|

وقتِ اشاعت :   July 31 – 2018

کوئٹہ: پاکستان تحریک انصاف اور بلوچستان عوامی پارٹی نے مرکز اور بلوچستان میں اتحاد کا اعلان کردیا۔ پی ٹی آئی نے وزارت اعلیٰ کیلئے بلوچستان عوامی پارٹی کے جام کمال خان کی حمایت بھی کردی ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنماء جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بالآخر وہ تبدیلی آرہی ہے جس کا انتظار تھا۔دونوں جماعتوں کی جانب سے اتحاد کا اعلان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء جہانگیر ترین ،وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی 160اوربلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ جام کمال خان نے بنی گالہ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتیہوئے کیا۔ 

اس سے قبل جام کمال کی سربراہی میں سعید احمد ہاشمی، منظور کاکڑ، عبدالقدوس بزنجو اور بلوچستان عوامی پارٹی کے نومنتخب ارکان قومی 160اسمبلی خالد حسین مگسی، زبیدہ جلال، اسرار ترین اور احسان اللہ ریکی کے علاوہ ارکان 160صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز پر مشتمل وفد نے بنی گالہ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی۔ 

ملاقات کے دوران تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک اور صوبائی صدر یار محمد رند کے علاوہ160 تحریک انصاف کے نومنتخب ارکان قومی و صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں بلوچستان اور وفاق میں حکومت سازی کے معاملات طے کئے گئے۔ 

بلوچستان عوامی پارٹی نے وفاق میں تحریک انصاف کی حمایت کا یقین دلایا جبکہ بلوچستان میں اپنی حکومت بنانے میں تعاون مانگا۔جام کمال خان نے بتایا کہ بلوچستان عوامی پارٹی اکثریتی جماعت ہے اور اس نے اتحادیوں کی مدد سے اپنی سادہ اکثریت بھی حاصل کرلی ہے اس لئے وزارت اعلیٰ ان کا حق ہے۔

تحریک انصاف کی قیادت نے یقین دلایا کہ بلوچستان میں ان کی جماعت حکومت سازی میں بی اے پی کی حمایت کرے گی۔ جام کمال نے حمایت کے بدلے تحریک انصاف کو وزارت دینے کی پیشکش بھی کی جس پر سردار یار محمد رند نے کہا کہ وزارتوں کی تقسیم کے معاملات بعد میں دیکھے جائیں گے۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے ارکان تعداد 18 ہے۔ اسے اے این پی، بی این پی عوامی اور ایچ ڈی پی کے سات ارکان کی حمایت پہلے ہی حاصل تھی۔ پی ٹی آئی کے بلوچستان اسمبلی میں ارکان کی تعداد پانچ ہیں جن کی حمایت کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی کو 30 ارکان کی واضح اکثریت مل گئی ہے۔ بلوچستان میں حکومت بنانے کیلئے سادہ صرف 26ارکان کی سادہ اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنماء جہانگیر خان ترین نے کہا کہ تحریک انصاف جام کمال اور ان کے وفد کو بنی گالہ میں خوش آمدید کہتی ہے۔ دونوں جماعتوں کے وفود کی تفصیلی ملاقات ہوئی۔جام کمال کے ساتھ ان کے تمام ارکان قومی و صوبائی اسمبلی بھی آئے۔ 

ملاقات میں مثبت باتیں ہوئیں اورتمام کے تمام نکات پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ بلوچستان اور وفاق میں انشاء اللہ اچھی ٹیم ورک بنے گی۔ہمارے درمیان ملکر جل کر کام کرنے کا جذبہ ہے۔قوم کو مبارکبار دیتا ہوں کہ بلوچستان میں جو تبدیلی آنی چاہیے تھی آخر کار وہ آرہی ہے۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ اکثریتی جماعت ہونے کے ناطے وزارت اعلیٰ بلوچستان عوامی پارٹی 160حق ہے اور بی ایپی نے وزارت اعلیٰ کیلئے جام کمال کو نامزد کیا ہیاس لئے ہم نے بھی ان کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم ان کیساتھ بھر پور تعاون کریں گے 160جس کے نتیجے میں جام کمال آسانی سے وزیراعلیٰ بن جائیں گے۔ 160

اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر کے عہدے اور وزارتوں کی تقسیم کے فارمولہ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ عہدوں کی تقسیم چھوٹی باتیں ہیں جن پر جلد اتفاق رائے کرلیا جائیگا۔

