کوئٹہ: بی این پی مینگل نے مخلوط حکومت اور وزیراعلیٰ لانے کافیصلہ کرلیا، پارٹی نے دو رابطہ کمیٹیاں تشکیل دیدی ایک کمیٹی مرکز جبکہ دوسری صوبے میں سیاسی جماعتوں سے رابطے کرے گی۔ باپ کے دو اہم سرکردہ رہنماؤں نے سردار اختر مینگل سے ملاقات بھی کی۔
بلوچستان میں حکومت سازی میں اہم تبدیلی کے امکانات پیداہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے بلوچستان میں مخلوط حکومت اوراپنا وزیراعلیٰ لانے کافیصلہ کرلیا ہے جس کیلئے بی این پی مینگل نے سیاسی جماعتوں سے رابطہ کیلئے دو رکنی کمیٹی تشکیل دیدی ہے ، پارٹی رہنماؤں پر مشتمل کمیٹیاں مرکز اور صو بے کی سیاسی جماعتوں سے حکومت سازی کے متعلق رابطہ کرینگے۔
گزشتہ روز بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کی صدارت میں پارٹی کے مرکزی سینٹرل کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں انتخابات کے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔
اپوزیشن اور حکومت میں شامل ہونے سے متعلق سینٹرل کمیٹی کے ممبران سے رائے لی گئی، ذرائع کے مطابق اجلاس میں گزشتہ روز کابینہ میں ہونے والے اہم فیصلوں کی بھی منظوری لی گئی جن کا باقاعدہ اعلان آج پارٹی کے قائد سردار اخترجان مینگل دیگررہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کرینگے۔
دوسری جانب گزشتہ روز بلوچستان عوامی پارٹی کے دو اہم رہنماؤں نے سردار اختر مینگل سے حکومت سازی کے متعلق ملاقات کی جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ جام کمال نے الگ ملاقات کے دوران حکومت سازی کے متعلق سردار اختر مینگل سے بات چیت کی تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پیش رفت نہ ہوسکی۔
ذرائع کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل صوبے میں ایم ایم اے، بی این پی عوامی، اے این پی ، پی ٹی آئی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ ملکر حکومت بنانے پر غور کررہی ہے جبکہ پی ٹی آئی کے صوبائی صدر سے بھی بی این پی مینگل کے رہنماؤں نے حکومت سازی کیلئے ملاقات کی ہے۔
بلوچستان میں حکومت سازی کے حوالے سے اہم پیشرفت کے قوی امکانات ہیں ،بلوچستان میں حکومت سازی کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے مابین اعلیٰ سطحی رابطہ ہوا ہے ۔
تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کو ٹیلی فون کیا ہے جس میں دونوں جماعتوں کے مابین اعلیٰ سطحی ملاقات پر اتفاق کیا گیا ہے جبکہ اختر مینگل نے ایک دوروز میں اسلام آباد آنے کا عندیہ بھی دیاہے ۔
اخترمینگل کی اسلام آباد آمد کے بعد ملاقات کو حتمی شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، بلوچستان عوامی پارٹی نے ابھی تک اپنے قائد ایوان کا فیصلہ نہیں کیا ہے ،اس جماعت سے تعلق رکھنے والے کئی نومنتخب ارکان کا بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل ) کے سربراہ سے رابطے ۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعلی بلوچستان اور نومنتخب رکن اسمبلی میر جان محمد جمالی اور نوابزادہ میر طارق مگسی نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی سردار اختر جان مینگل ،نومنتخب رکن اسمبلی ثناء بلوچ سے خاران ہاؤس میں ملاقات کی ۔
ملاقات میں نئے قائد ایوان سمیت دیگر اہم مسئلوں کے بارے میں بھی تبادلہ خیا ل کیا ،ذرائع نے دعوی کیاہے کہ ابھی تک بلوچستان عوامی پارٹی نے کسی نام پر اتفاق رائے نہیں کرسکے کیونکہ میر جام کمال کے علاوہ بھی 3اور وزیراعلی بننے کے خواہشمند ہیں جن کے رابطے جاری ہے ،جس کے نتائج آئندہ چند روز میں سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔
،سابق وزیراعلیٰ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما اور نو منتخب رکن اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو نے سوموار کے روز سابق وزیراعلیٰ اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر جان مینگل سے انکی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور اُنہیں اور اُن کی جماعت کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی ۔
اس موقع پر بی این پی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے اُن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی اور ان کی جماعت کے ساتھ ان انتخابات میں ناجائز ہوا ہے اور بعض حلقوں میں دھاندلی کے ذریعے اُن کے اُمیدواروں کو ہرایا گیا ہے تاہم اس کے باوجود اُنہوں نے کڑوا گھونٹ پیا ہے۔
سابق نگران وزیراعلیٰ اور بی اے پی کے نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی سردار صالح بھوتانی اور بی این پی (عوامی)کے سینئر نائب صدر اور نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی سید احسان شاہ نے پیر کو پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدرسرداریارمحمد رند سے انکی رہائش گاہ پر الگ الگ ملاقات کی۔
بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر میرجام کمال خان عالیانی کی پی ٹی آئی کے صوبائی صدر سردار یار محمد رند سے سنی شوران ہاؤس میں اہم ملاقات تفصیلات کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر میر جام کمال خان عالیانی نے گزشتہ شب پی ٹی آئی کے صوبائی صدر اور رند قبیلے کے سربراہ سردار یار محمد رند سے سنی شوران ہاؤس میں اہم ملاقات کی ،ملاقات میں دونوں پارٹیوں کے رہنماء بھی موجود تھے ۔
ملاقات میں نئے وزیراعلی کے انتخاب سمیت نئے گورنر بلوچستان کے تقرری اور انتظامی امور کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور بعض باتوں پر اتفاق رائے ہوگیا کہ آئندہ بھی یہی سلسلہ جاری رہیگا ۔
بی این پی نے صوبے میں حکومت بنانے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دیدیں ، پی ٹی آئی و بی اے پی سے رابطے
![]()
وقتِ اشاعت : July 31 – 2018