آسانی ٹیسٹ کرواسکتے ہیں تاکہ زمین میں کسی قدرتی اجراء کی کمی کا ادارک لگا کر کے اس کمی کو پورا کیاجاسکا اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل زراعت مسعود احمد بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں زراعت کے فروغ کیلئے صوبائی حکومت خصوصی دلچسپی لے رہی ہے اور صوبے کے کسانوں کو جدید زراعت کی جانب راغب کرنے کیلئے کسانوں میں شعور اجاگر کیاجارہا ہے یہ کانفرنس بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جب تک زمیندار زرعی اصولوں کے مطابق کاشت کاری نہیں کرینگے تب تک زراعت سے مکمل مستفید نہیں ہوسکتے اس موقع پر ڈی جی ریسرچ ڈاکٹر جاوید ترین نے شرکاء کو بتایا کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق شعبہ زراعت میں جدت لاناناگزیر ہے تقریب میں ضلع کے دور دراز کے زمینداروں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