کراچی : سینئر صحافی اور زرنامہ بلوچستان ایکسپریس اور روزنامہ آزاذی کوئٹہ کے ایڈیٹر صدیق بلوچ منگل کی صبح کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 78 سال تھی۔ انہوں نے شعبہ صحافت میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔
انکی نماز جنازہ منگل کو بعد نماز عصر ان کی رہئش گاہ کے قریب عیدگاہ مسجد میں ادا کی گئی جس میں سیاست صحافت اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں اور احباب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ان میں یوسف مستی خان سی پی این ای کے انور ساجدی ڈاکٹر جبار خٹک وفار یوسف عظیمی غلام نبی چانڈیو کراچی پریس کلب کے صدر احمد خان ملک سیکریٹری مقصود یوسفی پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل ایوب جان سرہندی اور صحافی برادری شامل تھی۔
انہیں میوہ شاہ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ انہوں نے سنذھ مدرستہ الاسلام سے میٹرک کراچی یونیورسٹی سے اکنامکس میں ماسٹرز کیا ان کے کلاس فیلوز میں جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن پی ایف یو جے کے سابق صدر عبدالحمید چھاپرا شامل ہیں۔وہ اس ایم کالج کی اسٹوڈنٹس یونین کے صدرہی رہے۔صدیق بلوچ مختلف حیثیتوں میں روزنامہ ڈان سے 28 برس تک وابستہ رہے۔
پھر انہوں نے کراچی سے انگریزی روزنامہ سندھ ایکسپریس کا آغاز کیا اس کے بعد وہ کوئٹہ چلے گئے اور وہاں سے بلوچستان ایکسپریس کا اجرا کیا۔ انہوں نے کوئٹہ سے اردو روزنامہ آزاذی کا بھی اجرا کیا۔ صدیق بلوچ طلبہ سیاست میں بھی سرگرم رہے۔ وہ صحافیوں کے معاشی حقوق اور آزادی صحافت کے لیے جدوجہد میں متحرک رہے اور انہوں نے اینٹی ون یونٹ موومنٹ اور تین سالہ ڈگری کورس کے خلاف تحریک میں حصہ لیا۔
ان کا شمار بی ایس او کے بانی ارکان میں ہوتا ہے۔ وہ کراچی یونین آف جرنلسٹس اور کراچی پریس کلب کے عہدے دار بھی رہے۔ وہ سی پی این ای کے بھی عہدے دار تھے۔
ملکی سیاسی امور خصوصا بلوچستان کے سیاست معیشت اور سماجی معاملات میں انہیں خصوصی دسترس حاصل تھی۔ پرویز مشرف کے ذور میں جب نومبر 2007 میں پیمرا آرڈیننس میں ترمیم کی گئی تو انہوں نے اس کے خلاف انتہائی سخت موقف اختیار کیا اور اسے آزادی اظہار اور سچ کی آواز کو کچلنے کی کوشش قرار دیا تھا۔
صدیق بلوچ نے 1972۔73 میں اس وقت کے گورنر غوث بخش برنجو کے پریس سیکریٹری کے طور پر چار ماہ تک کام کیا جب ذوالفقار علی بھٹو نے بزنجو حکومت حیدرآباد سازش کے الزام میں برطرف کر دی تھی اور صدیق بلوچ کو پانچ سال قید ہوئی تھی تاہم بھٹو حکومت کے جنرل ضیاء کے ہاتھوں ختم ہونے کے بعد انہیں رہائی ملی تھی۔ انہوں نے بلوچستان کی سیاست اور معیشت پر ایک کتاب بھی تحریر کی۔
انہوں نے ملکی سیاست معیشت اور بلوچستان کے حوالے سے سیکڑوں کالم لکھے۔ بلوچستان کے امور پر بین الاقوامی میڈیا میں سب سے زیادہ جانے جاتے تھے۔ کراچی پریس کلب کے عہدے داروں اور اراکین گورنگ باڈی نے صدیق بلوچ کے انتقال پر دلی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موت صحافی برادری کے لیے بڑا سانحہ ہے شعبہ صحافت میں ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