کوئٹہ: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ عوام نے جھوٹ اورالزام تراشی کی سیاست کرنیوالو ں کو مسترد کردیا ہے اور جولائی کے انتخابات میں بھی رد کرینگے،مسلم لیگ ن پہلے سے زیادہ نشستیں لیکر آئے گی۔
وزیراعظم نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار انکم ٹیکس نصف کردیا گیا، سکیم پر تنقید کرنے والوں کو کھلا چیلنج ہے کہ پہلے عوام کو بتائیں کہ وہ خود کتنا ٹیکس ادا کرتے ہیں،
دعوے سے کہتا ہوں کوئی شخص تنقید کے قابل نہیں ہوگا، ہماری حکومت ٹیکس چوروں کے ساتھ نہیں اس لئے ٹیکسوں کا بوجھ عوام کے بجائے سرمایہ داروں پر ڈالا ہے ۔
دنیا میں پاکستان سے زیادہ کوئی ملک نہیں جو افغانستان میں امن چاہتا ہو۔افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں۔
دونوں ملکوں کی قیادتوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ خطے کی خوشحالی اور عوام کیساتھ کتنے مخلص ہیں۔وزیراعظم ہفتے کو خاران میں یک مچ تاخاران شاہراہ اور خضدار شہداد کوٹ روڈ کے سنگ بنیاد اور افتتاحی تقریب کے موقع پر عوامی اجتما ع سے خطا ب کررہے تھے۔
اس موقع پر وفاقی وزراء لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ ،میر حاصل بزنجو ،چیف سیکرٹری بلوچستان اورنگزیب حق ، چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی جواد ملک،آئی جی بلوچستان معظم جاہ انصاری ،سمیت دیگر سرکاری آفیسران اورقبائلی عمائدین بھی موجود تھے۔
ریاستوں اورسرحدی امور کے وزیرعبدالقادربلوچ نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔انہوں نے وزیراعظم کی خاران آمد اورعوامی فلاح کے بڑے منصوبوں پران کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم نے خاران کے عوام کے فلاح و بہبود کے لئے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تیس کروڑ روپے کی اضافی لاگت سے خاران کے مختلف علاقوں میں شمسی توانائی کے ذریعے بجلی کی بنیادی ضرورت فراہم کی جائے گی۔
غریبوں کی مالی امداد سے متعلق بھی جلد سروے مکمل کرکے منصوبہ شروع کردیا جائیگا۔ہیلتھ کارڈ کے منصوبے بھی خاران میں شروع کی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ خاران میں کھیلوں کے فروغ کیلئے اسٹیڈیم کے لئے درکار فنڈز بھی وفاقی حکومت مہیا کرے گی۔
وزیراعظم نے نوکنڈی تا ماشکیل اور خاران تا بسیمہ سڑک کے منصوبوں پر ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد کرنے کا اعلان کیا۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وہ مسلم لیگ ن کی جانب سے بلوچستان میں امن ،ترقی اورقدرتی وسائل سے مقامی آبادی کو حصہ دینے کا پیغام لا ئے ہیں۔
بلوچستان معدنی وسائل سے مالامال صوبہ ہے، 2013 سے پہلے بلوچستان میں بڑے بڑے منصوبے التوا کا شکار تھے۔
مسلم لیگ (ن) نے بلوچستان کی ترقی کیلئے جتنی کوششیں کیں اس کی مثال نہیں ملتی ، ہم نے ہمیشہ اس علاقے میں ترقی کی کوشش کی جس کو ضرورت ہو، آج بلوچستان میں بہترین شاہراہوں کا جال بچھایا جارہاہے، وہ وقت دور نہیں جب بلوچستان ملک کا امیر ترین صوبہ ہوگا۔
اس وقت 1500 کلو میٹر سڑکیں بلوچستان میں بن رہی ہیں، ہزاروں کلو میٹر مکمل ہوچکی ہیں، یہ منصوبے صوبے کو ہمیشہ کے لیے ترقی دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کہیں بھی جائیں اور اسکیم دیکھیں وہاں نوازشریف اور(ن) لیگ کی اسکیم ملے گی۔ ہمیشہ سوال کرتا ہوں کہ کیا یہ وسائل پہلے نہیں تھے اور پہلے حکومتیں نہیں تھیں، ملک میں آمریت اور دوسری حکومتیں رہیں لیکن کوئی کام نظر نہیں آتا۔
