کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کا اجلاس صوبے میں نئے ڈیمز کی تعمیر ،بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ پر وفاق سے رابطہ کا فیصلہ ۔
سیندک گولڈ اینڈ کاپر پراجیکٹ پر اختیاراور کوئٹہ میں پانی کے بحران سے متعلق قراردادیں موخر کردی گئیں دیگر ممالک سے سبزیوں اور پھلوں پر پابندی سے متعلق قرار داد ایوان میں اکثریت رائے سے منظور کرلی گئی ۔
تفصیلا ت کے مطابق بلوچستان کی گیارویں اسمبلی کے پہلے پارلیمانی سال کا تیسرا اجلاس گزشتہ روز قائمقام اسپیکر بلوچستان اسمبلی سرداربابر موسیٰ خیل کی صدارت میں منعقدہ ہوا اجلاس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن نصراللہ زیرئے نے ڈیموں کی تعمیر سے متعلق قرار دادایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا ہے ۔
بلوچستان میں زیر زمین پانی کی گرتی سطح خطرناک صورتحال اختیار کرچکی ہے جبکہ صوبے کی 75فیصد آبادی کا انحصار زراعت اور گلہ بانی پر ہے خشک سالی کے باعث صوبے کی زراعت اور گلہ بانی تقریباختم ہونے کو ہے انہوں نے کہا ہے پانی کے بحران سے نمٹنے کیلئے بلوچستان میں نئے ڈیموں کی تعمیر ناگزیز ہے اس لئے یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتی ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں تعمیر کردہ ڈیمز جن میں برج عزیز خان ، گریشہ خضدار ، ہلک اور دریائے ژوب شامل ہیں کے مقامات پر فوری طو رپر نئے ڈیمز کی تعمیر کے لئے عملی اقدامات اٹھائے۔
قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے نصراللہ زیرئے نے کہا کہ ہمارا صوبہ ماضی قریب تک ایک طویل خشک سالی اور قحط سالی سے دوچار رہا ہے 1997ء سے2005ء تک صوبے میں جاری رہنے والی خشک سالی اور قحط سالی کے دوران 45لاکھ پھلدار درخت سوکھ گئے تین ہزار سے زائد کاریزات اور چشمہ جات خشک ہوگئے جبکہ ایک اندازے کے مطابق اس صورتحال کے باعث ہمارے زمینداروں اور گلہ بانوں کو 6سو ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا 2005ء کے بعد ایک دو سال بارشیں ہوئیں مگر اب پھر سے صوبہ خشک سالی کی لپیٹ میں ہے زیر زمین پانی کے ذخائر دن بدن کم ہوتے جارہے ہیں اس صورتحال کے تدارک کے لئے ہمیں بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔
صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ خشک سالی اور دیگر وجوہات کی وجہ سے ہمارے صوبے میں زراعت کا شعبہ بہت زیادہ مسائل کا شکار ہے ہمیں زراعی شعبے کے تحفظ اور درپیش صورتحال سے نمٹنے کے لئے 120ارب روپے فراہم کئے جائیں ہم اس میں زرعی شعبے کو بھی بچائیں گے ڈیمز بھی تعمیر کریں گے ۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبے میں زیر زمین پانی کی سطح دن بدن نیچے جارہی ہے وہ علاقے جہاں ڈھائی سو یا تین سو فٹ پر پانی دستیاب تھا اب وہاں زیر زمین8سوہزار فٹ پر بھی پانی نہیں مل رہا قلعہ عبداللہ سمیت بعض دیگر علاقوں میں زیر زمین ذخائر ختم ہونے کے قریب ہیں اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہمیں زرعی شعبے میں جدت لانی ہوگی ہمیں ٹنل فارمنگ کو یقینی بنانا