اسلام آباد: وزیر خزانہ اسحاق ڈار آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے ریفرنس میں پانچویں بار احتساب عدالت میں پیش ہوگئے۔
جرح کے دوران ملزم اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث اور نیب کے پراسیکیوٹر عمران شفیق کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جب کہ اسحاق ڈار کمرہ عدالت میں تسبیح پڑھتے رہے۔
اثاثہ جات ریفرنس میں آج ایک گواہ طارق جاوید پر جرح مکمل کی گئی جس نے اپنے بینک کی ای میلز کا ریکارڈز عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت 18 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر مزید دو گواہوں مسعود غنی اور عبدالرحمان گوندل کو طلب کرلیا۔
نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ گواہ نے تمام تفصیلات عدالت میں پیش کر دی ہیں اب ملزم کے وکیل گواہ پر جرح کرکے عدالت کا وقت ضائع نہ کریں۔ وکیل اسحاق ڈار نے عمران شفیق سے کہا کہ آپ بیٹھ جائے اور گواہ پر مجھے جرح کرنے دیں۔ اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ آپ کی تو خواہش ہے کہ ہم عدالت سے ہی چلے جائیں مگر ہم جائیں گے نہیں، گزشتہ سماعت میں بھی ہمیں کورٹ سے نکالنے کی کوشش کی گئی تھی۔ خواجہ حارث نے کہا کہ گواہ جھوٹ بول رہا ہے اور ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے دوسرا جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔
گواہ طارق جاوید نے ای میل کی کاپی وکیل صفائی اور عدالت کو فراہم کرتے ہوئے کہا کہ بینک ہیڈ آفس کے ساتھ تمام ای میلز کے تبادلے کا ریکارڈ پیش کر دیا ہے، اس کے علاوہ اور کوئی ای میل نہیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ ملزم کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ گواہ کو ای میل ہی نہیں ملے گی، لیکن گواہ نے تمام تفصیلات عدالت میں پیش کر دیں، انہوں نے ای میل مانگی وہ بھی لے آئے ہیں، اب ملزم کے وکیل عدالت کا وقت ضائع نہ کریں۔ خواجہ حارث نے نیب پراسیکیوٹر سے کہا کہ آپ بیٹھ جائے اور گواہ پر مجھے جرح کرنے دیں۔
قبل ازیں صبح نو بجے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزام میں نیب کی جانب سے دائر ریفرنس میں احتساب عدالت میں پیش ہوئے تاہم ان کے وکیل خواجہ حارث سپریم کورٹ میں دیگر مقدمات میں مصروف ہونے کی وجہ سے نیب کورٹ نہ پہنچ سکے جس کے باعث سماعت 12 بجے تک ملتوی کی گئی۔ جونیئر وکیل نے بتایا کہ خواجہ حارث سپریم کورٹ میں مصروف ہیں۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کہا کہ دن بارہ بجے کے بعد کیس کی سماعت کریں گے۔
جونیئر وکیل نے عدالت سے گزارش کی کہ اسحاق ڈار کو جانے کی اجازت دی جائے کیونکہ انہیں سرکاری امور بھی دیکھنے ہوتے ہیں۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ قانونی کارروائی ملزم کے سامنے ہونی چاہیے، عدالت میں حاضری ملزم کے لئے بھی بہتر ہوتی ہے، اسحاق ڈار کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر بحث خواجہ حارث کے آنے پر ہوگی۔
واضح رہے کہ آج ریفرنس کی سماعت میں احتساب عدالت میں استغاثہ کے دو گواہ نے بیانات ریکارڈ کرانا تھا جن میں نجی بینک کے افسران طارق جاوید اور مسعود غنی شامل ہیں تاہم صرف ایک ہی گواہ طارق جاوید پر جرح مکمل ہوسکی۔ طارق جاوید کو عدالت نے ای میل کے ریکارڈ سمیت طلب کیا تھا۔ اس سےقبل 4 اکتوبر کو استغاثہ کے پہلے گواہ اور 12 اکتوبر کو دوسرے گواہ کا بیان قلمبند کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ 27 ستمبر کو عدالت نے اسحاق ڈار پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام کی فرد جرم عائد کی تھی۔