|

وقتِ اشاعت :   December 17 – 2017

کوئٹہ: کوئٹہ کے زرغون روڈ چرچ پر خود کش حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں 4خواتین سمیت 9افراد جاں بحق اور 56زخمی ہوگئے زخمیوں میں 4کی حالت تشویشناک ہے ایک شدیدزخمی کوسی ایم ایچ جبکہ دیگر کر سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں رکھاگیاہے دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ چرچ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور فرنیچر وشیشے ٹوٹ گئے ۔

سی سی ٹی وی فوٹیج اور عینی شاہدین کے مطابق دو خود کش حملہ آور 11بجکر55 منٹ پر چرچ کے مین گیٹ پر پہنچے ایک دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوا اور گیٹ کھالا جس پر دوسرا بھی چرچ کے احاطے میں داخل ہوگیا اور فائرنگ کی اس دوران ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑادیا دوسرے کو سیکورٹی فورسز نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ۔

آئی جی پولیس کے مطابق حملے کے وقت چرچ میں 400افراد دعائیہ تقریب میں موجود تھے، اگر دہشت گرد عمارت کے اندر داخل ہوجاتے تو بڑا جانی نقصان ہوسکتا تھاڈی آئی جی کوئٹہ کے مطابق فائرنگ تبادلے میں دو حملہ آور فرار ہوگئے جن کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع کردیاگیاہے ۔

وزیر داخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے مطابق ایک دہشت گرد نے خود کومرکزی دروازے پر اڑادیا دوسرے کو چرچ کے احاطے میں فورسز نے ہلاک کردیا پولیس ذرائع کے مطابق اتوار کو دو خود کش حملہ آور زرغون روڈ پرواقع میتھوڈسٹ چرچ کے احاطے میں داخل ہوگئے اور فائرنگ شروع کردی ۔

چرچ کی ڈیوٹی پر مامور ایف سی اور پولیس نے بھی فائرنگ کی فائرنگ کا یہ سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا اس دوران ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑادیا جبکہ دوسرے کو فورسز نے ہلاک کردیافائرنگ اور خود کش دھماکے میں 4خواتین سمیت 9افراد جاں بحق اور 56زخمی ہوگئے اس دوران ایف سی اور پولیس کی مزید نفری بھی طلب کرلی گئی جس نے علاقے کا محاصرہ کرلیا ۔

جاں بحق اور زخمیوں میں مہلک ولد سہیل یوسف ،آکاش ولد نسیم ، فضل مسیح ولد مالک مسیح ،جارج مسیح، سلطان مسیح ولد سراج مسیح ، سونا نوف زوجہ نوف حمید ،مدیحہ برکت ولد برکت علی شامل ہیں جبکہ انعم یونس ، کاشف ، روتھ ، سبیتا خرم ،منائل شہزاد،نینا قیصر،اسحاق، شان ، یاسر نودی ، سلمیٰ عدل ،آسٹر مسیح ،اوما،آسرف ، امانت،وصیت،ہارونہ ،ریتا،سنیل ،عائشہ شاہونہ ،ندیب،آشر مسیح ،وفذہ ،مہرین ، صائمہ ، پرنس ، مناہل ،نیکل ،انم یونس،کاشف ، سبیتہ سمیت56افرادکوفرنٹیر کور ،پولیس اورایف سی نے ایمبولینسوں کے زریعے زخمیوں اور نعشوں کو فوری طور پر سول ہسپتال کوئٹہ پہنچادیا ۔

جہاں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف نے ٹراما سینٹر اور ایمرجنسی وارڈ میں خود کش دھماکے اور فائرنگ میں زخمی ہونے والوں کو طبی امداد فراہم کی سیکرٹری صحت جاوید انور شاہوانی اور ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر شاہجہان پانیزئی زخمیوں کو علاج معالجے کی فراہم کی جانے والی سہولیات کی فراہمی کی خود نگرانی کرتے رہے ۔