ہوگا قطراتی طرز آب پاشی کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا ہوگا ایسے درخت اور ایسی فصلوں کی جانب جانا ہوگا جو کم پانی پیتے ہوں ۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے زمیندار سال بارہ مہینے محنت کرتے ہیں اور مختلف مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں مگر عین سیزن میں ہمسایہ ممالک سے پھلوں اور سبزیوں کی درآمد شروع ہوجاتی ہے یہ صورتحال تشویشناک ہے اس حوالے سے ایک کمیٹی میری سربراہی میں قائم کردی گئی ہے جس میں زمینداروں کے نمائندے بھی شامل ہیں اور مختلف محکموں کے سیکرٹریز بھی ہیں ہم تمام حالات کا جائزہ لے کر سفارشات دیں گے اور اس مسئلے پر وفاق میں بھی جائیں گے ۔
بعدازاں ایوان نے قرار داد کو متفقہ طو رپر منظور کرلیا ۔ بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے قرار داد جمعیت العلماء اسلام کے ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں حالیہ بے تحاشہ اضافہ نے گھریلو صارفین کے نہ صرف دل ہلا کر رکھ دیئے ہیں بلکہ انہیں مفلوج بھی کردیا ہے اب بجلی کے ایک یونٹ کی قیمت5روپے79پیسے مقرر کی گئی ہے اس پر مزید ظلم عظیم یہ ہے کہ ایک سے100یونٹ تک فی یونٹ 5روپے79پیسے ،100یونٹ سے200یونٹس تک 8روپے11پیسے ، تین سو یونٹ تک فی یونٹ10روپے20 پیسے مقرر کی گئی ہے نیز اگر گھریلو صارف 700یونٹ استعمال میں لائے تو فی یونٹ14روپے 12پیسے اور اگر1000یونٹ استعمال میں لائے تو فی یونٹ16روپے12پیسے کے حساب سے ادائیگی کرنی پڑتی ہے جبکہ دنیا کامسلمہ قاعدہ اور تجارت کا طے شدہ اصول ہے کہ زیادہ اشیاء کی خریداری پر قیمت خرید کم کردی جاتی ہے لیکن اس کے برعکس ملک میں زیادہ بل پر قیمت بڑھادی جاتی ہے جو سراسر زیادتی و ظلم کے مترادف ہے ۔قرار داد میں صوبائی حکومت سے سفارش کی گئی کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ بے تحاشہ اضافہ واپس اور پرانی قیمتیں بحال کرے تاکہ ملک اور صوبے کے عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور احساس محرومی کا خاتمہ ممکن ہو۔
قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں کا تعین عجیب سے طریقے سے کیا جاتا ہے ۔ایک صارف جس قدر زیادہ بجلی استعمال کرتا ہے اس کے لئے بجلی کی قیمت کم ہونے کی بجائے زیادہ ہوتی جاتی ہے جبکہ فی یونٹ بجلی پر فنانشل کاسٹ ، جی ایس ٹی ،ٹی وی فیس ، نیلم جہلم اور ایمنسٹی ڈیوٹی الگ سے عائد کی جاتی ہے اس طرح بجلی کی فی یونٹ کی قیمت عام آدمی کے لئے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک پسماندگی کا شکار صوبہ ہے صوبائی حکومت کو چاہئے کہ وہ اس اہم مسئلے پر خاموش رہنے کی بجائے وفاقی حکومت اور متعلقہ محکمے سے بات کرے ۔
