|

وقتِ اشاعت :   June 24 – 2017

واشنگٹن: ٹرمپ حکومت نے پاکستان اور افغانستان کے لیے اپنے نمائندہ خصوصی کا عہدہ ختم کردیا۔

امریکی حکام کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مختلف تنازعات مشترکہ طورپر حل کرنے کے لیے یہ عہدہ قائم کیا گیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا خطے میں ہزاروں فوجی دستے بھیجنے کی تیاری کررہا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر افسر نے بتایا کہ قائم مقام نمائندہ خصوصی لیورل ملر نے یہ عہدہ جمعہ کے روز چھوڑ دیا اور ان کے متبادل کے لیے اس عہدے پر کسی تقرری کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ملر رینڈ کارپوریشن میں اپنے عہدے پر واپس جارہے ہیں جب کہ سیکریٹری خارجہ ریکس ٹیلرسن کے بارے میں بھی یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ وہ اپنے عہدے کے ساتھ ساتھ اور کیا کرتے ہیں۔

خبر ایجنسی کے مطابق اب ملر کی ذمہ داریاں جنوبی اور وسطی ایشیا سے متعلق معاملات کے بیورو میں ہوں گی جب کہ اس بیورو آفس میں بھی تاحال کوئی اسسٹنٹ سیکریٹری تعینات نہیں کیا گیا ہے۔

امریکی سفارتکار افغانستان اور امریکا کے درمیان نمائندہ خصوصی کا عہد ختم ہونے کو لیڈرشپ کا فقدان قرار دے رہے ہیں۔جب کہ سینئر امریکی حکام کہا کہنا ہیکہ یہ فیصلہ وسیع پالیسی پر نظر ثانی کا حصہ ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق امریکی سیکریٹری دفاع جم میٹس افغانستان میں فورسز کی تربیت کے لیے 5 ہزار مزید دستے بھیجنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں جن کیذریعے طالبان کی شورش کو روکا جاسکے۔