کوئٹہ: بلوچستان میں حکومت سازی کیلئے جوڑ توڑ عروج پر ہے۔ تین آزاد ارکان کی شمولیت ،عوامی نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی سادہ اکثریت کے انتہائی قریب پہنچ گئی ہے۔
وزرات اعلیٰ کیلئے بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ جام کمال خان مضبوط ترین امیدوار بن گئے۔ پی ٹی آئی کے صوبائی صدر یار محمد رند نے عمران خان کی جانبس ے گورنر بلوچستان بننے کی پیش قبول نہ کرتے ہوئے وزارت اعلیٰ کے حصول کیلئے کوششیں شروع کردی ہیں جبکہ بی این پی نے حکومت میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا واضح فیصلہ نہیں کرسکی۔
25 جولائی کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنیوالی جماعتوں نے بلوچستان میں حکومت بنانے کیلئے سیاسی جماعتیں کی سرتوڑ کوششیں شروع کردی ہیں۔ مٹھا خان کاکڑ اور سردار مسعود خان لونی کے بعد چاغی سے آزاد رکن اسمبلی محمد عارف محمد حسنی بھی بلوچستان عوامی پارٹی کا حصہ بن گئے ہیں۔انہوں نے کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں بی اے پی کے سربراہ جام کمال خان کے ساتھ ملاقات کے بعد پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں پارٹی میں شمولیت کے بدلے ایک وزارت کی پیشکش کی گئی ہے۔ محمد عارف محمد حسنی کی شمولیت کے بعد پندرہ نشستوں پر کامیابی حاصل کرنیوالی بلوچستان عوامی پارٹی کے ارکان کی تعداد 18 ہوگئی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک نے بھی بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت کردی۔دونوں جماعتوں کے پاس پانچ نشستیں ہیں۔ انہیں حمایت کے بدلے صوبائی حکومت میں ایک ایک وزارت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ان دو جماعتوں کی حمایت کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی کو حکومت سازی میں 23 ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔ بلوچستان اسمبلی کی 51 میں سے 50 جنرل نشستوں پر انتخابات ہوئے ہیں۔ سادہ اکثریت کیلئے 26 ارکان کی ضرورت ہے۔ جبکہ خواتین اور اقلیت کی 14 مخصوص نشستوں کو ملاکر 64 رکنی ایوان میں حکومت بنانے کیلئے 33 ارکان کی ضرورت ہوتی ہے۔
18 ارکان کے ساتھ بلوچستان عوامی پارٹی کا خواتین کی 11مخصوص نشستوں میں 4 نشستیں حصہ بنتا ہے جبکہ تین اقلیتی نشستوں میں سے ایک نشست ملے گی۔ اس طرح باپ کے ارکان کی تعداد 23 ہوجائے گی۔
اے این پی کو خواتین کی ایک مخصوص نشست ملے گی جس کے بعد اے این پی کے ارکان کی تعداد چار ہوجائے گی۔ اے این پی کے چار اور ایچ ڈی پی کے دو ارکان کو ملاکر بلوچستان عوامی پارٹی کے حمایت یافتہ ارکان کی تعداد 29 ارکان ہوجائے گی اور اسے حکومت بنانے کیلئے مزید محض چار ارکان کی ضرورت ہے۔
سادہ اکثریت سے صرف چار نشستیں دور بی اے پی کی جانب سے وزارت اعلیٰ کیلئے جام کمال مضبوط ترین امیدوار بن گئے ہیں۔ جام کمال خان تقریباً تین ماہ قبل بنائی گئی نئی سیاسی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ ہیں۔ ان کے والد جام محمد یوسف 2002 ء سے 2007ء جبکہ ان کے داد ا جام غلام قادر بھی اپریل 1973ء سے دسمبر 1974ء تک صوبے کے وزیراعلیٰ رہے۔
