|

وقتِ اشاعت :   June 14 – 2017

چینی حکومت کی جانب سے سرکاری فنڈنگ کرنے والے بینکوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ سلک روڈ منصوبے پر کام کرنے والی چینی کمپنیوں کو قرض فراہم کریں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چائنا ڈیولپمنٹ بینک (سی ڈی بی) اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف چائنا (ای ایکس آئی ایم) کے 2 عہدیداروں نے بتایا کہ وہ پاکستان اور اس خطے میں ’ایک سڑک، ایک خطہ‘ منصوبے پر کام کرنے والی چینی کمپنیوں کو قرض دینے کے سلسلے میں ترجیح دے رہے ہیں جو چین سے خام مال یا دیگر سازو سامان کی درآمد کرتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان میں پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک)، جو چین کے ’ایک سڑک، ایک خطہ‘ منصوبے کا ایک اہم جزو ہے، پر کام کرنے والی چینی کمپنیوں سے کیے جانے والے معاہدوں پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور یہ خیال کیا جارہا ہے کہ اس منصوبے کو تیزی سے مکمل کرنے میں پاکستان کا زیادہ پیسہ خرچ ہوگا۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی کمپنی ’جنرل الیکٹرک‘، چینی کمپنی ’اسٹیٹ گرڈ‘ سے 25 فیصد کم لاگت میں ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے کے لیے تیار تھی جبکہ اس معاہدے کے لیے پاکستان نے چینی کمپنی کو زیادہ رقم ادا کی ہے۔

پاکستان میں پاور مینجمنٹ کے آزاد ادارے نیشنل الیکٹرک پاور اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ چینی کمپنی ‘اسٹیٹ گرڈ’ کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے جبکہ اسی منصوبے میں دیگر کمپنیوں سے کیے جانے والے معاہدوں میں یہ پیشکش شامل نہیں تھی۔

 

تاہم پاکستانی حکومتی عہدیداروں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

دوسری جانب ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے والی ‘اسٹیٹ گرڈ’ کی ذیلی کمپنی چائنا الیکٹرک پاور ٹیکنالوجیز کمپنی لمیٹڈ (سی ای ٹی) کا کہنا ہے کہ جس قیمت کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ مناسب ہے۔

پاکستان نیشنل ٹرانسمیشن اور ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے منیجنگ ڈائریکٹر نے اسٹیٹ گرڈ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک بہت ہی مناسب قیمت ہے‘۔

دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے شفاف ہیں جو پاکستان اور چین کے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی ترقی کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں چینی کمپنیوں کی برتری جاری رہے گی جبکہ ’ایک سڑک، ایک خطہ‘ منصوبے کے تحت دونوں ملک 57 ارب ڈالرز کی لاگت سے پاکستان میں پاور پلانٹس، بندرگاہیں، ریلوے لائنیں اور سڑکیں بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

گذشتہ ماہ بیلٹ اینڈ روڈ کانفرنس کے دوران چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کو مزید تیز کیا جائے گا۔

 

ان حکومتی معاہدوں کے تحت مٹیاری سے لاہور تک 878 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائنیں بچھائی جائیں گی۔

پاکستانی حکام کے مطابق ان معاہدوں کی نیلامی کے دوران باقاعدہ مقابلہ سامنے نہیں آیا اسی لیے گذشتہ برس دسمبر میں یہ منصوبہ چینی کمپنی کے سپرد کردیا گیا۔

دوسری جانب حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ چینی کمپنی سے 2016 میں جب مذاکرات ناکام ہوئے تھے تو جنرل الیکٹرک، سیمنز اور سوئٹزرلینڈ کی اے بی بی کی جانب سے رابطہ کیا گیا تھا۔

واپڈا کے سابق سربراہ محمد یونس ڈھاگا نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے گذشتہ برس اگست میں پیرس پاور کانفرنس کے دوران علیحدہ ملاقات کی تھی جہاں انہوں نے ان ٹرانسمیشن لائنوں کے معاہدے کے بارے میں غیر رسمی بات چیت کی تھی۔

نیپرا کی دستاویزات کے مطابق جنرل الیکٹرک نے ابتدا میں کنورٹر اسٹیشنز کے لیے اسٹیٹ گرڈ کے 1 ارب 26 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 80 کروڑ ڈالر کا تخمیہ دیا تھا۔

 

واپڈا کے سابق سربراہ کے مطابق جب یورپی کمپنیوں سے کہا گیا کہ وہ منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے اسٹیٹ گرڈ کی ٹائم لائن کو میچ کریں تو ان کمپنیوں کا کہنا تھا کہ اتنے کم عرصے میں ان منصوبوں کا مکمل ہونا ناممکن ہے۔

دوسری جانب حکومتی اور نیپرا کے عہدیداروں نے بتایا کہ پاکستان پر مقامی سطح پر ان منصوبوں کو تیز کرنے کا دباؤ ہے۔

نیپرا عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے اسٹیٹ گرڈ کی قیمتوں کو منظور کرنے کا دباؤ ڈالا جارہا ہے اور متنبہ کیا جارہا ہے کہ چینی معاہدے سے الگ ہوکر دستبردار ہو سکتے ہیں۔

تاہم حکومت کی جانب سے نیپرا کے دعوؤں پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا گیا کہ نیپرا کی وجہ سے ماضی میں بھی ان منصوبوں کی رفتار میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

اس معاملے پر نیپرا حکام کا کہنا تھا کہ حکومت نے اسٹیٹ گرڈ کو معاہدے میں آسانی پیدا کرتے ہوئے ٹیرف پر وِد ہولڈنگ ٹیکس میں 7.5 فیصد تک کمی کردی ہے، جو یہ کمپنی 25 سال تک صارفین سے وصول کرے گی۔

تاہم وفاقی حکومت اور این ٹی ڈی سی کی جانب سے وِد ہولڈنگ ٹیکس کے خاتمے کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف نے پاکستان کی جانب سے بجلی کے بنیادی ڈھانچوں کے لیے چینی کمپنیوں کو ترجیح دینے یا زیادہ ادائیگیوں کے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ، ‘اس نتیجے کو تھوڑا سا غلط یا مبالغہ آرائی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے’۔

وزارت پانی و بجلی کے ایک سابق عہدیدار اشفاق محمود کے مطابق بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی پاکستانی ضرورت نے اس کے بڑے پڑوسی (چین) پر مخصوص انحصار کو ناگزیر بنایا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا، ‘یہ چینیوں کے لیے ایک موقع ہے اور ہم ان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے’۔