|

وقتِ اشاعت :   October 25 – 2017

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنا ء اللہ خان زہری کی زیرصدارت منگل کے روزیہاں منعقدہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں بولان میڈیکل یونیورسٹی اینڈہیلتھ سائنسز کے قیام کے ڈرافٹ بل کی منظوری دے دی گئی ہے جسے حتمی منظوری کیلئے صوبائی اسمبلی میں پیش کیاجائے گا۔

کابینہ کے اجلاس میں ایک ہزاراہلکاروں پرمشتمل ایلیٹ فورس کے قیام کیلئے 478ملین روپے کے اجرأ کی منظوری بھی دے دی گئی ۔

آئی جی پولیس معظم جاہ انصاری نے ایلیٹ فورس کے حوالے سے کابینہ کوآگاہ کیا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت کی روشنی میں دہشت گردی اورعمومی جرائم پر قابوپانے کیلئے پولیس فورس کی استعدادکارمیں اضافہ اورفورس کو جدید سہولتوں سے آراستہ کیاجارہاہے اورایلیٹ فورس کا قیام بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں شامل پولیس اہلکاروں کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے خصوصی تربیت کی فراہمی کاآغازکردیاگیاہے اورپولیس ٹریننگ سکول سے اب تک 500سو سے زیادہ پولیس اہلکاراپنی تربیت مکمل کرچکے ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ سے فنڈز کی منظوری کے بعد ایلیٹ فورس کو جدید گاڑیاں اوراسلحہ کے علاوہ مزید تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔اجلاس میں محکمہ تعلیم کی جانب سے بلوچستان اسسمنٹ اینڈایگزامنینش کمیشن کے قیام کیلئے پیش کئے گئے ۔

ایجنڈے کی منظوری بھی دی گئی،اجلاس کو بتایا گیا کہ ایک خودمختار کمیشن کے قیام کا مقصد مڈل سطح کے امتحانات منعقدکرکے مقابلے کا رجحان پیداکرنا ہے جس سے معیار تعلیم میں بہتری آئے گی اورسکولوں کی سطح تک تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ ہوسکے گا سرکاری اورنجی شعبے کے سکولوں میں مڈل کے امتحانات کمیشن کے زیراہتمام منعقد ہونگے۔

،اجلاس میں اس بات سے اتفاق کیاگیا کہ صوبے میں امن وامان اورانتظامی امور کی بہترانجام دہی کی خاطر رقبے اورآبادی کی بنیاد پر ڈویژنوں اورضلعوں کی ازسرنوحدودبندی کے ذریعے امن وامان اورانتظامی امور کی انجام دہی میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔

اس حوالے سے محکمہ ریوینیو کو سفارشات تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ۔اجلاس میں طے پایا کہ دستیاب وسائل کوسامنے رکھتے ہوئے مزید اضلاع کے قیام کافیصلہ کیاجائے گا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں دفتری کاروائی میں اُردوزبان کے استعمال کو فروغ دیاجائے ۔

انہوں نے محکمہ پی اینڈڈی کو ترقیاتی منصوبوں کے پی سی ون کی جلدازجلدمنظوری اوراتھارائزیشن کے عمل کو تیز کرنے جبکہ محکمہ خزانہ کو پی اینڈڈی سے منظورشدہ منصوبوں کیلئے فنڈز کے فوری اجرأ کی ہدایت کی۔

بعدازاں کابینہ کو سوئی سدرن گیس کمپنی کے پروجیکٹ ڈائریکٹرعاصم ترمزی کی جانب سے صوبے کے ضلعی ہیڈکوارٹروں اوربعض دیگرمقامات پر ایل پی جی پلانٹ کی تنصیب کے منصوبے کی پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی ۔

انہوں نے آگاہ کیا کہ صوبے کے 29مقامات پر ایل پی جی پلانٹ نصب کئے جائیں گے جن میں سے 10مقامات پر ایل پی جی پلانٹس کی تنصیب کے ٹینڈرکردیئے گئے ہیں جبکہ دیگر مقامات پر ایل پی جی پلانٹ کی تنصیب کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ زمین کے حصول کے حوالے سے رابطہ جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ای سی سی نے ایل پی جی پلانٹس کی تنصیب کی منظوری دی ہے جس کا تخمینہ تقریباً 15ارب روپے ہے ۔اس وقت کل 29پروجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ چھ ماہ کے اندر ٹینڈرکئے جانے والے مقامات پر گیس پلانٹ کی تنصیب کے منصوبے مکمل کرلئے جائیں گے۔

انہوں نے اس حوالے سے کابینہ کو بعض مسائل ومشکلات سے بھی آگاہ کیا،جن میں اراضی کا حصول بھی شامل ہے جس کو وزیراعلیٰ نے فوری طوپر حل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں ۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی سفارش پر سابق وزیراعظم محمدنوازشریف نے بلوچستان کے ضلعی ہیڈکوارٹروں میں ایل پی جی پلانٹ کے منصوبوں کی منظوری دی تھی جس کی توثیق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے کردی ہے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ انہوں نے صوبائی وزیرداخلہ میرسرفرازبگٹی کو منصوبے کی تکمیل کیلئے فوکل پرسن مقررکیاہے صوبائی حکومت منصوبے کی تکمیل کیلئے بھرپورتعاون کرے گی اورتوقع ہے کہ ایس ایس جی سی منصوبوں کو مقرر مدت کے اندر مکمل کرلے گی جس سے صوبے کے دوردرازکے علاقوں کے عوام کو گیس کی فراہمی کاآغازہوگا۔

بعدازاں کیسکوحکام کی جانب سے کابینہ کو صوبے کے دوردرازعلاقوں میں بجلی کی فراہمی کے منصوبوں کی پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دی گئی ،کابینہ نے منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر پر تشویش کااظہارکرتے ہوئے کیسکو کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو دورکرتے ہوئے انہیں فوری طورپر مکمل کیاجائے۔