|

وقتِ اشاعت :   May 14 – 2018

کوئٹہ:  بلوچستان کے نئے مالی سال کا بجٹ آج شام چار بجے پیش کیا جائیگا۔ 350ارب سے زائد کے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 88ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔

بجٹ میں61ارب خسارہ ظاہر کیا جائیگا۔8ہزار نئی آسامیوں اور1200کلومیٹر نئی سڑکیں بنانے ،کوئٹہ میں کینسر ہسپتال، ڈینٹل کالج،نصیرآباد میں زرعی یونیورسٹی اورمیڈیکل کالج قائم کرنے کا اعلان کیا جائیگا۔

سول ہسپتال کوئٹہ کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کیلئے تین ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی جائے گی۔ ایک ارب روپے کی لاگت سے وزیراعلیٰ ہیلتھ انشورنس پروگرام شروع کیا جائیگا۔چھت سے محروم سکولوں کو عمارات کی فراہمی کیلئے ڈیڑھ ارب ،معذوروں کو وظیفہ دینے کیلئے پچاس کروڑ اورلیپ ٹاپ اسکیم کیلئے پچاس کروڑ روپے مختص کئے جائیں گے۔ 

تفصیلات کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ کا کل تخمینہ 3کھرب52ارب 30کروڑ مختص لگایا گیا ہے۔ غیرترقیاتی بجٹ کا حجم 264 ارب روپے اور ترقیاتی بجٹ کا حجم 88ارب 30کروڑ روپے ہوگا۔صوبے کی کل آمدن کا تخمینہ 2کھرب90 ارب 30کروڑ روپے ہے اس طرح بجٹ خسارہ 61 ارب 90کروڑ روپے ہوگا۔ وفاق سے حاصل ہونیوالی آمدن 2کھرب43ارب اورصوبے کے اپنے وسائل سے آمدن کا تخمینہ 15 ارب روپے ہے۔ 

قابل تقسیم پول سے 224ارب روپے ملیں گے ۔براہ راست منتقلی 9ارب روپے جبکہ گیس سرچارج کی مد میں دس ارب روپے ملیں گے۔ریونیو اخراجات کا تخمینہ 223ارب روپے ،سرمایہ جاتی اخراجات کیلئے 40ارب 99کروڑ ہوں گے۔ 

ذرائع کے مطابق صوبے کے سرکاری محکموں میں آٹھ ہزار 35 نئی آسامیاں پیدا کی جائیں گی ۔امن وامان کیلئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 34ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔ سیکورٹی فورسز کیلئے اسلحہ کی خریداری کیلئے 2ارب روپے اورسیکورٹی اہلکاروں کی تربیت کیلئے چار کروڑ مختص کئے جائیں گے ۔دہشتگردی کے متاثرین میں ایک ارب روپے تقسیم کئے گئے ۔

محکمہ تعلیم کیلئے غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں43 ارب 90کروڑ اورمحکمہ ہائیر ایجوکیشن کیلئے 8ارب50کروڑ مختص کئے جائیں گے۔ کوئٹہ میں نسٹ یونیورسٹی کیمپس کیلئے 1ارب20کروڑ خرچ ہوں گے۔100نئے پرائمری اسکول بنائے جائیں گے ۔200پرائمری اور مڈل اسکولوں کو اپ گریڈ کیا جائیگا۔خصوصی افراد کیلئے انٹر کالج قائم کیا جائیگا۔محکمہ زراعت کیلئے 8ارب 70کروڑ روپے مختص کئے جائیں گے۔ 

نصیرآباد میں ڈھائی ارب روپے کی لاگت سے زرعی یونیورسٹی بنائی جائے گی۔ گوادر میں سمندر کا پانی صاف کرنے کے پلانٹ پر 8ارب روپے خرچ ہوں گے۔کوئٹہ کی اسٹریٹ لائٹس کیلئے 13کروڑ مختص ہوں گے۔500طلباء کیلئے انٹرن شپ پروگرام پر 10کروڑ خرچ ہوں گے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال 1200کلومیٹر سڑکیں بنائی گئیں ۔نئے مالی سال میں 1200کلومیٹر نئی سڑکیں بنائی جائیں گی۔

بلدیاتی اداروں کو ترقیاتی منصوبوں کیلئے 5ارب روپے دیئے جائیں گے ۔صوبے بھر میں اہم شاہراہوں پر ایمرجنسی ہیلتھ سینٹرز تعمیر کئے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں دو ارب روپے کی لاگت سے بلوچستان کے کینسر ہسپتال تعمیر کیا جائیگا۔ جبکہ امراض قلب کے ہسپتال کیلئے ڈھائی ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔

نئے بجٹ میں سول ہسپتال کوئٹہ کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی شامل کیا جائیگا جس پر تین ارب روپے خرچ ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایک ارب روپے کی لاگت سے وزیراعلیٰ ہیلتھ انشورنس پروگرام شروع کیا جائیگا۔

ویکٹر بورن ڈیزیز کیلئے ڈھائی ارب روپے اورمفت ادویات کی فراہمی کیلئے دو ارب روپے ،کینسراورہیپٹائٹس کے علاج کیلئے ایک ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔کوئٹہ میں ایک ارب روپے صوبے کا پہلا ڈینٹل کالج بھی قائم کیا جائیگا۔نصیرآباد میں تین ارب روپے کی لاگت سے میڈیکل کالج بنایا جائیگا۔

نئے مالی سال کے بجٹ میں پبلک پرائیوٹ پارٹنٹر شپ کے تحت سرکاری ملازمین کو سولر سسٹم فراہم کرنے کا منصوبہ شامل کیا جائیگا جس سے دو لاکھ 88ہزار ملازمین اور پنشنرز استفادہ حاصل کرسکیں گے۔اس کے علاوہ گوادر میں 50میگا واٹ سولر پاور پلانٹ تعمیر کیا جائیگاجبکہ گوادر میں سمندر کا پانی صاف کرنے کے پلانٹ پر 8ارب روپے خرچ ہوں گے۔