کوئٹہ: بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ صوبائی بجٹ میں 61ارب روپے کا خسارہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ بلوچستان کی معاشی حالت انتہائی ابتر ہے، چار سال سے این ایف سی نہیں ملا، ہمارے وسائل پنجاب پر خرچ کئے جارہے ہیں، ہم اپنا حق مانگتے ہیں ، بلوچستان کی قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ ناگزیر ہے ،پاک فوج ، ایف سی اور پولیس کی دہشتگردی کے خلاف بڑی قربانیاں ہیں۔
ہماری فورسز کے افسران بھی شہید ہوئے ہیں ، پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہیں،اقتدارسے نکل پر فوج کو بدنام کر نا نواز شریف کا وطیر ہ ہے ، نگران وزیراعلی کے لئے اپوزیشن سے رابطہ کر لیا گیا۔ وہ ہفتہ کی رات کو ئٹہ پریس کلب کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر ایک کروڑ روپے کا گرانٹ چیک صدر پریس کلب رضا الرحمان کے حوالے کیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ بلوچستان معاشی طور پر بہت کمزور ہے، فیڈرل پی ایس ڈی پی میں کئے گئے وعدے پورے نہیں ہوئے ،اگر یہی حالات رہے تو آئندہ دو تین سالوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے پیسے نہیں ہوں گے انہوں نے قومی اسمبلی میں بلوچستان کی نشستیں بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا ۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو بہت مشکل حالات تھے ہم نے اقتدار میں آ کر حکومتی مشینری کو فعال کیا،ہمارا ذیادہ وقت کورٹس کے معاملات میں گزر گیا تاہم صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کے کام شروع کیے، کوئٹہ پیکج، ،پانی کے پراجیکٹ اور دیگر ترقیاتی کام شروع کرائے۔
وزیر اعلی بلوچستان نے کہا کہ پچھلے سال چار ارب روپے استعمال نہ کرنیکی وجہ سے لیپس ہوئے اس سال ہم نے بلوچستان کا ایک روپیہ بھی لیپس نہیں ہونے دیا، کم وقت میں ذیادہ سے زیادہ کام کرنے کی کوشش کی ۔
میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ افغان بارڈر پر باڑ لگانا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے باڑ لگانے سے دہشتگردوں کو روکا جا سکے گا بھارت کے افغانستان میں قونصل خانوں کی بہتات ہے،عبدالقوس بزنجو نے کہا کہ چار سالوں سے این ایف سی ایوارڈ کا اجرا نہیں کیا گیاوفاق نے صرف پنجاب کو ترقی دی ،بلوچستان کو اس کے حقوق نہیں دئیے گئے ، سی پیک کے تحت بھی ہمیں کچھ نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل(ر) راحیل شریف نے حکومت کو دباؤ دے کر این 85 شاہراہ بنوائی انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کا وقت آٹھ جون تک ہے نگراں وزیراعلیٰ کے لیے مشاورت جاری ہے اور اپوزیشن سے رابطہ کر لیا گیا ہے اپوزیشن اپنے دوستوں سے مشاورت کے بعد ہمیں آگاہ کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے قربانی دے کر شہر کو بڑی تباہی سے بچایا وہ وقت دور نہیں جب ہم ملکر دہشتگروں کو مکمل ناکام بنا دیں گے،دہشتگردوں کی بہت سی کاروائیاں ناکام بنا دی گئیں ہیں،بلوچستان میں دہشت گرد زیادہ پیسے دینے والی تنظیموں کے لئے کام کرتے رہتے ہیں ہماری دعا ہے کہ شہر کا امن لوٹ آئے۔
انہوں نے کہا کہ آواران میں گیسٹرو سے متاثرہ افراد کے لئے امدادی کاروائیاں جاری ہیں اب تک 6افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں،امدادی کاروائیوں کے لئے ہیلی کاپٹر استعمال کئے جارہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ 3 ماہ کے دور حکومت میں مختلف مقامات کے دورے کیے،آج سوچا کہ پریس کلب کا دورہ کروں اور میڈیا کے دوستوں کے ساتھ چائے پی جائے انہوں نے کہا کہ حالیہ بجٹ میں ہم نے کوشش کی کہ عوام کی بہتری کو ملحوظ خاطر رکھیں،بجٹ میں تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے 17سوا سکولوں کو بلڈنگ دی گئی ہے،ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ان بچوں کی معاونت کرے گی جو اپنی فیس ادا نہیں کر سکتے۔
وفاق نے وعدہ کیا تھا کہ کارڈک ہسپتال بنائیں گے جس پر عملدرآمد نہیں ہوا ،مالدری کا شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے،صوبے بھر کے مالدروں کو 2ہزار مال مویشی دئے جائیں گے،وزیراعلی ہیلتھ کارڈز بنانے کا منصوبہ بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی دیکھیں کیا انہوں نے جو وعدے کئے وہ پورے ہوئے،جمہوری سیاست کی باتیں کرنے والوں نے عوام کو کیا دیا گالی گلوچ ہماری روایات نہیں ہیں ،جو کچھ اسمبلی فلور پر ہوا اسکی مثال ماضی میں نہیں ملتی،اسمبلی فلور پر گالی گلوچ کرنے والوں کو کچھ دن سزا ملنی چاہے۔
انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں تفر یحی سرگرمیوں کا افتتاح بھی کیا۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ ہماری چار ماہ کی حکومت نے عوام کے حقیقی مسائل کو حل کرنے کیلئے اقدامات کئے ہیں۔
