|

وقتِ اشاعت :   May 22 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی نے مالی سال 2018-19ء کے 318ارب 33کروڑ 36لاکھ80ہزار5سو75روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی جس میں ترقیاتی مدکیلئے 88ارب24کروڑ92لاکھ83ہزار اور غیر ترقیاتی بجٹ کی مد میں220ارب8کروڑ 44لاکھ7سو52روپے رکھے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے بحیثیت وزیر خزانہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں 9مطالبات زر اور غیر ترقیاتی بجٹ کی مد میں 47مطالبات زرایوان میں پیش کئے جن کی ایوان نے منظوری دے دی بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پیر کو اسپیکر راحیلہ حمید درانی کی صدارت میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بحیثیت صوبائی وزیر خزانہ ایوان میں رواں مالی سال کے مطالبات زر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک رقم جو 14ارب 8کروڑ32لاکھ18ہزار 9سو 58روپے سے متجاوز نہ ہو وزیراعلیٰ کو ان اخراجات کی کفالت کیلئے عطاء کی جائے تو مالی سال کے اختتام30جو2019کے دوران بسلسلہ مد ’عمومی انتظامیہ‘ مالیاتی انتظام اور معاشی قوانین، شماریات تشہیر اور اطلاعات وغیرہ برداشت کرنے پڑیں گے ۔

