|

وقتِ اشاعت :   November 2 – 2017

کوئٹہ: ماہرین تعلیم نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ابھی بھی سکول نہ جانے والے 6سے 16سال کی عمر کے بچوں کی شرح 35%فیصد ہے باوجود اسکے کہ وفاقی او ر صوبائی حکومتوں نے بچوں کے سکول میں اندارج کو مرکزی اہمیت دی تھی باقی کے 6سے 16سال کی عمر کے 65%فیصد بچے جو سکولوں میں پڑھ بھی رہے تھے وہ بھی کچھ زیادہ سیکھ نہیں رہے ۔

یہ بات ایڈیشنل سیکرٹری ایجوکیشن محمد فاروق ، سابق وفاقی وزیر تعلیم زبیدہ جلال،ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر ناصر محمود،بیلہ رضا جمیل نے بوائے سکاوٹس ہیڈ کوارٹر میں سروے 2016کی ساتویں سالانہ رپورٹ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ 

ادارہ کی سربراہ بیلہ رضا جمیل نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سروے 2016کا انعقاد2000رضا کاروں کے ذریعے کیا گیا جس کاانتظام ادارہ تعلیم و آگہی نے ملک بھر کی اہم سول سوسائٹی/نیم خود مختار اداروں کے تعاون سے کیا۔

2000شہری رضا کاروں نے سروے کے نتائج60,754بچوں کے بارے میں تفصیلی معلومات اکٹھی کر کے، مرتب کیے ہیں ۔ انہوں نے957دیہاتوں میں18,920گھرانوں کا ذاتی طور پر سروے کیا ۔

سروے بلوچستان کے32دیہی اضلاع میں کیا گیا جہاں 5سے 16سال کی عمر کے 50,754بچوں کی زبان(اردو),انگریزی اور ریاضی میں مہارت کے حوالے سے جائزہ لیا گیااس رپورٹ کا مقصدآئین کی شق25/Aجو کہ تعلیم کو 5سے 16سال کے بچوں کا بنیادی حق قرار دیتی ہے کے حوالے سے 2010سے اب تک ہونے والی کسی بھی پیش رفت یا اس کی کمی کو سامنے لانا ہے۔ اب تک اس شق کا کہیں عملی نفاذ نہیں ہوا کیونکہ اس سے متعلق قوانین اور قوائد ابھی تک کہیں خلا میں ہی ہیں ۔ 

عوامی مطالبے کے باوجود تعلیم کو بنیادی ضرورت سمجھنے کے حوالے سے ریاست کا ردعمل بہتر سے بہتر الفاظ میں لا پرواہی کہا جا سکتا ہے۔ تقریب سے مہمان خصوصی ایدیشنل سیکرٹری ایجوکیشن محمد فاروق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے اراکین جنہوں نے یہ رپورٹ جاری کی،ان کو ایک تعلیم یافتہ پاکستان کے لئے ایک بھر پوکردار ادا کرنا ہوگا ۔

موجودہ سیاسی نظام کے تحت تعلیمی حقائق میں زبردست تبدیلی آنی چاہیے سکول نہ جانے والے بچوں کا تناسب2015کی نسبتََا ز یادہ رہا۔2016میں سکول نہ جانے والے بچے 35% جبکہ2015میںیہ شرح 28% تھی کبھی سکول نہ جانے والے بچوں کی شرح24%اور مختلف وجوہات کی بنیاد پر سکول چھوڑ جانے والے بچوں کی شرح 11%تھی حکومت پاکستان اور تمام صوبائی حکومتوں نے SDG-4کے اہداف اور مقاصد کی توثیق کر دی ہے ۔

اور اپنے سیکٹر پلان کو ان کے مطابق ڈھالنے میں مصروف ہیں ۔ لیکن ابھی تک SDG-4(اسکول کی 12سالہ تعلیم ) اور آرٹیکل 25-A(5سے 16سال کے بچوں کا تعلیمی حق) کے وعدے کو پورا کرنے کیلئے کوئی واضح حکمت عملی نہیں بنی ۔