نوازشریف ترقی کا دوسرا نام ہے، ملک میں ترقی ہوتی رہے گی، (ن) لیگ نے ثبوت دیا ہے کہ حکومتی وسائل وہاں خرچ ہونے چاہئیں جہاں زیادہ ضرورت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ آج ایک منصوبے مکمل ہوا اور ایک افتتاح ہوا ۔
یک مچ سے خاران اور خضدار تا شہداد کوٹ تک سڑک کے منصوبے کوئی چھوٹے منصوبے نہیں، پچیس ارب روپے کے ان منصوبوں کی تکمیل سے یہ علاقے پورے پاکستان سے ملیں گے اور علاقے میں ترقی اور خوشحالی آئے گی ۔
ایران جانے اور آنیوالے افراد اس راستے سے سفر کرینگے تو علاقے میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگااوراسکول اور کالجز بنیں گے۔
ترقی کا یہی راستہ ہوتا ہے ، ترقی جھوٹے وعدوں سے نہیں ہوتی، سوچ سمجھ کر کی جاتی ہے، مسلم لیگ ن نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ پورے پاکستان کی ترقی کیلئے کام کرنے والی جماعت ہے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ کچھ منصوبے سی پیک کا حصہ ہیں اور بہت سے منصوبے حکومت خود اپنے وسائل سے بنارہی ہیں ۔ آج یہ ترقی کی انتہاء ہے کہ پرانے منصوبے مکمل ہوچکے ہیں نئے منصوبے بن رہے ہیں اور بلوچستان کی یہ ترقی کا سفر جاری رہے گا۔
جب یہ سڑکیں ہوں گی اور علاقہ ترقی کرے گا تو بلوچستان کے جو معدنی وسائل جو ایک اثاثے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
یہ دولت سینکڑوں اور ہزاروں سال سے زمین میں ہی ہیں ،اگر ہم نے اس کو نکالنے کا بندوبست نہ کیا تو یہ بلوچستان کے عوام کے کام نہیں نہیں آئے گی۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ امن ہو ، سڑکیں ہوں اور لوگوں کو اس دولت میں حصہ ملے۔
یہی پیغام ہے جو مسلم لیگ ن لیکر آئی ہے ہم نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ترقی اس علاقے میں ہوں جہاں ضرورت ہو۔
اگر پاکستان میں یہی قیادت رہی اورآپ کے ووٹوں سے رہی جو ملک سے مخلص ہو اور عوام کے مسائل حل کرنا چاہتی ہے تو وہ وہ وقت دور نہیں جب انشاء اللہ بلوچستان پاکستان کا امیر ترین صوبہ ہوگا۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ترقی کے عمل کیلئے ضروری ہے کہ نمائندہ اوروہ حکومت ہو جو عوام کے مسائل حل کرنا چاہتی ہو۔اس وفاقی حکومت نے جتنی کوشش بلوچستان کیلئے کی ہے ۔
اس کی کوئی مثال ماضی میں نہیں ملتی اورجو منصوبے نواز شریف نے بلوچستان میں شروع اور مکمل کئے اس کی کوئی مثال ماضی کے اندر موجود نہیں۔
نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ ن کا ایک ہی پیغام ہے کہ پورے پاکستان کے مسائل کو حل کرنا ہے اور پورے ملک کو ترقی دلانی ہے۔
بلوچستان کو مخلص اور عوام کی نمائندہ قیادت ملی تو یقین دلاتا ہوں کہ پانچ دس سال کے اندر بلوچستان یہ پاکستان کا سب سے امیر ترین صوبہ ہوگااوریہاں کے عوام سب سے زیادہ خوشحال ہوں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امن کی ضرورت تھی جس کیلئے کوشش کی گئی ،ہم نے ایک سیاسی طور پر سب کو اکٹھا کیا فوج نے پوری جرأت کے ساتھ مقابلہ کیا
ہمارے ہزاروں جوان شہید ہوئے لیکن اس کا اثر یہ ہے کہ آج الحمداللہ کراچی سے لیکر پشاور تک اور کوئٹہ سے لیکر لاہور تک پورے پاکستان کے اندر امن ہے ۔
لوگ پرامن زندگی گزار رہے ہیں اور ترقی کا سفر جاری ہے۔ ہم نے اس امن کو برقرار رکھنا ہے اور اس ترقی کے اس سفر کو جاری رکھنا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگر آپ عوام قیادت اسمبلی میں بھیجیں گے اور ایسی جماعت کو موقع دینگے جو اصولوں پر قائم رہی اورقائم ہے تو پھر ترقی کا یہ سفر جاری رہے گا۔
وزیراعظم نے آئندہ عام انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک فیصلہ جولائی میں آپ کے پاس آئے گا اور وہ فیصلہ اگلے پانچ سال کی تقدیر کا فیصلہ ہوگا ۔آج عوام سے کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں،عوام جانتے ہیں کہ سیاست کا کیا معیار ہے۔
