|

وقتِ اشاعت :   December 21 – 2017

کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں حکومتی حمایتی قبائلی رہنماء کے قریبی رشتہ دار کے گھر پر دہشتگردوں نے حملہ کردیا۔ فائرنگ اور بارودی سرنگ دھماکے میں سات افراد جاں بحق اور قبائلی رہنماء سمیت تین افرادزخمی ہوگئے۔ 

جاں بحق ہونیوالوں میں شوہر، دوبیویاں اور پانچ سال سے کم عمر تین بیٹیاں شامل ہیں۔ لیویز کے مطابق واقعہ جمعرات کی علی صبح ساڑھے پانچ بجے ڈیرہ بگٹی سے تقریباً55کلومیٹر دور جنوب مغرب میں ٹوبہ نوہکانی میں پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے سابق فراری کمانڈر وڈیرہ محمد اسماعیل عرف پہاڑی کے برادر نسبتی جوجر بگٹی کے گھر پر اچانک حملہ کردیا۔ 

مسلح افراد نے گھر میں گھس کر کلاشنکوف اور دیگر ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کی اور جوجر بگٹی ، اس کی دو بیویوں اور تین کم عمر بیٹیوں کو قتل کردیا۔فائرنگ کے نتیجے میں جوجر بگٹی کا پانچ سالہ بیٹا محمد ریاض زخمی بھی ہوا ۔فائرنگ کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

فائرنگ کی اطلاع ملنے پر وڈیرہ محمد اسماعیل پہاڑی اپنے بھائی اور محافظ کے ہمراہ گاڑی میں جائے وقوعہ کی طرف جارہا تھا۔ راستے میں گھر کے قریب نامعلوم افراد کی جانب سے زیر زمین بچھائی گئی بارودی سرنگ پر ان کی گاڑی چڑھ گئی جس سے زوردار دھماکا ہوا۔

دھماکے کے نتیجے میں محمد اسماعیل پہاڑی، ان کا بھائی حسن بگٹی اور محافظ خاوند بخش عرف انگریز زخمی ہوگئے۔ فائرنگ اور دھماکے میں جاں بحق ہونیوالے افراد کی لاشیں اور زخمیوں کو ایف سی 55ونگ کے قلعہ لایا گیا جہاں سے انہیں سوئی پی پی ایل فیلڈ ہسپتال منتقل کردیاگیا۔ ہسپتال میں زخمی خاوند بخش عرف انگریز دم توڑ گیا۔ 

اس طرح دونوں واقعات میں مرنے والوں کی تعداد سات ہوگئی۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد مزید علاج کیلئے ڈیرہ بگٹی سے متصل پنجاب کے قریبی ہسپتال منتقل کردیاگیا۔مرنے والے باقی افراد کی شناخت جوجر بگٹی کی اہلیہ مسماۃ سونی بی بی، دوسری اہلیہ مسماۃ موری بی بی ، ایک سالہ بیٹی ہوری بی بی ، تین سالہ بیٹی درزی بی بی اور چار سالہ بیٹی ورسی بی بی کے ناموں سے ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ وڈیرہ محمد اسماعیل عرف پہاڑی بگٹی قبیلے کی ذیلی شاخ پیشبر کے سربراہ ہیں اور وہ کچھ عرصہ قبل علیحدگی پسند تنظیم بلوچ ری پبلکن آرمی سے تعلق ختم کرکے قومی دھارے میں شامل ہوئے تھے۔ ان پر حملے میں کالعدم تنظیم کے فراریوں کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

دریں اثناء بلوچستان کے ضلع کیچ میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں دو مبینہ دہشتگرد مارے گئے، اسلحہ بھی برآمد کرلیاگیا۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق کیچ کے علاقے تمپ میں ایف سی63ونگ کے اہلکاروں نے کالعدم تنظیم کے ارکان کی موجودگی کی اطلاع پر سرچ آپریشن کیا۔ اس دوران مسلح ملزمان نے سیکورٹی فورسز کی ملانٹ چیک پوسٹ پر فائرنگ کی جس پر سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ملزمان کو گھیرے میں لے لیا۔ 

فائرنگ کے تبادلے میں دو ملزمان مارے گئے جن کی شناخت امام بخش ولد رحیم بخش اور وارث ولد حاصل کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں گومازی تمپ کے رہائشی تھے۔ ملزمان سے ایک کلاشنکوف بمعہ چار میگزین،20کارتوس،ایک دوربین ، ایک موٹرسائیکل برآمد کرلی۔ 

موقع سے درجنوں خالی خول بھی ملے،ڈیرہ بگٹی میں حساس ادارے نے کارروائی کرکے بارودی مواد برآمد کرلیا۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق حساس ادارے نے ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیرکوہ میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کی اور پانچ کلو گرام اعلیٰ معیار کا بارودی مواد اور بم بنانے کے معاون آلات ریموٹ کنٹرول، انٹینا، ڈیوائس ، ڈیٹونیٹر اور پرائما کارڈ برآمد کرلئے۔ یہ اسلحہ جھاڑیوں میں چھپایا گیا تھا۔