|

وقتِ اشاعت :   March 29 – 2018

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے چیئرمین سینیٹ سے متعلق اپنا بیان واپس نہ لیا تو بلوچستان کے لوگ اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔

کوئٹہ کے ہنہ ریسٹ ہاؤس میں تحریک انصاف کے سربراہ کے اعزاز میں ظہرانہ دینے کے بعد عمران خان، جہانگیر ترین اور سردار یار محمد رند کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ عمران خان کو کوئٹہ آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں ، ہم خان صاحب کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے مرحلے پر بلوچستان کا ساتھ دیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسلام آباد میں سب سے پہلے عمران خان نے ہی یہ کہا کہ بلوچستان کے عوام میں احساس محرومی پایا جاتا ہے۔ ان کے ذہنوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بلوچستان کی قیادت کو آگے آنے نہیں دیا جاتا اور عمران خان نے ہی پہل کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ کیلئے ہماری حمایت کا اعلان کیا جس کے بعد پیپلز پارٹی،فاٹا اور ایم کیو ایم کے دوستوں نے بھی کھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تعاون کیا۔

ہم نے سیاسی جماعتوں کی مدد ،حمایت اور جمہوری طریقے سے سردار صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ منتخب کیا۔پہلی بار بلوچستان کے عوام کو بڑی خوشی ملی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ بلوچستان میں سینیٹ کے انتخابات اور چیئرمین سینیٹ کا انتخاب آئینی اور جمہوری طریقے سے عمل میں آیا لیکن وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے چیئرمین سینیٹ سے متعلق ہتک آمیز بیان پر ہمیں انتہائی افسوس ہوا۔

ہم نے نواز شریف کی بطور وزیراعظم بادشاہ کا طرز عمل دیکھا تھا کہ وزیراعظم سیکریٹریٹ میں عام شخص تو دور ارکان اسمبلی بھی نہیں جاسکتے تھے جب سے نئے وزیراعظم آئے تھے تو وزیراعظم سیکریٹریٹ کے دروازے تھوڑے بہت لوگوں کیلئے کھل گئے تھے۔ ہمیں امید تھی کہ شاہد خاقان عباسی اپنے عہدے کا بھرم رکھیں گے لیکن ان کے بیان سے بلوچستان کے عوام کو دھچکا لگا کہ اتنے بڑے عہدے پر بیٹھا ایک شخص کس طرح اتنی غیر ذمہ دارانہ بات کرسکتا ہے۔ یہ تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔

پورے ملک کے عوام خاص طور پر بلوچستان کے لوگوں کو وزیراعظم کے بیان سے دکھ اور تکلیف پہنچا۔ بلوچستان کے لوگوں کا احتجاج اور بیان آپ دیکھ رہے ہیں کہ وزیراعظم اپنا بیان واپس لیں ورنہ ہم اسلام آباد کیلئے مارچ کرینگے۔ پہلی مرتبہ چیئرمین سینیٹ جیسے اہم عہدے پر بلوچستان سے ایک شخص آیا۔ یہ اتنا معتبر اور معزز عہدہ ہے اس کے خلاف ایسی بات کرنا کسی طور مناسب نہیں۔ ہم پوائنٹ اسکورنگ میں نہیں جاتے لیکن وزیراعظم کے بیان نے ہمیں مایوس کیا۔

عبدالقدوس بزنجو نے جہانگیر ترین اور سردار یار محمد رند کا بھی شکریہ ادا کیا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی بلوچستان کے صدر سردار یار محمد رند نے بلوچستان میں بھی سینیٹ انتخابات میں ہمارا ساتھ دیا۔

واضح رہیکہ گزشتہ دنوں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی پیسے سے خریدے گئے ووٹوں سے چیئرمین بنے ان کی عوام میں کوئی عزت نہیں۔

صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ وزیراعظم چیئرمین سینٹ سے متعلق اپنا بیان واپس لیں ورنہ ہم بھی الفاظ کا ذخیرہ رکھتے ہیں نئی پارٹی بننے سے بلوچستان کے مسائل پر قابو پا لیا جائے آئندہ انتخابات میں بلوچستان میں اکیلے حکومت بنائیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینٹ کا بلوچستان سے ہونا اچھا اقدام ہے وزیراعظم چیئرمین سینٹ سے متعلق اپنا بیان واپس لیں ورنہ ہم نے الفاظ کا ذخیرہ رکھتے ہیں بلوچستان کو اب ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں گے ماضی میں جو کچھ ہوا اس پر ہم نہ تنقید کرتے ہیں اور نہ کسی کے خلاف بات کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ نئی پارٹی میں ذوالفقار مگسی جان جمالی ‘ منظور کاکڑ سمیت دیگر قبائلی و سیاسی شخصیات ہمارے ساتھ ہیں اور کئی لوگ شمولیت کرنے کے سلسلہ میں رابطے میں ہیں انہوں نے کہاکہ عوام کی طاقت اور دوستوں کی قوت سے آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد آئندہ اکیلے حکومت بنائیں گے اور وفاق سے بلوچستان کے حقوق کے لئے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے نئی پارٹی کے لئے سب کو اکٹھا کرنا ہوگا بلوچستان کی تبدیلی سردار اختر مینگل اور جمعیت علماء اسلام نے ساتھ دیا تھا اور سینٹ انتخابات کے لئے بھی انہوں نے ہمارے ساتھ تعاون کیا ۔