|

وقتِ اشاعت :   November 22 – 2017

کوئٹہ: سابق سینیٹر مہم خان بلوچ نے نیشنل پارٹی سے علیحدگی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل پارٹی اپنے مقصد کی جدوجہد سے ہٹ گئی ہے۔

گزشتہ روز کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مہم خان بلوچ کاکہناتھاکہ انہیں پنجگور میں میر حاصل بزنجو اور ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کی تقاریر سے مایوسی ہوئی ۔اس وقت نیشنل پارٹی قومی جدوجہد سے نہ صرف دور ہٹ گئی ہے بلکہ وہ اس کی رہ میں رکاوٹ بھی بن رہی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ نیشنل پارٹی ریاستی پالیسیوں کا حصہ بن کر ان کی کمان میں چلی گئی ہے ۔مری معاہدے کے بعد ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کو مشورہ دیاتھاکہ وہ موجودہ حالات میں حکومت کا حصہ نہ بنیں لیکن میرے اس مشورے کو تسلیم نہیں کیا گیا اس لئے میں ساڑھے 4سالوں کے دوران میں حکومتی سرگرمیوں سے مکمل طور پر دور رہا ۔

انہوں نے کہاکہ میں قومی جدوجہد سے گزشتہ 50سال سے نہ صرف وابستہ ہوں بلکہ مستقبل میں بھی اس کا حصہ رہوں گا ۔انہوں نے کہاکہ جمہوری اور پارلیمانی سیاست پر یقین رکھتاہوں لیکن اس سے کچھ حاصل نہیں ہورہا ۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان کامسئلہ سیاسی ہے اس کا حل طاقت کی بجائے سیاسی طریقے سے ہی نکالاجائے ۔18ویں ترمیم کے بعد بھی 99فیصد وسائل پر وفاق کی دسترس ہے جبکہ پنجاب کو اپنے وسائل پر مکمل اختیار حاصل ہے۔

اٹھارہویں ترمیم ترمیم کے بعد سیندک کا معاہدہ بلوچستان حکومت کی بجائے وفاق نے کیا ان کاکہناتھاکہ بلوچستان کے بجٹ سے 156ارب روپے دفاعی اخراجات کے نام پر کاٹے گئے حالانکہ انہیں تعلیم اور صحت سمیت دیگر شعبوں میں خرچ کیاجاناچاہئے تھا انہوں نے کہاکہ گزشتہ ساڑھے چار سالوں کے دوران صوبے میں ترقی کم جبکہ آپریشن زیادہ ہوئے ہیں ۔