ایک طرف سچ اور خدمت کی پاکستان مسلم لیگ ن کی سیاست ہے اور دوسری طرف گالیوں اور جھوٹ کی سیاست ہے۔
فیصلہ عوام کے پاس ہے۔ اگر آپ کو گالی کی سیاست چاہیے تو وہ لوگ بھی موجود ہیں ۔ اگر آپ کو سچ اور خدمت کی سیاست چاہیے وہ لوگ بھی یہاں پر موجود ہیں ۔
وزیراعظم نے جلسے کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ اس جلسے میں کون سچ اور خدمت کی سیاست کے ساتھ ہیں۔
جلسے کے شرکاء نے ہاتھ کھڑے کرکے وزیراعظم کو جواب دیا۔ شاہد خاقا ن عباسی نے کہا کہ یہی وہ جذبہ ہے جو پاکستان میں نظر آرہا ہے۔
آج بد قسمتی یہ ہے کہ گالیاں دینے والے اس حد تک پہنچ گئے کہ ان کی گالیاں بھی ختم ہوگئیں لیکن عوام سے ان کو پذیرائی نہیں ملی۔
اب کرائے کے گالیاں دینے والے لیکر آئے ہیں تو شایدان کی گالیوں سے کوئی فائدہ ان کو مل جائے لیکن گالیوں کی سیاست کو پاکستان کی عوام رد کرچکے ہیں اور جولائی میں بھی رد کریں گے۔
وزیراعظم نے ایک بار پھر سینیٹ الیکشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ میں ہم نے کچھ نہیں کہا،
ایک جماعت کے سربراہ نے پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ میرے ایم پی اے فلاں آدمی خرید کر لے گیا، جب چیئرمین سینیٹ پر بات آئی تو دونوں اکٹھے تھے۔ جب الیکشن ہوگیا توجس کے آدمی بکے تھے ۔
اس نے کہا میں نے خریدنے والے کا ساتھ نہیں دیا،اب خریدنے والا کہہ رہا ہے اس نے ہمارا ساتھ دیا تھا۔پاکستان کی عوام ایسے لوگوں کو پہچان گئے ہیں پہلے یہ ایک دوسرے کو دیکھ لیں کہ آپ میں سے کون سچ اور کون جھوٹ بول رہا ہے۔
یہ اگر سیاست کا معیار ہے تو ہم کیا توقع رکھیں ان لوگوں سے کہ کل اگرخدانخواستہ حکومت مل گئی تو یہ اس ملک کے ساتھ کیا کرینگے۔
جو ایک دوسرے سے مخلص نہیں اور سچ نہیں بول سکتے ہیں جو آج بھی اس بات پر لڑرہے ہیں کہ کس نے ایم پی اے خریدے اور کس کے خریدے گئے تو ان سے آپ کس سیاست اور کونسی خدمت کی توقع رکھیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن وہ جماعت ہے جس نے اصولوں پر سیاست کی جس نے ہمیشہ پاکستان کی خدمت کی سیاست کی ۔
ہم نے کبھی سودے بازی نہیں کی اور جولائی کے الیکشن میں مسلم لیگ ن پہلے سے زیادہ نشستیں لیکر کامیاب ہوگی۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وسائل کے بغیر کوئی علاقہ اور ملک ترقی نہیں کرسکتا ،جنگ بھی وسائل کے بغیر ممکن نہیں ۔
وسائل پیدا کرنے کیلئے ملک میں پہلی مرتبہ ٹیکس اصلاحات کا انقلابی قدم اٹھایا گیا۔اس کا صرف ایک مقصد ہے ملک میں کاروبار کرنیوالے اور وسائل رکھنے والے افراد ٹیکس ادا کریں۔
ملک کے شہری بنیادی ذمہ داری پورا کرتے ہوئے اپنی آمدنی میں سے ٹیکس دیں،ہم نے ان کیلئے سہولت پیدا کی اور ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹیکس اور انکم ٹیکس کی شرح کو آدھے سے بھی کم کردیا۔ایسا کبھی ممکن نہیں تھا ،ہمیشہ ٹیکس کی شرح بڑھائی جاتی تھی ۔
یہ مسلم لیگ ن کی حکومت اور نواز شریف کی قیادت ہے جس نے یہ انقلابی قدم اٹھایاتاکہ لوگ حصہ دار بنیں اور ٹیکس ادا کریں۔
اگر 36فیصد لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے تو یہ دنیا میں آزمایا ہوا نسخہ ہے کہ ٹیکس کی شرح کم ہوگی تو ہر شخص ٹیکس ادا کرکے ریاست کو چلانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے گا۔
حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جمع ہونیوالے ٹیکس بہتر طریقے سے خرچ کریں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یمنسٹی اسکیم ایک انقلابی قدم ہے، یہ ایک قدم پاکستان کی معیشت کو وہ وسائل دے گا جو اس سے پہلے کبھی کسی نے نہیں دیئے، ہمیں دوسروں کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