چرچ پر حملے کے بعد صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ کی خصوصی ہدایت پر سول ہسپتال کوئٹہ اور بولان میڈیکل ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرکے ڈاکٹروں ،پیرامیڈیکل سٹاف اوردیگرعملے کو ڈیوٹیوں پر طلب کرلیا گیا تھا اور دونوں ہسپتالوں میں وافر مقدار میں ادویات فراہم کردی گئی تھیں ۔

پولیس نے بتایا کہ جس وقت دہشت گردوں نے چرچ پر حملہ کیا اس وقت چرچ میں 400سے زائد افراد اپنی خصوصی عبادت میں مصروف تھے اگر خدانخواستہ دہشت گرد چرچ کے اندر داخل ہوجاتے تو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خدشہ تھا دھماکے سے چرچ اوراردگرد کی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ہر طرف چیخ و پکار کی آؤازیں سنائی دے رہی تھیں۔ 

پولیس نے بتایا کہ چرچ پر پولیس اورایف سی کے جوان معمول کے مطابق اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے اگر پولیس اورایف سی کے اہلکار موجود نہ ہوتے تو بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوسکتا تھا۔

چرچ پر خود کش حملے اور فائرنگ کے واقعہ کے بعد چند ہی منٹ میں پولیس ،انٹی ٹیراررسٹ فورس ،فرنٹیر کوربلوچستان کی بھاری نفری موقع پرپہنچ گئی اورپورے علاقے کو گھیرے میں لیکرہر قسم کی آمدورفت کیلئے بند کردیا گیا اورچرچ میں موجود خواتین ،بچوں اوردیگرافراد کو ریسکیو کرکے انکے گھروں تک پہنچادیا گیا۔

صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایاکہ چرچ پر حملہ کرنے والے خود کش حملہ آوروں میں سے ایک نے خود کو مرکزی دروازے پر خودکو اڑادیا جبکہ دوسرادہشت گرد چرچ کے احاطے میں سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے مارا گیا۔

صوبائی وزیرداخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ چرچ پر حملہ کرنے والے 2خود کش حملہ آوروں میں سے ایک نے خود کو دھماکے سے اڑادیا جبکہ دوسرا حملہ آور پولیس اور ایف سی کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ماراگیا ۔

انہوں نے بتایا کہ ایک دہشتگرد مرکزی دروازے پر اور دوسرا دہشتگرد چرچ کے احاطے میں مارا گیا۔انہوں نے کہا کہ واقعہ کے بعد پولیس ،ایف سی اوردیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں نے چرچ کو گھیرے میں لے لیا اورعلاقے کو کلیئر کردیا ۔

انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان معظم جاہ انصاری اور ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ میں چرچ پر 4دہشت گردوں نے حملہ کیا اسوقت چرچ میں 400سے زائد افراد موجود تھے۔

دہشت گردوں کے حملے کے بعد جائے وقوعہ کے معائنے پر انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری نے بتایا کہ زرغون روڈ پر واقع چرچ پر 4دہشت گردوں نے حملہ کیا جس میں سے ایک حملہ آور نے خود کو مرکزی دروازے پر اڑادیا جبکہ دوسرا حملہ آور پولیس اور سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے مارا گیا جبکہ دہشت گردوں کے دیگر 2ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ چرچ کی عمارت کو کلیئر کردیا گیا ہے جبکہ چرچ کے اطراف کے علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں آئی جی پولیس نے بتایا کہ جس وقت چرچ پر حملہ ہوا اسوقت چرچ میں 400سے زائد افراد موجود تھے اگر دہشت گرد عمارت میں دخل ہوجاتے تو بہت زیادہہ جانی نقصان ہوتا۔ 

ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے چرچ پر حملے میں 2دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ انکے دو ساتھی فرار ہوگئے مفرور دہشت گردوں کی تلاش کیلئے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے جس میں پولیس ،اے ٹی ایف اور فرنٹیر کور بلوچستان کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ چرچ میں موجود خواتین ،بچوں اوردیگر لوگوں کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