کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ ہمیں ایک بڑی جنگ کا سامنا ہے سرحد پار سے دہشت گرد آکر صوبے میں دہشت گردی کرتے ہیں اور معصوم لوگوں کا خون بہاتے ہیں، موجودہ صورتحال میں ہر متعلقہ ادارے کو چوکس رہنا ہوگا، اللہ کے فضل سے ہم کامیابی کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، پہلے ہم دہشت گردوں کے محاصرے میں تھے اب دہشت گرد ہمارے محاصرے میں ہیں اور جلد ان کا مکمل قلع قمع کر دیا جائیگا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے امن و امان اور عاشورہ محرم کی سیکورٹی کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، صوبائی وزراء میر سرفراز بگٹی، سردار محمد اسلم بزنجو، آئی جی پولیس احسن محبوب، سیکریٹری داخلہ اور تمام متعلقہ صوبائی و وفاقی محکموں اور انٹیلی جنس اداروں کے حکام اور انتظامی سربراہان بھی اجلاس میں شریک تھے، اجلاس کو آئی جی پولیس اور متعلقہ حکام کی جانب سے امن و امان کی صورتحال اور سیکورٹی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں محرم کی مجالس اور عاشورہ کے جلوسوں کے لیے فول پروف سیکورٹی اقدامات کئے گئے ہیں، جن میں امام بارگاہوں کی حفاظت کے لیے اضافی نفری کی تعیناتی ، ضلع ، ڈویژن اور صوبائی سطح پر مانیٹرنگ رومز کا قیام ، جلسوں کی مانیٹرنگ کے لیے کیمروں کی تنصیب سمیت دیگر ضروری انتظامات شامل ہیں، جبکہ ماضی کی طرح اس سال بھی عاشورہ محرم کے جلوسوں کے روٹس کی سوئپنگ، پلگنگ اور فضائی نگرانی کی جائے گی۔
ایف سی ، پولیس اور لیویز اہلکار تعینات کئے جائیں گے جبکہ پاک فوج کی بھرپور معاونت بھی حاصل رہے گی، اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن بھی کئے جا رہے ہیں اور سیکورٹی ہائی الرٹ ہے، اجلاس کو بتایا گیا کہ 9اور 10محرم کو کوئٹہ سمیت جن علاقوں میں جہاں عاشورہ کے جلوس برآمد ہوتے ہیں موبائل فون سروس بند رکھی جائے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ انتظامیہ نے شیعہ کانفرنس اور دیگر مکاتب فکر کے علماء کرام سے مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے انہیں اعتماد میں لیا ہے تاکہ علماء کرام فرقہ وارانہ ہم آہنگی، بھائی چارے اور یکجہتی کی فضاء کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں، وزیراعلیٰ نے سیکورٹی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم انہوں نے ہدایت کی کہ فسادیوں اور شرپسندوں سے پوری طرح ہوشیار رہتے ہوئے معمولی سے بھی خطرے اور خدشات کو نظر انداز نہ کیا جائے اور تمام ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں مربوط حکمت عملی کے ساتھ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسلام تمام مذاہب ، مسالک اور مذہبی عقائد کا بھرپور احترام کرنے کا درس دیتا ہے، ہم کسی کو بھی اپنے اندر تفرقہ پیدا نہیں کرنے دیں گے اور عوام کے تعاون سے تفرقہ پیدا کرنے کی ناپاک سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے مانیٹرنگ کے نظام کو موثر بناتے ہوئے شر انگیزی کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹیں، وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ سیکورٹی اداروں کو محرم الحرام میں امن برقرار رکھنے کے لیے تمام وسائل اور ضروری فنڈز فوری طور پر فراہم کئے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ عاشورہ محرم کے جلوسوں کے روٹس پر بھرپور سیکورٹی کے ساتھ ساتھ دیگر تمام ضروری سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے، جن میں روٹس کی صفائی ، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب ، ایمبولینس سروس کی فراہمی شامل ہیں، جبکہ انہوں نے محکمہ صحت ، محکمہ بلدیات، میٹروکارپوریشن کو بھی مستعد رہنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ حکومتی اقدامات ، سیکورٹی فورسز کی کارکردگی اور عوام کے تعاون سے محرم الحرام امن کے ساتھ گزرے گا۔
دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ بلوچستان کے لوگ پیار و محبت کرنے والے ہیں اور وہ کچھ نہیں مانگتے صرف عزت و احترام چاہتے ہیں، لہذا باہر سے آنے والے افسر ان ان سے پیار و محبت سے پیش آئیں گے وہ بھی انہیں عزت و احترام دیں گے۔
اس حوالے سے وزیراعلیٰ اپنی مدت ملازمت پوری کر کے ریٹائرمنٹ پر جانے والے آئی جی بلوچستان پولیس احسن محبوب کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بحیثیت آئی جی اور دیگر عہدوں پر بلوچستان میں اپنی تعیناتی کے دوران بلوچستان کے عوام کو پیار و محبت اور عزت و احترام دیا اور وہ ایک اچھے نام کے ساتھ بلوچستان سے جا رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے آئی جی پولیس احسن محبوب کے اعزاز میں اپنی جانب سے دئیے گئے الوداعی ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر صوبائی وزراء واراکین اسمبلی، سینیٹر آغا شاہ زیب درانی، اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع، صوبائی سیکرٹریز اور دیگر سول و عسکری حکام بھی موجود تھے۔
وزیراعلیٰ نے آئی جی پولیس احسن محبوب کی صوبے کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صوبے میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نمایاں خدمات سرانجام دیں، جنہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بلوچستان کے عوام اور حکومت ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر افسران خود کو حاکم کے بجائے عوام کا خادم سمجھیں تو ناصرف بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں بلکہ عوام سے عزت و احترام بھی حاصل کر سکتے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ پولیس سمیت تمام اداروں سے سیاسی دباؤ کا خاتمہ کیا جائے تاکہ یہ ادارے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں ، آئی جی احسن محبوب کی سربراہی میں محکمہ پولیس کی کارکردگی میں بہتری کی اہم وجہ محکمہ سے سیاسی و ہر قسم کے دباؤ کا خاتمہ ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئی جی پولیس احسن محبوب نے کبھی بھی اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا اور صوبائی حکومت کے ساتھ مثالی تعاون کیا ، ان کے اور آئی جی پولیس کے درمیان ہمیشہ اعتماد کا رشتہ برقرار رہا، وزیراعلیٰ نے آئی جی احسن محبوب کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے ساتھ ان کا قائم ہونے والا رشتہ اور تعلق ہمیشہ برقرار رہے گا۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے آئی جی پولیس احسن محبوب نے کہا کہ انہوں نے چھ سال بلوچستان میں اپنی خدمات سرانجام دی اور اس دوران انہیں صوبے کے لوگوں سے بہت پیار اور محبت ملی جو انہیں ہمیشہ یاد رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے ان سے ہمیشہ بھائیوں جیسا سلوک کیا اور ان کی رہنمائی کی جبکہ صوبائی کابینہ اور اراکین اسمبلی نے بھی انہیں ہمیشہ عزت و احترام دیا، جس سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا جو کسی بھی پولیس آفیسر کے لیے بہت ضروری ہے۔
تقریب کے اختتام پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے آئی جی پولیس احسن محبوب کو بلوچی روایتی ٹوپی ،قالین ، یادگاری شیلڈ اور قلم کا تحفہ دیا۔بعدازاں وزیراعلیٰ کی جانب سے آئی جی پولیس احسن محبوب کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا گیا۔
بڑی جنگ کا سامنا ہے ،سر حد پار سے دہشتگرد آ کر صوبے میں دہشتگردی کرتے ہیں ، نواب ثناء اللہ خان زہری
![]()
وقتِ اشاعت : September 26 – 2017