ضرورت اس بات کی ہے ہم سب اس پر متفق ہوں، اس پر تنقید کی کوئی گنجائش نہیں،وہ تنقید کس بات پر کررہے ہیں کہ ٹیکس کی شرح کم کی گئی ہے۔
جس نے تنقید کرنی ہے وہ ضرور کریں لیکن پہلے یہ بتائے وہ ٹیکس کتنا ادا کرتا ہے، ایسے لوگوں کو کھلا چیلنج کرتا ہوں عوام کو بتائیں کہ انہوں نے صرف گزشتہ سال کتنا ٹیکس ادا کیا، دعوے سے کہتا ہوں کوئی شخص آکر تنقید کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔پھر دیکھتا ہوں کون انہیں ووٹ دے گا۔
کروڑوں اور اربوں روپے کمانے والے اگر ٹیکس ادا نہیں کرتے تو انہیں تنقید کا کوئی حق نہیں ۔ ہم ٹیکس کا بوجھ غریبوں سے ہٹا کروسائل رکھنے والے پر ڈالنا چاہتے ہیں۔ایسے اقدامات صرف مسلم لیگ ن کی حکومت اٹھاسکتی ہے کیونکہ ہم ٹیکس چوروں کے ساتھ نہیں ہیں۔
ہم ان لوگوں کے ساتھ نہیں جو عوام کے مسائل حل نہیں کرتے۔وزیراعظم نے گزشتہ روز دورہ کابل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کابل میں افغان قیادت سے کھل کر بات ہوئی،ہم نے انہیں کہا کہ دنیا میں پاکستان سے زیادہ کوئی ملک ایسا نہیں جو افغانستان میں امن چاہتا ہو، وہاں امن ہم سب کے لیے امن و خوشحالی ہے۔
ہم نے کہا کہ40 سال سے افغانستان میں جنگ جاری ہے، جنگ افغانستان کے مسائل کا حل نہیں۔ افغان مسئلے کا صرف ایک ہی حل ہے کہ افغان بیٹھیں اور آپس میں بات چیت کرکے اپنے مسائل حل کریں۔
ہم اس مذاکراتی عمل میں پوری مدد کرنے کو تیار ہیں کیونکہ یہ ہم پر لازم ہے، ہم چاہتے ہیں وہاں امن ہو۔ اس کو افغان قیادت نے بھی قبول کیا اور ہمیں پورا یقین ہے کہ جس خلوص سے ہم نے بات کی ہے اور ان کی باتوں میں جو خلوص دیکھا اس سے ہمیں یقین ہے کہ افغانستان میں امن آئے گا اور اس کے اثرات ہم تک پہنچیں گے۔
وزیراعظم شاہد خان عباسی کا کہنا تھا کہ یقین دلاتا ہوں کہ اس علاقے،بلوچستان اور ملک کی ترقی اور پاکستان کو ایک خود خود مختار ملک بنانے کی ضمانت صرف میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کی قیادت دے سکتی ہے۔
انتخابات جولائی میں ضرور ہوں گے جس میں پاکستان کی عوام ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرینگے۔وزیراعظم نے اپنی تقریر میں موسم کی سختی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خاران میں گرمی بہت زیادہ ہے۔
انہوں نے اس موقع پر علامہ اقبال کا شعر پڑھا ’’فطرت کے مقاصدکی کرتا ہے پاسبانی ۔۔۔یا بندا صحرائی یا مرد کوہستانی ‘‘۔
وزیراعظم نے جلسے کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ تو وہ ہیں جو بندا صحرائی بھی ہیں اور مرد کوہستانی بھی،یہ دنیا میں بڑا کم ہوتا ہے ، آپ حالات کو سمجھنے والے جفاکش اور اصولوں پر سمجھنے والے لوگ ہیں جس کا اقبال نے بار بار اپنی شاعری میں ذکر کیا ہے۔
تقریب کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات بد اعتمادی کی فضاء دور کرنے میں مدد گار ثابت ہوئی،دورہ پاک افغان دو طرفہ تعلقات اور خطے میں امن کیلئے اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ افغان صدر اشرف غنی اور افغان چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ،حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ گلبدین حکمتیار اور دیگر سے بھی ملاقاتیں خوشگوار ماحول میں تمام امور پر کھل کر بات ہوئی اور اس بات پر اتفاق ہوا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اب دونوں ملکوں کی قیادتوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ خطے کی خوشحالی اور عوام کیساتھ کتنے مخلص ہیں۔