کوئٹہ: سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کے چھوٹے بھائی سینیٹر نعمت اللہ زہری پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔ جس کے بعد بلوچستان اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد 6 ہوگئی ہے۔
نعمت اللہ زہری سکندر آباد(سوراب) سے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 36 سے آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے تھے۔ انہیں پی ٹی آئی کے علاوہ بلوچستان عوامی پارٹی نے بھی پارٹی میں شمولیت کی دعوت دے رکھی تھی۔
تاہم اتوار کی رات کو انہوں نے کوئٹہ میں اپنی رہائشگاہ پر پی ٹی آئی کے صوبائی صدر سردار یار محمد رند کے ہمراہ پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کی دعوت قبول کی اور کہا کہ ان کے سردار یار محمد رند صوبے کی قدآور سیاسی شخصیت ہیں ، ان آج کا نہیں بلکہ باپ دادا کے دور سے تعلق ہے۔
امید ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت ہمارے توقعات پر پورا ترے گی۔نعمت اللہ زہری 2015ء میں بلوچستان سے جنرل سیٹ پر ایوان بالا(سینیٹ ) کے ممبر بھی منتخب ہوئے تھے۔ بلوچستان اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھانے سے پہلے انہیں سینیٹر کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑے گا۔ نعمت زہری کی شمولیت کا پی ٹی آئی کو دگنا فائدہ ہوگا۔ بلوچستان اسمبلی کی خواتین کی ایک بجائے اب دو مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کے حصے میں آئیں گی۔
پی ٹی آئی کے صوبائی صدر یار محمد رند نے نعمت زہری کی شمولیت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے یقین دلایا کہ ہماری بھر پور کوشش ہوگی کہ ان کے اعتماد پر پورا اتریں۔نعمت زہری کی شمولیت کے بعد پی ٹی آئی کی پارلیمانی طاقت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ہماری کوشش ہوگی کہ اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں مرکزی قیادت کے ساتھ ملاقات میں ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ بلوچستان عوامی پارٹی مرکز میں پی ٹی آئی اور ہم صوبے میں ان کی مدد کریں گے۔ہم اپنے اس فیصلے پر قائم ہے۔ اگر باپ خود اپنی حکومت بناتی ہے تو بھی ہم تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں اور اگر ہم آزاد بنچوں پر بیٹھتے ہیں تب بھی جام کمال کو اعتماد کا ووٹ دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ ہماری جماعت کی اپنی سوچ ، وڑن اور نعرہ ہے اور ہم اس کے تحت مینڈیٹ لیکر آئے ہیں اس لئے ہم نے بلوچستان عوامی پارٹی کے ساتھ حکومت سازی کیلئے بات چیت کے دوران اپنے نو نکات پیش کئے ہیں۔حکومت سازی کے معاملات پر ہم ان نو نکات پر ہی ملکر آگے چل سکتے ہیں اس پر جام کمال نے وقت مانگا ہے اور مثبت جواب دینے کا یقین دلایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بھی عمران خان نے ملاقات کے دوران جام کمال کو واضح کہا کہ آپ نے صوبے سے کرپشن ختم کرنی ہے۔ تعلیم اور صحت کو ترجیح دینی ہے اور چوتھی ترجیح پولیس اور امن وامان سے متعلق اصلاحات کرنا ہے۔
پی ٹی آئی کے صوبائی صدر نے کہا کہ ہم حکومت کا حصہ ہوں یا نہ ہوں ، جام کمال کے مثبت کاموں کو سپورٹ کریں گے۔غلط کام اور صوبے کے وسائل لوٹنے والوں کا ہاتھ روکیں گے۔ ہمارے لئے سب سے پہلے بلوچستان اور اس ملک کے غریب انسان ہیں جس کے ساتھ عمران خان نے وعدہ کیا ہے اور یہ وعدہ ضرور پورا کریں گے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر بلوچستان عوامی پارٹی حکومت بنائے گی تو ہم سپورٹ کریں گے اگر نہ بنا سکے تو ہم کیسے سپورٹ کرسکتے ہیں۔ اگر بی اے پی حکومت نہ بناسکی تو پھر ہم مستقبل کیلئے اپنا لائحہ عمل طے کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان کی زیادہ سے زیادہ جماعتیں مرکز میں ہمارے اتحاد کا حصہ بنیں تاکہ بلوچستان کے مسائل نہ صرف اجاگر بلکہ حل بھی ہوں۔
سردار یار محمد رند نے کہا کہ سردار اختر جان مینگل سے حکومت سازی سے متعلق پہلے رابطے تھے۔ مرکز میں ہماری جماعت کے اعلان سے قبل ہم بلوچستان میں حکومت بنانے کے قابل تھے مگر جس دن پارٹی نے فیصلہ کیا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کو سپورٹ کریں گے اس کے بعد ہم نے حکومت سازی کی کوششیں نہیں کیں۔
سردار اختر مینگل کے مطالبات اور ہمارے مطالبات میں بہت حد تک مماثلت پائی جاتی ہیں۔ عمران خان نے ان کے مطالبات پر مثبت پیغام دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کے ساتھ ہمارے قریبی تعلقات ہیں تاہم مرکز میں مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کی سیاسی سوچ میں اختلافات ہیں۔
پارٹی کی جانب سے بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت کے فیصلے کے بعد جمعیت علماء اسلام سے حکومت سازی سے متعلق کوئی رابطہ نہیں ہوا۔بلوچستان کے فیصلے بنی گالہ سے ہونے اور جہانگیر ترین کی جانب سے جام کمال کا وزارت اعلیٰ کیلئے نامزدگی کے اعلان سے متعلق سوال پر سردا ریار محمد رند نے کہا کہ وہ اس سوال کا جواب نہ دیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔
نعمت زہری پی ٹی آئی میں شامل، بلوچستان میں باپ کی حمایت کے فیصلے پر قائم ہیں ، یار محمد رند
![]()
وقتِ اشاعت : August 6 – 2018