اس موقع پر بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ جام کمال خان نے پی ٹی آئی کی قیادت کا شکریہ ادا کیااور کہا کہ آج بلوچستان عوامی پارٹی اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے پاس آئی اور ان کی پوری قیادت بھی ساتھ تھی۔ ہمارا پی ٹی آئی کے ساتھ سینیٹ انتخابات سے ایک اتحاد کا سلسہ شروع ہوا اور آج160 اس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔

وفاق میں بی اے پی اگر کسی جماعت کو پاکستان اور بلوچستان کی ترقی کیلئے بہتر سمجھتی ہے تو پی ٹی آئی ہے۔ دونوں جماعتوں کے وڑن میں مشترکات پائے جاتے ہیں 160اور یہ کہ ہم نے عام بلوچستانی اور عام پاکستانی کو زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک ٹیم اور اتحادی کی صورت میں بلوچستان کے معاملات وفاق کیساتھ ملکر حل کریں گے اور وفاق کی سرپرستی کے ساتھ ایک ون یونٹ کی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ ملکر معاملات چلائیں گے۔ 160

ہم وفاق میں چار ارکان اسمبلی کے ساتھ بغیر کسی شرط کے جذبہ خیر سگالی اور مشترکہ مقصد کے تحت تحریک انصاف کیساتھ اتحاد کا اعلان کیا ہے۔جام کمال خان کا کہنا تھا کہ سردار یار محمد کے ساتھ ملکر صوبے میں بھی اتحاد بنائیں گے تاکہ صوبائی سطح پر بلوچستان کی پسماندگی، مسائل اور سیاسی مسائل کے حل کیلئے ایک راستہ نکالیں۔ 

ماضی میں بھی اسی طرح کی پریس کانفرنسز بہت ہوئیں اور زبانی کلامی بہت سارے وعدے ہوئے مگر ان میں وفا نہیں دیکھی۔ آج وقت آگیا ہے کہ پی ٹی آئی وفاق اور بی اے پی بلوچستان کی اکثریتی جماعت کی حیثیت سے بہتری کی طرف جائیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ہم مشترکہ مقاصد کے حصول، مسائل کے حل ،بلوچستان کے لوگوں کی بہتری اور معاملات کو صحیح طریقے سے نبھانے کیلئے آگے کی طرف جائیں گے۔ عمران خان اور ان کی سینئر قیادت نے ہمار اگرمجوشی سے استقبال کیا اورہم ایک اچھا پیغام لیکر بلوچستان جارہے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔ ہمارے اپنے ارکان کی تعداد انیس ہے جس میں اتحادی جماعتوں کے سات ارکان شامل ہیں۔ اب پی ٹی آئی کے مل جانے کے بعد ہم سادہ اکثریت بھی آگے بڑھ چکے ہیں۔

اس موقع پر تحریک انصاف کے مرکزی وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے 160خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی نے وفاق میں ہمارے ساتھ اتحاد کیا ہے اور پی ٹی آئی نے بھی بلوچستان میں ملکر کر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

یہ فیصلہ بلوچستان کے مفادات کے سامنے رکھتے ہوئے کیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کچھ قوتیں ایسی ہیں جو بلوچستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی کی شکل میں ہمارے ساتھ موجود یہ وہ عناصر ہیں جو محب وطن بھی ہیں اور استحکام اور ترقی اور خوشحالی دینا چاہتے ہیں۔ 

ہمارے مسائل مشترکہ اور ایک جیسے ہیں ان کے حل کیلئے ہم نے ملکر چلنا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ 160بلوچستان کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے مشکل حالات میں انتخابات میں حصہ لیا۔

انتخابات کے دن کوئٹہ میں دھماکے میں اکتالیس افراد کی شہادت کے باوجود بلوچستان کے لوگ ڈرے نہیں اور وہاں سے مثالی ٹرن آؤٹ سامنے آیا۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان سے پہلی مرتبہ ایسی قیادت سامنے آئی ہے جو مرکز کیساتھ محاذ آرائی نہیں بلکہ تعاون دوستی اور خیر سگالی چاہتی ہے۔ 

ماضی میں مرکز اور وفاق کے درمیان اختلافات اور تناؤ دکھائی دیتا تھا۔ اب وفاق اور صوبے نے ملکر چلنے کیلئے شراکت داری کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ایک نئی سوچ ہے جو بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کی جدوجہد میں پیشرفت لائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکز میں بھی پی ٹی آئی قابل اطمینان اکثریت حاصل کرچکی ہے اس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