پشتونخوا میپ کے رکن نصراللہ زیرئے نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم قرار داد ہے آئین کا آرٹیکل157ہمیں بطور صوبہ بجلی کے نرخ خود طے کرنے کا اختیار دیتا ہے مگر یہاں ہمیں یہ اختیار دینے کی بجائے ہم سے من چاہی قیمتیں وصول کی جارہی ہیں جبکہ بجلی کی طرح گیس بلوں کا طریق کار بھی نامناسب اور ناانصافی پر مبنی ہے انہوں نے کہا کہ بجلی کااستعمال اگر ہم زیادہ تر زرعی مقاصد کے لئے کرتے ہیں تو گیس کا استعمال ہم سردیوں میں اپنی جانیں بچانے کے لئے کرتے ہیں نرخنامے کے تعین کا اختیار صوبائی حکومت کو دیا جائے اور اس پر عملدرآمد کیا جائے ۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء بلوچ نے کہا کہ میں پوائنٹ آف آرڈر پر بجلی کے مسئلے پر بات کرنا چاہتا تھا تاہم اب قرار داد آگئی ہے تو میں چاہتا ہوں کہ بعض چیزیں یہاں اس ایوان کے سامنے رکھوں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں2280میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے اور ہمیں ملنے والی بجلی تین چار سو میگاواٹ سے زیادہ نہیں مجموعی طور پر پورے ملک میں اس وقت 19ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے19ہزار میگاواٹ کا اگر زکواۃ بھی نکالیں تو وہ بلوچستان کو ملنے والی بجلی سے زیادہ ہوگی بجلی صوبے کی ترقی کے لئے ضروری ہے اس کا استعمال صرف روشنی کے لئے نہیں ہوتا بلہ زرعی مقصد کے لئے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے بجلی تعلیم کے لئے ضروری ہے صحت کے شعبے میں بجلی بہت ضروری ہے کاروبار کے لئے اس کی اہمیت اور افادیت ہے مگر افسوس ہے کہ بلوچستان کو بجلی کی مد میں بھی اس کا جائزحق نہیں دیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد بلوچستان کے پاس پیسہ تو بہت آیا مگر بلوچستان میں نہ تو بجلی خریدی گئی نہ بجلی بنائی گئی نہ ٹرانسمیشن لگائی گئی سی پیک کے تحت بجلی کے جتنے بھی منصوبے آئے ان میں بھی ہمارے صوبے کو نظر انداز کیا گیا جو پاور جنریشنز بنے وہ سندھ اور پنجاب میں بنے اس وقت پورے ملک میں 5سو کے وی اے کی7ہزار کلو میٹر لائنیں این ٹی ڈی سی کی ہیں مگر بلوچستان میں این ٹی ڈی سی کی لائنیں صرف 27کلو میٹر ہے وہ بھی ریورس یعنی حبکو سے جو بجلی پیدا ہوتی ہے اسے حب سے کراچی لیجانے کے لئے۔
انہوں نے کہا کہ گیس کی اگر بات کی جائے تو ہمیں ویل ہیڈ پرائس 70روپے مل رہی ہے جبکہ مارکیٹ میں اس گیس کی ویلیو 280روپے ہے سی پیک کے تحت بلوچستان میں کوئی ٹرانسمیشن لائن نہیں بچھی بلوچستان کے دیہی علاقے آج بھی قرون وسطیٰ کا منظر پیش کررہے ہیں 29کھرب ہم نے گیس کی مد میں وفاق کو دیئے بلوچستان جو ایک غریب صوبہ ہے وہ صرف گیس کی مد میں 7کھرب روپے سبسڈی دیتا ہے ہمارے ساتھ کوئی آکر حساب کتاب تو کرے اسلام آباد کا پتہ پتہ ہمارا قرضدار نکلے گا آج بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے بچے سی ایس ایس او رپی سی ایس کی تیاری نہیں کر پاتے انہوں نے تجویز دی کہ اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو نہ صرف بلوچستان میں بجلی کی ضروریات کا جائزہ لے بلکہ اس سلسلے میں وفاق سے بھی بات کی جائے ہمارا جو جائز حق بنتا ہے وہ ہمیں دیا جائے اگر رعایت نہیں دی جاتی تو پھر بلوچستان گیس کی مد میں جو سبسڈی دے رہا ہے وہ ہم ختم کردیتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ کیسکو چیف کو بلا کر ان پر واضح کیا جائے کہ اگر یہ جگا شاہی ختم کی جائے بلوچستان کے زمینداروں کو سبسڈی دے کر ہم پر کوئی احسان نہیں کیا جارہا باقی صوبوں کو جتنی بجلی مل رہی ہے ہمارا بھی اتنا ہی حق ہے آئین کا آرٹیکل38ضمانت دیتا ہے کہ کسی کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک نہیں کیا جائے گا ۔
