کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ کوئٹہ ہم سب کا گھر ہے اسکی تعمیر وترقی، خوبصورتی اور بہتری کے لئے ہم سب کواپنا کردار ادا کرناہوگا، ماضی میں ترقی کے سفر میں سریاب کونظراندازکیاگیا جس کی وجہ سے آج سریاب کھنڈرات کا منظر پیش کررہا ہے۔
سریاب سمیت کوئٹہ کے تمام حصوں کو کوئٹہ ترقیاتی پیکج کے تحت ترقی کے اس عمل میں شامل کر کے تمام ترقیاتی اسکیموں کی جلد تکمیل کو یقینی بنایا جائے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ ترقیاتی پیکج کی پیش رفت سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
چیف سیکرٹری بلوچستان اورنگزیب حق، ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبندی و ترقیات قمرمسعود، پروجیکٹ ڈائریکٹر علی احمد مینگل، کمشنر کوئٹہ اور دیگر متعلقہ حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔
اجلاس کو کوئٹہ پیکج سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیاکہ سریاب روڈاور گوالمنڈی چوک کی کشادگی کے لئے اراضی کے حصول اور شہر کے مختلف حصوں میں انڈر پاس اور فلائی اوورکی تعمیر کے لئے سروے جاری ہے جس کو جلد مکمل کر کے کام شروع کیا جائیگا۔
وزیر اعلیٰ نے کوئٹہ ترقیاتی پیکج کی پیشرفت میں سست روی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہا کہ تمام امور کو جلد سے جلدمکمل کر کے سڑکوں کی چوڑائی اور کشادگی اور شہر کی خوبصورتی کے منصبوں پر کام کاآغازکیاجائے اورانہیں جلد ازجلد مکمل کیاجائے ۔
انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ ہم اپنے دور حکومت میں عوام کے لئے کچھ ایسا کر کے جائیں کہ لوگ ہمیں اچھے الفاظ میں یاد رکھیں۔ وزیر اعلیٰ نے سریاب کی خستہ حالی پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سریاب کو ماضی میں ہمیشہ نظرانداز رکھا گیاجس کی وجہ سے آج اہل سریاب زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے اورمایوسی کاشکار ہورہے ہیں۔
میں تبدیل ہوگیا ہے، گلیاں تنگ اورسڑک ٹوٹ پوٹ کاشکار ہے جس کی وجہ سے لوگ حکومت سے مایوس ہورہے ہیں جس سے ملک دشمن عناصر فائدہ اٹھاسکتے ہیں ،انہوں نے ہدایت کی سریاب روڈکی چوڑائی ، بچوں اور خواتین کے لئے پارک اور شہر میں جاری دیگر ترقیاتی اسکیموں پر کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے اور اس حوالے سے کوئی کوتاہی اور تساہل برداشت نہیں کی جائیگی۔
دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنا ء اللہ خان زہری نے کہاہے کہ قائداعظم یونیورسٹی میں زیرتعلیم بلوچستان کے طلباء کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی اورامتیازی سلوک نہیں ہونے دیاجائے گا تاہم طلباء اپنی تمام تر توجہ حصول علم پرمرکوز رکھیں اورسیاست سے دوررہیں اُن کا اولین مقصد صرف اورصرف حصول تعلیم ہوناچاہیے،طلباء کے والدین اوربلوچستان کو طلباء سے بہت سے امیدیں وابستہ ہیں اگر وہ اس طرح کے مسائل میں الجھے رہیں گے تو نہ صرف انہیں بلکہ بلوچستان کو بھی اس کا نقصان پہنچے گا۔
ان خیالات کااظہاروزیراعلیٰ نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں زیرتعلیم بلوچستان طلباء کے ایک نمائندہ وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،سینیٹر سرداریعقوب خان ناصر،صوبائی وزرأ عبدالرحیم زیارتوال،میرسرفرازبگٹی اورچیف سیکرٹری بلوچستان اورنگ زیب حق بھی اس موقع پر موجودتھے۔
وزیراعلیٰ نے طلباء اوریونیورسٹی انتظامیہ کے مابین پیداہونے والے تنازعہ اورمسائل کے حوالے سے آگاہی حاصل کی،انہوں نے اس موقع پر ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جوچیف سیکرٹری کے ہمراہ قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے ملاقات کرے گی اوراس مسئلے کے حل کیلئے اپناکرداراداکرے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ بلوچستان کے طلباء کا مستقبل خراب نہیں ہونے دیاجائے گا،اوریونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس تنازعہ کو افہام وتفیم سے حل کرلیاجائے گا،وزیراعلیٰ نے توقع ظاہر کی کہ بلوچستان کے طلباء اپنے والدین اورصوبے کی امیدوں پر پورااتریں گے اوراعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اپنے آپ کو صوبے اورملک کی خدمت کیلئے تیار کریں گے۔
طلباء کے وفد نے توجہ اورہمدردی سے ان کو موقف سننے اورمسئلے کے حل کیلئے وزیراعلیٰ کی دلچسپی اورپارلیمانی کمیٹی کے قیام پر اظہارتشکر کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ تعلیم کے حصول پربھرپورتوجہ دیں گے اوروزیراعلیٰ کی تلقین پرعملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