بلوچستان کو میٹرو یا دیگر منصوبوں کی بجائے بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے وفاق کی جانب سے ہمارے منصوبوں پر تاخیر سے کام کیا جاتا ہے بجٹ میں 2ہزار اسکولوں کی مرمت کیلئے ڈیڑھ ارب ،زیتون کی کاشت کیلئے ایک ارب ،کوئٹہ واٹر شیڈ مینجمنٹ کیلئے ایک ارب ،یوتھ انٹرن شپ کیلئے 20کروڑ ،یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم کیلئے 50کروڑ ،ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن کیلئے 1ارب روپے مختص کئے گئے ہیں یہ بات انہوں نے اتوار کو بلوچستان اسمبلی میں بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے کہی ۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ اجلاس کے دوران ہاوس کا ماحول انتہائی خوشگوار رہا لیکن چند ناخوشگوار واقعات کی وجہ سے ماحول خراب بھی ہوا مجھے افسوس ہے کہ پشتونخوامیپ کے نمائندے ایوان میں موجود نہیں انکی کچھ باتیں اچھی بھی ہوتی ہیں لیکن کچھ ارکان اسمبلی کہہ رہے ہیں کہ شکر ہے کہ وہ نہیں ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح اسپیکر اور چیئرپرسن نے بجٹ اجلاس کی کارروائی آگے بڑھائی ہے اس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مختصر وقت ملا اس میں بہترین بجٹ بنانا ممکن نہیں تھا لیکن ہم نے دن رات محنت کی اور سب نے مانا ہے کہ چار ماہ کی حکومت میں عوام کی رسائی حکومت تک تھی ہم نے یہ روایت ڈال دی ہے کہ حکومت عوام کے ساتھ بات چیت کریگی جب تک ہم عوام کے درمیان نہیں جائیں گے تو ہمیں انکے مسائل معلوم نہیں ہونگے ۔
کھلی کچہری سے عوام کے حقیقی مسائل جاننے میں مددملی ۔انہوں نے کہا کہ ہم اس پوزیشن میں نہیں کہ لاہور اوراسلام آباد کی ترقی اور میٹروبس جیسے منصوبوں کی بات کریں ہمارے لوگوں کے پاس علاج کی سہولیات نہیں ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ وفاق میں ہماری اسکیمات برائے نام ڈال کر ریفلیکٹ کی جاتی ہیں کیا بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں جو یہاں پر میگا منصوبے نہیں بن رہے ہمیں پنجاب کی ترقی پر اعتراض نہیں لیکن وہ لوگ جو وفاق میں بیٹھ کر دوسرے صوبوں کا حق کھاتے ہیں اورپاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچاتے ہیں انکی وجہ سے عام پنجابی کو یہاں مارا جاتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 17شلٹر لیس اور 300ایسے سکول ہیں جن میں سہولیات نہیں ہیں پچھلی حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی ہم نے اس مد میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کردیئے ہیں زیتون کی کاشت کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں اس سلسلے میں 1ارب 26کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔
گوادر میں پینے کے پانی کے دو پلانٹ لگادیئے گئے ہیں جبکہ دوبئی کی طرز پر گوادر میں مصنوعی بارش کروانے کا منصوبہ بھی ہے جس پر دس سے پندرہ دن میں عملدرآمد کرایا جائے گا اگر یہ تجربہ کامیاب ہوا تو بلوچستان بھر میں مصنوعی بارشیں کروائی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ گوادر میں پانی کی فراہمی پر سالانہ اربوں روپے سابق حکومتیں خرچ کرتی رہیں مگر مسئلے کے پائیدارحل کیلئے کسی نے نہیں سوچا نہ تو وفاقی اور نہ ہی صوبائی حکومت نے عملدرآمد کیا وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے منصوبوں پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے ہی سی سی آئی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا کوئٹہ میں بارش کے پانی کو ضیاع ہونے سے بچانے کیلئے واٹر شیڈ مینجمنٹ پروگرام کیلئے ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔
ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے صوبے کے100اسکولوں کو ماڈل اسکول کا درجہ دیکر تمام سہولیات فراہم کریں گے ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن پروگرام کیلئے ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں اساتذہ کی ٹریننگ کیلئے ساٹھ کروڑ رکھے گئے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایسے بچے جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہوں اور فیسیں ادا نہیں کرسکتے ہیں انکی فیسیں صوبائی حکومت ادا کریگی انہوں نے کہا کہ نیشنل فیلڈ پروٹیکشن پلان کیلئے ایک ارب 17کروڑ روپے رکھے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ کینسر کا ہسپتال بنارہے ہیں تب تک کینسر ہیپاٹائٹس اور گردے کے مریضوں کا ملک کے اعلیٰ ہسپتالوں میں سرکاری خرچ پر علاج کرائیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں مسلسل اضافے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے گزشتہ سال 51ارب اور اس سال 61ارب روپے کا خسارہ ہے ہمارا غیر ترقیاتی بجٹ نوے فیصد جبکہ ڈویلپمنٹ صرف دس فیصد رہ گیا ہے۔
اگر آئندہ پانچ سال میں یہ صورتحال رہی توترقیاتی بجٹ کیلئے کچھ نہیں بچے گا وفاقی حکومت نے تین سال سے این ایف سی ایوارڈ نہ دیکر صوبوں سے ظلم کیا ہے انہوں نے یقین دلایا کہ چند ارکان نے بجٹ پر جن تحفظات کا اظہار کیا ہے انہیں جلد دور کردیں گے۔
بلوچستان کے وسائل پنجاب پر خرچ کئے جارہے ہیں، قدوس بزنجو
![]()
وقتِ اشاعت : May 21 – 2018