وزیر اعلیٰ کے مشیر مٹھا خان کاکڑ نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں کا ہم سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہمیں تو بجلی مل ہی نہیں رہا نہ زمینداروں کو زرعی مقاصد کے لئے بجلی دستیاب ہے اور نہ ہی ہمارے شہروں میں بجلی فراہم کی جارہی ہے جب ہمیں بجلی ملتی ہی نہیں تو پھر ہم قیمتوں کا رونا کیوں روئیں یہ بات تو وہ لوگ کریں جنہیں بجلی مل رہی ہے اور جو بہت زیادہ بجلی خرچ کرتے ہیں ہمارے توباغات خشک ہوگئے ہیں اور زراعت تباہی ہوگئی ہے بجلی ہمیں نہیں مل رہی واپڈا والے اپنے کھمبے اور تاریں اتار کر لے جائیں ہم شمسی توانائی پر گزارہ کرلیں گے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے ملک نصیر شاہوانی نے کہا کہ ہمارے صوبے کو جو نقصانات ہورہے ہیں ان کی بڑی وجہ بجلی کی عدم دستیابی ہے ۔ ہمارااتنا بڑا صوبہ ہے مگر ہمیں جو بجلی مل رہی ہے وہ صرف لاہور او ر کراچی شہر جتنی بھی نہیں 19ہزار میگاواٹ میں بلوچستان کا موجودہ کوٹہ6فیصد ہے اگر وہ بجلی بھی ہمیں پوری دے دی جائے تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں مگر ہمیں بجلی نہیں مل رہی جو بجلی دستیاب ہے اس میں وولٹیج کی کمی بیشی کا مسئلہ درپیش رہتا ہے اس کے نتیجے میں ہماری زراعت تباہ ہوچکی ہے اور ایک بحرانی کیفیت ہے ۔
بلوچستان عوامی پارٹی کے محمدخان لہڑی نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اوچ پاور پلانٹ نصیر آباد میں ہے مگر نصیر آباد میں بھی بجلی دستیاب نہیں سیزن میں بھی ہمیں پوری بجلی نہیں ملتی مگر بل سو فیصد بھیجے جاتے ہیں کیسکو چیف کو ایوان میں بلا کر انہیں پابند کیا جائے کہ کیسکو صوبے کو پوری بجلی کی فراہمی یقینی بنائے اور اوور بلنگ سمیت جتنے دیگر مسائل ہیں وہ حل کئے جائیں اقلیتی رکن دنیش کمار نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں جہاں جہاں اقلیتی برادری کے اکثریتی علاقے ہیں وہاں ٹرانسفارمرز کی خرابی کے بعد ان سے پیسے لے کر ٹرانسفارمر ز کی مرت ہوتی ہے پچھلے دنوں مانجھی پور سے ایک پنچائیت یہی شکایت لے کر یہاں کوئٹہ آئی تھی کیسکو چیف کو بلا کر ان سے بریفنگ لی جائے کہ یہ شکایات کیونکر آرہی ہیں ۔
صوبائی وزیر خزانہ میر عارف محمد محمد حسنی نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے صوبے میں زیر زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جارہی ہے زرعی مقاصد کے لئے ہم مسلسل پانی نکال رہے ہیں شاید اس میں بھی اللہ کی جانب سے کوئی بہتر ی ہو کہ بجلی پوری نہیں مل رہی ورنہ شاید تین چار سال میں زیر زمین پانی ہی ختم ہوجاتا لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ضروری ہے ۔
