|

وقتِ اشاعت :   September 26 – 2017

 اسلام آباد: ہائی کورٹ نے نااہلی کیس میں خواجہ آصف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری دلائل طلب کر لیے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق کی سربراہی مین 3 رکنی بینچ نے  خواجہ آصف کی نااہلی کے لیے دائر درخواست پر سماعت، اس موقع پر درخواست گزار کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ خواجہ آصف رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر ہونے کے ساتھ ساتھ دبئی میں ایک کمپنی کے ملازم ہیں اورانہوں نے ٹیکس ریٹرنز میں درست اثاثے ظاہر نہیں کیے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ خواجہ آصف جولائی 2011 سے دبئی میں ایک کمپنی کے ملازم ہیں، ایک وقت میں رکن قومی اسمبلی اور کسی کمپنی کا ملازم ہونا خلاف قانون ہے، خواجہ آصف کے کمپنی کے ساتھ کنٹریکٹ کی تازہ ترین تجدید مئی 2017 میں ہوئی اور کنٹریکٹ 2019 کا ویلڈ ہے جب کہ خواجہ آصف دبئی کی کمپنی سے 50 ہزار درہم تنخواہ لے رہے ہیں لہذا خواجہ آصف کو عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت نااہل کیا جائے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد خواجہ آصف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری دلائل طلب کر لیے۔

واضح رہے کہ خواجہ آصف کی نااہلی کے لیے تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے درخواست دائر کررکھی ہے۔