اتوار کو اے این پی کی جانب سے ارباب ہاؤس کوئٹہ میں حمایت کے اعلان موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس میں پارٹی کے سربراہ جام کمال کا کہنا تھا کہ بلوچستان عوامی پارٹی متحدہ مجلس عمل اور بلوچستان عوامی پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے حکومت سازی کیلئے رابطہ کررہی ہیں۔ بلوچستان کے عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر چلیں۔

گڈ گورننس اور مالی نظم و ضبط کو صوبے کے سب سے بڑے مسائل قرار دیتے ہوئے انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت میں آنے کے بعد دونوں مسائل پر توجہ دینگے۔ بے روزگاری سمیت دیگر مسائل کے حل کیلئے بھی کوششیں کریں گے۔امید کرتے ہیں کہ بلوچستان کے مسئلے کے لیے تمام جماعتیں ساتھ دیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ خوشی کی بات ہے کہ بلوچستان میں ہم خیال اور ہم نظریات لوگ ایک ساتھ بیٹھ رہے ہیں۔
ا س وقت بلوچستان کو ان لوگوں کی ضرورت ہے جوصوبے کی ترقی چاہتے ہیں۔اس موقع پر اے این پی کے صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی صوبے کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھر کر آئی ہے ہم نے جمہوری روایات کی پاسداری کرتے ہوئے ان کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔امید کرتے ہیں کہ بی اے پی بلوچستان کی پسماندگی کے خاتمے ، سی پیک میں بلوچستان کے جائز حقوق اور مغربی روٹ پر ترجیحی بنیادوں پر کام کرے گی۔
صوبے میں امن و امان کے قیام کے لئے بھر پور اقدامات کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان سمیت ترقیاتی منصوبوں کے اہم فیصلے جاتی امراء کی کچن کابینہ کرتی تھی جس سے صوبے کی حق تلفی ہوئی اور ترقی و خوشحالی کا رخ محض پنجاب کے ایک ڈویژن کی جانب کردیا گیا۔
امید ہے کہ اب ایسا نہیں ہوگا۔دریں اثناٗ علمدار روڈ پر اپنی رہائشگاہ پر ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین عبدالخالق ہزارہ نے بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت کا حصہ بن کر بلوچستان کی ترقی میں کردار ادا کرینگے۔
ہمارا نعرہ امن، محبت اور بھائی چارہ ہے ، ہم ایک پرامن اور بھائی چارے کی فضاء کو فروغ دینگے۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے سردار یار محمد رند نے بھی حکومت سازی کیلئے آزاد ارکان اور سیاسی جماعتوں سے رابطے تیز کردیئے ہیں۔
یار محمد رند نے عمران خان کی جانب سے گورنر بلوچستان بننے کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے وزارت اعلیٰ کے حصول کیلئے کوششیں شروع کردی ہیں۔ وہ اتوار کو اسلام آباد سے کوئٹہ پہنچے۔یہاں انہوں نے مختلف آزاد ارکان اور سیاسی جماعتوں سے رابطے کئے۔
7 ارکان رکھنے والی بی این پی ا ب تک حکومت سازی کے حوالے سے فیصلہ نہ کرسکی۔ پارٹی کے ترجمان آغا حسن بلوچ کے مطابق اتوار کی شام کو پارٹی کی مرکزی کابینہ کے اجلاس میں حکومت سازی کے معاملات پر غور اور اہم فیصلے کئے گئے جس کی توثیق پیر کو مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں کی جائے گی۔
ادھر متحدہ مجلس عمل کے صوبائی صدر اور نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی مولانا نوراللہ نے بتایا کہ بلوچستان عوامی پارٹی، بی این پی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ حکومت سازی کے حوالے سے رابطے میں ہیں۔ متحدہ مجلس عمل اور جے یو آئی کی صوبائی قیادت نے اجلاس میں غورغوص کے بعد اپنی تجاویز تیار کرلی ہیں جو متحدہ مجلس عمل کی مرکزی مجلس شوریٰ کے سامنے رکھی جائیں گی۔