ایک رقم جو 71کروڑ46لاکھ43ہزار 3سو روپے بسلسلہ مد ’’ صوبائی آبکاری‘‘ ، ایک رقم جو4کروڑ38لاکھ1ہزار4سو روپے بسلسلہ مد ’’ اسٹامپس‘‘ ، ایک رقم جو 20ارب روپے بسلسلہ مد ’’ پنشن‘‘ ، ایک رقم جو1ارب 80کروڑ52لاکھ9سو روپے بسلسلہ مد ’’ عدالتی نظم و نسق‘‘ ، ایک رقم جو 32کروڑ73لاکھ15ہزار2سو روپے بسلسلہ مد ’’قانونی خدمات و شعبہ قانونی امور‘‘ ، ایک رقم جو 15کروڑ63ہزار4سو روپے بسلسلہ مد ’’محکمہ صوبائی محتسب‘‘ ، ایک رقم جو 29کروڑ11لاکھ47ہزار5سو روپے بسلسلہ مد ’’ محکمہ پراسیکیوشن‘‘ ،ایک رقم جو 18ارب 62کروڑ67لاکھ45ہزار4سو83روپے بسلسلہ مد ’’ بلوچستان پولیس‘‘، ایک رقم جو 4ارب45کروڑ78لاکھ56ہزار76روپے بسلسلہ مد ’’بلوچستان کانسٹبلری‘‘، ایک رقم جو 8ارب91کروڑ36لاکھ39ہزار4سو23روپے بسلسلہ مد ’’لیویز‘‘، ایک رقم جو 83کروڑ2لاکھ20ہزار5سو روپے بسلسلہ مد ’’ جیل و قید وبند مقامات‘‘ ، ایک رقم جو 12کروڑ78لاکھ11ہزار1سو29روپے بسلسلہ مد ’’شہری دفاع‘‘ ، ایک رقم ججو 8ارب95کروڑ47لاکھ77ہزار8سو روپے بسلسلہ مد ’’ سول ورکس(بشمول اسٹیبلشمنٹ چارج)‘‘، ایک رقم جو 3ارب82کروڑ85لاکھ روپے بسلسلہ مد ’’صحت عامہ کی خدمات ‘‘، ایک رقم جو 1ارب 20کروڑ53لاکھ43ہزار8سو روپے بسلسلہ مد ’’ورکس اربن کیو واسا‘‘، ایک رقم جو 88ارب53کروڑ54لاکھ46ہزار3سو روپے بسلسلہ مد’’ اعلیٰ تعلیم ‘‘ ، ایک رقم جو 43ارب87کروڑ96لاکھ29ہزارروپے بسلسلہ مد ’’ثانوی تعلیم‘‘ ایک رقم جو 29کروڑ40لاکھ78ہزار9سو روپے بسلسلہ مد ’’ا?ثار قدیمہ‘‘ ، ایک رقم جو 19ارب 41کروڑ93لاکھ69ہزارروپے بسلسلہ مد ’’صحت‘‘، ایک رقم جو 3ارب85کرروڑ32لاکھ2ہزار روپے بسلسلہ مد ’’ طبی تعلیم ‘‘، ایک رقم جو 87کروڑ22لاکھ روپے بسلسلہ مد ’’ بہبود آبادی‘‘، ایک رقم جو1ارب69کروڑ18لاکھ70ہزار روپے بسلسلہ مد ’’محنت و افرادی قوت کا نظم و نسق‘‘ ، ایک رقم جو 75کروڑ67لاکھ روپے بسلسلہ مد ’’کھیلو ں کا انتظام و تفریحی سہولیات‘‘ ، ایک رقم جو 19کروڑ78لاکھ4ہزار4سو روپے بسلسلہ مد ’’ ثقافتی خدمات ‘‘ ایک رقم جو 97کروڑ 91لاکھ59ہزار روپے بسلسلہ مد ’’ سماجی تحفظ اور سماجی خدمات‘‘ ، ایک رقم جو 3ارب11کروڑ50??لاکھ روپے بسلسلہ مد ’’ قدرتی و دیگر افات(امداد) ‘‘ ایک رقم جو 71کروڑ8لاکھ16ہزار8سو روپے بسلسلہ مد ’’مذہبی و اقلیتی امور‘‘، ایک رقم جو44کروڑ22لاکھ84ہزار9سو روپے بسلسلہ مد ’’خوراک‘‘،ایک رقم جو 8ارب67کروڑ80لاکھ46ہزار1سو 98 روپے بسلسلہ مد ’’زراعت‘‘،ایک رقم جو 45کروڑ10لاکھ91ہزار7سو روپے بسلسلہ مد ’’محصولات اراضی‘‘ ،ایک رقم جو 3ارب96کروڑ59لاکھ17ہزار40روپے بسلسلہ مد ’’امور حیوانات‘‘،ایک رقم جو 1 ارب9کروڑ67لاکھ60ہزار روپے بسلسلہ مد ’’جنگلات‘‘، ایک رقم جو 92کروڑ 5لاکھ32ہزار 9سو روپے بسلسلہ مد ’’ماہی گیری‘‘، ایک رقم جو 13کروڑ7لاکھ78ہزار5سو روپے بسلسلہ مد’’امداد باہمی‘‘،ایک رقم جو 2ارب86کروڑ2لاکھ روپے بسلسلہ مد ’’آبپاشی‘‘، ایک رقم جو12ارب55کروڑ65لاکھ6ہزار7سو روپے بسلسلہ مد ’’دیہی ترقی‘‘،ایک رقم جو 1ارب 23کروڑ11لاکھ72ہزار9سو روپے بسلسلہ مد ’’صنعت‘‘ ایک رقم جو 12کروڑ25لاکھ77ہزار5سو روپے بسلسلہ مد ’’اسٹیشنری وطباعت‘‘، ایک رقم جو2ارب3کروڑ96لاکھ66ہزار روپے بسلسلہ مد ’’معدنی وسائل ( سائنسی شعبہ)‘‘، ایک رقم جو 9کروڑ33لاکھ40ہزار1سو روپے بسلسلہ مد ’’شعبہ ٹرانسپورٹ‘‘، ایک رقم جو 11کروڑ27لاکھ32ہزار روپے بسلسلہ مد ’’محکمہ ترقی نسواں‘‘،ایک رقم جو 14ارب63کروڑ34لاکھ75ہزار روپے بسلسلہ مد ’’شعبہ توانائی‘‘، ایک رقم جو 29کروڑ77لاکھ85ہزار5سو روپے بسلسلہ مد ’’محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی‘‘،ایک رقم جو 37کروڑ42لاکھ روپے بسلسلہ مد ’’محکمہ نگرانی ماحولیات‘‘ ،ایک رقم جو 10ارب 1کروڑروپے بسلسلہ مد ’’سرمایہ کاری‘‘،ایک رقم جو 2ارب2کروڑ64لاکھ16ہزار8سو50روپے سے متجاوز نہ ہو وزیراعلیٰ کو ان اخراجات کی کفالت کیلئے عطاء کی جائے جو مالی سال کے اختتام30جون2019کے دوران بسلسلہ مد ’’قرضہ جاتی خدمات و دیگر ذمہ داریاں‘‘ برداشت کرنے پڑیں گے ۔

رواں ترقیاتی اخراجات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک رقم جو 6ارب73کروڑ69لاکھ روپے سے متجاوز نہ ہو وزیراعلیٰ کو ان اخراجات کی کفالت کے لئے عطاء کی جائے جو مالی سال کے اختتام 30جن 2019کے دوران بسلسلہ مد ’’عمومی عوامی خدمات‘‘ برداشت کرنے پڑیں گے ۔

