|

وقتِ اشاعت :   May 6 – 2018

کوئٹہ: کوئٹہ کے نواح میں دو مختلف کوئلہ کان حادثات میں کم از کم 19کانکن جاں بحق ہوگئے۔ 16کانکنوں کو بے ہوشی کی حالت میں نکال لیا گیا۔ 5 کانکن تاحال کان میں پھنسے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کیلئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں ایک ہی دن میں دو حادثات اٹھارہ کانکنوں کی جانیں لے گیا۔ پہلا حادثہ کوئٹہ سے پچاس کلومیٹر دور مارواڑ کے علاقے پیر اسماعیل میں پیش آیا دوسرا حادثہ کوئٹہ سے تقریبا تیس کلومیٹر دور پی ایم ڈی سی کے قریب لیز نمبر 98کی کوئلہ کان میں پیش آیا۔ 

ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کیپٹن ریٹائرڈ فرخ عتیق کے مطابق مارواڑ پیر اسماعیل کی میر کول کمپنی کی ایک کان میں میتھین گیس بھر جانے کے باعث دھماکا ہوا۔ دھماکے سے قریب کی دو مزید کانیں بھی زد میں آگئیں اور تینوں کانوں میں ملبہ گرنے سے پندرہ کانکن دب گئے۔ 

اطلاع ملتے ہی کوئلہ کانکنوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیاں شروع کردیں۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کیپٹن ریٹائرڈ فرخ عتیق کے مطابق مدد کیلئے جانے والا ایک کانکن بھی اندر پھنس گیا اور ان کی باقی پندرہ کانکنوں کے ساتھ ہی موت ہوگئی۔ اس طرح اس واقعہ میں کل سولہ کانکن لقمہ اجل بنے۔ مدد کیلئے جانے والے تیرہ کانکن بھی کان میں بھرنیوالی گیس کے باعث بے ہوش ہوگئے جنہیں ریسکیو ٹیموں نے نکالا۔ 

نو زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کردیا گیا جبکہ چار کانکنوں کو موقع پر طبی امداد دی گئی۔ سول ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق ہسپتال میں لائے گئے کانکنوں کو سانس لینے میں دشواری پیش آرہی تھی طبی امداد کے بعد اب سبھی زیر علاج کانکنوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

امدادی سرگرمیوں میں کانکنوں، لیویز، ایف سی، ایدھی اور چھیپا کے رضا کاروں کے علاوہ پی ڈی ایم اے کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔ ریسکیو آپریشن کی نگرانی ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کیپٹن ریٹائرڈ فرخ عتیق اور ایف سی کے لیفٹیننٹ کرنل مدثرنے خود کی۔ رات تقریبا نو بجے تمام لاشیں نکال کر ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا۔ لاشوں کورات گئے کوئٹہ پہنچانے کے بعد آبائی علاقوں کو روانہ کردیا گیا۔

جاں بحق کانکنوں کی شناخت رحیم داد بر ولد بخت زر، محمد بشر ولد عزیز الرحمان، عبدالوحید ،خالد ولد شیر محمد، نصر اللہ ولد جان ملک، عبداللہ خان ولد عبدالقدیم، عبدالحق ولد عبدالقدیم،لیاقت زادہ ولد خان زادہ، عبدالطیف ولد اکرام اللہ،حضرت علی،محمد خالق، جاوید،فوجل خان ، خان زر،دلاور خان اورعبدالسلام کے نام سے ہوئی ہے۔

زخمیوں میں افضل واحد، احسان اللہ، آفتاب حسین، عبدالسلام، بخت زمان، مفتاب خان، حضرت حسین،گل فیروز، گل زادہ، سلطان ملک اورفرمان علی شامل ہیں۔ جاں بحق اور زخمی ہونیوالے تمام کانکنوں کا تعلق سوات ،شانگلہ اور ملحقہ علاقوں سے بتایا جاتا ہے۔ 

دوسرا حادثہ کوئٹہ ہی کے نواحی علاقے پی ایم ڈی سی کے قریب پیش آیا جہاں لیز نمبر 98 کی ایک کان میں جمع ہونیوالے میتھین گیس کے باعث دھماکا ہوا اور کان کا ایک حصہ بیٹھ گیا۔ ملبے تلے دب کر دس کانکن پھنس گئے۔ تین کانکنوں کی لاشیں نکالی لی گئیں جبہ تین کانکنوں کو بے ہوشی کی حالت میں نکال لیا۔

پانچ کانکن کان کے اندر کئی ہزار فٹ کی گہرائی میں پھنسے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کیلئے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔امدادی سرگرمیوں کے دوران ایف سی اہلکار ابراہیم بھی زخمی ہوا جنہیں ریسکیو کرلیا گیا۔ 

بلوچستان کے پانچ اضلاع میں کوئلے کی صنعت سے تیس ہزار کانکنوں کا روزگار وابستہ ہے جن کی جانیں حفاظتی انتظامات اور مناسب آلات نہ ہونے کے سبب ہمیشہ داؤ پر لگی رہتی ہیں۔ہر سال اوسطاً 100کاننکن کوئلہ کانوں میں گیس دھماکوں، مٹی کے تودے گرنے، ٹرالی کی رسی ٹوٹنے سمیت مختلف حادثات کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ 

مائنز لیبر یونین کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ مائنز ایکٹ ایک صدی پرانا ہوگیا ہے اور اس میں بہت سی خامیاں پائی جاتی ہیں لیکن اس ایک صدی پرانے قانون پر بھی صحیح طریقے سے عمل نہیں کیا جاتا۔ کوئلہ کان مالکان اور ٹھیکیدارمزدوروں کی جانوں سے کھیلتے ہیں لیکن انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ 

سول ہسپتال میں زیرعلاج زخمی کانکن فرمان اللہ نے بتایا کہ’’ کان میں حادثہ صبح دس بجے آیا جبکہ امدادی ٹیمیں تین بجے کے بعد پہنچیں۔ کوئلہ کانوں میں کانکنوں کی حفاظت کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا اگر کوئی انتظامات ہوتے تو ہم اور ہمارے ساتھی اس طرح ہسپتالوں میں نہ پڑے ہوتے‘‘۔ 

ایک دوسرے زخمی کانکن نے بتایا کہ ’’کوئلہ کان میں کوئی انتظامات نہیں ہوتے ،نہ کمپنی کی طرف سے نہ منیجروں کی طرف سے ۔ وہ ہمیں کہتے ہیں کہ بس کوئلہ نکالو، انہیں بس پیسوں کی فکر ہوتی ہے ، مزدوروں کی جان سے انہیں کوئی غرض نہیں ہوتا۔

ہم نے کئی دفعہ انہیں بتایا کہ کان میں ہوا کا بندوبست نہیں ہے کسی بھی وقت حادثہ پیش آسکتا ہے لیکن وہ مزدوروں کی بات پر کان ہی نہیں دھرتے‘‘۔ کانکنوں کا کہنا تھا کہ حکومت کو مزدوروں کی جان کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے۔