امریکی شہر نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں ایک شخص نے پیدل چلنے والوں پر گاڑی چڑھا دی جس سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوئے ہیں۔
گاڑی سے ایک 26 سالہ شخص نقلی بندوق لہراتا ہوا باہر نکلا، جسے پولیس نے فائر کر کے زخمی کیا اور پھر گرفتار کر لیا۔
امریکی میڈیا نے اس شخص کا نام سیفلو سائپوف بتایا ہے جو 2010 میں امریکہ آیا تھا۔
نیویارک کے میئر بل ڈی بلازیو نے کہا ہے کہ ’یہ دہشت گردی کا بزدلانہ واقعہ تھا جس میں بےگناہ شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔‘
انھوں نے کہا: ’ہم جانتے ہیں کہ اس فعل کا مقصد ہماری ہمت توڑنا ہے۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ نیویارک کے باسی مضبوط اور پرعزم ہیں، اور ہماری ہمت کو کبھی بھی تشدد سے اور ڈرانے سے توڑا نہیں جا سکتا۔‘
ایک عینی شاہد نے امریکی چینل اے بی سی نیوز کو بتایا کہ اس نے ایک سفید پک اپ گاڑی دیکھی جو ویسٹ سائیڈ ہائی وے پر سائیکل چلانے والی لین پر تیزی سے لوگوں کو روندتی ہوئی جا رہی تھی۔
انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ انھوں نے نو یا دس فائروں کی آوازیں سنیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس واقعے کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے، جنھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا: ’نیویارک میں حملہ ایک اور بیمار اور پاگل شخص کا کام لگتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے پیروی کر رہے ہیں۔‘
ایک اور عینی شاہد ’فرینک‘ نے مقامی ٹیلی ویژن چینل این وائی ون کو بتایا کہ انھوں نے ایک شخص کو چوک کے گرد دوڑتے دیکھا اور پھر پانچ یا چھ گولیوں کی آواز آئی۔
’میں نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں کوئی چیز ہے لیکن میں دیکھ نہیں سکا کہ وہ کیا چیز تھی۔ لوگوں نے کہا کہ وہ پستول تھا۔
‘جب پولیس نے اس پر گولی چلائی تو سب لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا اور افراتفری مچ گئی۔ جب میں نے اس کی طرف دیکھنے کی کوشش کی تو وہ نیچے گر چکا تھا۔‘