ایک رقم جو 1ارب32کروڑ42لاکھ34 ہزار روپے بسلسلہ مد ’’امن عامہ و حفاظتی امور‘‘، ایک رقم جو 38ارب55کروڑ15لاکھ57ہزار روپے بسلسلہ مد ’’اقتصادی امور‘‘، ایک رقم جو 8ارب95کروڑ16لاکھ52ہزار روپے بسلسلہ مد ’’ماحولیاتی تحفظ‘‘،ایک رقم جو 7ارب56کروڑ58لاکھ98ہزار روپے بسلسلہ مد ’’رہائشی اور کمیونٹی سہولیات‘‘،ایک رقم جو 7ارب50کروڑ28لاکھ24ہزار روپے بسلسلہ مد ’’صحت‘‘ایک رقم جو3ارب15کروڑ94لاکھ80ہزارروپے بسلسلہ مد ’’تفریحی ثقافت و مذہب‘‘، ایک رقم جو 12ارب73کروڑ17لاکھ11ہزار روپے بسلسلہ مد ’’ تعلیمی امور و خدمات‘‘ ایک رقم جو 1ارب72کروڑ50لاکھ27ہزار روپے سے متجاوز نہ ہو وزیراعلیٰ کو ان اخراجات کی کفالت کیلئے عطاء کی جائے ۔

جو مالی سال کے اختتام30جون2019کے دوران بسلسلہ مد ’’سماجی تحفظ‘‘ برداشت کرنے پڑیں گے ایوان نے متفقہ طور پر 56مطالبات زر کی منظوری دے دی اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان کا مالیاتی مسودہ قانون 2018منظوری کے لئے پیش کیا جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے جمعیت علماء4 اسلام کے رکن اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ محکمہ قانون و پراسیکیوشن کے اٹیچ آفیسران نے بھی دن رات محنت کرکے بجٹ کی تیاری میں کردار ادا کیا ہے انہیں بھی بونس دیا جائے ۔

جمعیت علماء اسلام کے مفتی گلاب نے کہا کہ حلقہ پی بی18سے پی بی19میں ڈیمز کی اسیکمات منتقل کی گئی ہیں انہیں دوبارہ پی بی 18میں شامل کیا جائے انہوں نے ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ بھی کیا ۔

صوبائی وزیر شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ سمال ڈیمز کے نام سے پی ایس ڈی پی میں اسکیمات منظور ہوئی تھیں جنہیں عدالت کے حکم پر پی اینڈ ڈی نے ڑوب منتقل کیا ہے میرا اس میں کوئی کردار نہیں جبکہ ان اسکیمات پر کام بھی شروع ہوچکا ہے مسلم لیگ ن کی رکن کشور جتک نے کہا کہ اراکین اسمبلی کو دیئے گئے اسکوارڈ میں شامل ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملیں انہیں جلد ازجلد تنخواہ ادا کی جائے ۔

اسپیکر راحیلہ حمید خان درانی نے صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک دستخط کی وجہ سے غریب ملازمین کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہوئے ہیں ملازمین کو دو ماہ کی تنخواہیں ادا کی جائیں جس پر صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ محکمہ خزانہ کو سمری ارسال کردی گئیں ہیں تنخواہیں ۔

محکمہ خزانہ کی جانب سے ادا کی جائیں گی یہ محکمہ وزیراعلیٰ کے پاس ہے وہی سیکرٹری خزانہ کو ہدایت جاری کرسکتے ہیں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ تمام اراکین اسمبلی بشمول اپوزیشن جماعتوں جمعیت علماء اسلام ، نیشنل پارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی ، بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل) ، نواب ایاز خان جوگیزئی، عارفہ صدیق کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس جمہوری دستاویز کی منظوری میں اپنا مثبت کردار ادا کیا ۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ قانون و پارلیمانی امور کے جو بھی ملازمین اٹیچمنٹ پر اسمبلی پر ہے اور انہوں نے بجٹ کی تیاری میں اپنا کردار ادا کیا ہے ان تمام ملازمین کو بونس دیا جائے گا ۔

انہوں نے سیکرٹری خزانہ کو ہدایت کی کہ اراکین اسمبلی کے محافظوں کو تنخواہیں جلد از جلد ادا کی جائیں بعد ازاں اسپیکر راحیلہ حمید خان درانی نے آج(منگل) سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا۔