کوئٹہ: کوئٹہ پریس کلب‘ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس‘ ادبا‘ دانشوروں‘ ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ بلوچستان‘ سول سوسائٹی کے رہنماؤں اور مختلف شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے پاکستان کے سینئر صحافی صدیق بلوچ کی صحافتی خدمات پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے نام سے منسوب صحافتی اکیڈمی قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔
جمعہ کے روز کوئٹہ پریس کلب کے زیر اہتمام صدیق بلوچ کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر کوئٹہ پریس کلب رضاالرحمان‘ صدر بلوچستان یونین آف جرنلسٹس خلیل احمد ‘فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی سینئر نائب صدر سلیم شاہد‘ سینئر صحافی شہزادہ ذوالفقاراحمدزئی‘ حاجی خلیل احمد ‘عرفان سعید‘ عبدالخالق رند‘آصف بلوچ‘ ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز شہزادہ فرحت جان احمدزئی‘ممتاز دانشور راحت ملک، نور خان محمد حسنی‘وحید زہیر اور دیگر چیدہ دانشوروں صحافیوں‘ ایڈیٹرز اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کہا کہ صدیق بلوچ نے پوری زندگی ہر طرح کی مصلحتوں سے مبرا ہو کر گھٹن اور سخت ترین نا مساعد حالات میں بلوچستان اور مفاد عامہ سے متعلق اجتماعی مسائل کو ہمیشہ قومی میڈیا میں موثر طور پر اجاگر کیا ۔
لالہ صدیق بلوچ ایک صحافی ہی نہیں بلکہ ایک صحافتی اکیڈمی تھے جن کے زیر تربیت ہزاروں صحافی پورے ملک میں اس وقت صحافتی میدان میں میعاری اور ذمہ دارانہ صحافتی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ صدیق بلوچ نے فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور کراچی پریس کلب سمیت متعدد صحافتی تنظیموں کے پیلٹ فارم سے ورکر جرنلسٹس کے لئے موثر و غیر معمولی جدوجہد کی مقررین نے کہا کہ صدیق بلوچ ایک پرعزم بے باق سچے اور کمنٹڈد جرنلسٹ تھے جنہوں نے ہر فورم پر اپنی رائے کا اظہار برملا طور دو ٹوک الفاظ میں کیا ۔
مقررین نے کہا کہ صدیق بلوچ صف اول کے اعلیٰ پائے کے صحافی ہوتے ہوئے ورکنگ جرنلسٹس کے حقوق کی جدوجہد میں فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ایڈیٹر تھے صدیق بلوچ کے فرزند آصف بلوچ نے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدیق بلوچ ایک نڈر بے باق اور پروقار صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شفیق والد تھے ۔
جنہوں نے اپنی اولاد سمیت شعبہ صحافت کے ہر طالب علم کو اپنی اولاد سمجھا انہوں نے ہمیشہ سچائی کا درس دیاوالد کے علاوہ وہ ہمارے اچھے دوست بھی تھے۔
جنہوں نے زندگی کے ہر قدم پر ہماری رہنمائی کی صدر کوئٹہ پریس کلب رضا الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ کوئٹہ پریس کلب کی خواہش تھی کہ صدیق بلوچ سے نشست رکھ ان کو ان کی زندگی میں ہی ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے اور اس سلسلے میں بارہا صدیق بلوچ سے وقت بھی طے کیا گیا تاہم اس پروگرام کے متعدد بار ناگزیر وجوہات کی بنا پر التواء کے باعث پروگرام کا انعقاد ان کی زندگی میں نہ ہوسکا جس کا ہمیں ہمیشہ ملال و افسوس رہے گا۔
رضاالرحمان نے کہا کہ کوئٹہ پریس کلب کی زیر تعمیر اکیڈمی کو صدیق بلوچ کے نام سے منسوب کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ صدیق بلوچ اور فصیح اقبال سمیت بلوچستان کے سینئر صحافیوں کی برسی ہر سال منانے کیلئے کوئٹہ پریس کلب میں باہمی مشاورت سے پروگرامز کے انعقاد کے تسلسل کو جاری رکھا جائے گا ۔
انہوں نے کہا کہ صدیق بلوچ نے بلوچستان کے حقوق کے لئے بغیر کسی مصلحت کے اپنے قلم کا استعمال کیا انہوں نے کہا کہ ہم شہداء صحافت کی طرح اپنے سینئر صحافیوں کو کبھی نہیں بھول سکتے ۔
انہوں نے کہا کہ صحافتی شعبے میں صدیق بلوچ کے لگائے ہوئے پودے آج تناور درخت بن چکے ہیں انہوں نے کہا کہ گو کہ صدیق بلوچ آج جسمانی طور پر ہم میں نہیں لیکن ان کی سوچ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی تعزیتی ریفرنس کے اختتام پر صدیق بلوچ کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعا کی گئی ۔
تعزیتی ریفرنس ، صدیق بلوچ کے نام سے صحافتی اکیڈمی قائم کی جائے ،صحافیوں و سول سوسائٹی کے نمائندوں کا مطالبہ
![]()
وقتِ اشاعت : February 17 – 2018