بعدازاں ڈپٹی سپیکر نے قرار داد منظوری کے لئے ایوان کے سامنے رکھی جس کی ایوان نے متفقہ طو رپر منظوری دے دی ۔اجلاس میں بی این پی کے ثناء بلوچ نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد سیندک گولڈ اینڈ کاپر پراجیکٹ کا کنٹرول بلوچستان حکومت کو منتقل کرنے سے متعلق اپنی قرار داد پیش کئے جانے کے موقع پر سپیکر سے استدعا کی کہ ان کی قرار داد آئندہ اجلاس کے لئے موخر کی جائے تاکہ وزیراعلیٰ اور دیگر ممبران کی موجودگی میں اس پر زیادہ بہتر انداز میں بحث کی جاسکے ۔
صوبائی حکومت کی جانب سے انجینئرزمرک خان نے کہا کہ یہ قرار داد بہت اہم ہے ہم بھی اس کے تمام پہلوؤں کو دیکھنا چاہتے ہیں لہٰذا قرار داد آئندہ اجلاس کے لئے موخر کی جائے جس پر سپیکر نے محرک کی استدعا پر قرار داد آئندہ اجلاس کے لئے موخر کرنے کی رولنگ دی ۔ اجلاس میں پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے کہ قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے زرعی فصلات جن میں سیب ، ٹماٹر و دیگر فصلات شامل ہیں ایکسپورٹ کی سہولیات و انتظامات نہ ہونے کی بناء پر ان کی قیمتیں انتہائی کم ہو گئی ہیں اس وجہ سے زمیندار ان پھلوں کو پھینکنے پر مجبور ہیں صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ سیب اور ٹماٹر کو بیرون ملک ایکسپورٹ کرنے کی سہولیات و انتظامات کو یقینی بنانے کے لئے فوری عملی اقدامات اٹھائے تاکہ صوبے کے زمینداروں کو ان کی محنت کا ثمر مل سکے ۔ اپنی قرار داد کی موزونیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے ۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں پھل انگور کھجور ٹماٹر پیاز سالانہ لاکھوں ٹن پیدا ہوتے ہیں مگر ہمارے ہاں سے ایکسپورٹ کچھ نہیں ہورہا مگر یہ تمام چیزیں ہمسایہ ممالک سے امپورٹ ہورہی ہیں ہماری سب سے اہم پیداوار سیب ہے جو سالانہ 12لاکھ ٹن پیدا ہوتی ہے مگر ہم بمشکل دس ہزار ٹن سیب ہی ایکسپورٹ کرپاتے ہیں جب ہمارے ہاں سیب سمیت دیگر پھل اور ٹماٹر پیاز کی فصلیں تیار ہوتی ہیں تو اسی وقت ہمسایہ ممالک سے یہ چیزیں امپورٹ کی جاتی ہیں جس سے ہمارے زمینداروں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ اکثر اوقات زمیندار اپنے اخراجات تک پورے نہیں کرپاتے ہیں اس کے برعکس ہمسایہ ممالک میں جب کوئی فصل یا باغات تیار ہوتے ہیں تو اس دوران باہر سے وہ چیزیں لانے پر پابندی عائد کی جاتی ہے ۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت ایسے اقدامات کرے کہ ہمارے زمینداروں کو مالی نقصانات سے نجات مل جائے اور انہیں ان کی محنت کا بہتر صلہ ملے ۔ صوبائی وزیر میر ضیاء لانگو نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں مختلف پھل اور سبزیوں کے تیار ہونے کے موقع پر باہر سے ان کی امپورٹ پر پابندی لگائی جائے ۔
بی این پی کے ملک نصیر احمد شاہوانی نے کہا کہ ہمارے 80فیصد عوام کا ذریعہ معاش زراعت اور گلہ بانی سے وابستہ ہے زرعی شعبے میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں یہاں پیداواری لاگت بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ بجلی ، کھاد ، زرعی آلات اور زرعی ادویات انتہائی مہنگے ہیں صوبے میں سالانہ12لاکھ ٹن سیب کی پیداوار ہماری ضروریات سے بہت زیادہ ہے مگر یہ سیب ایکسپورٹ تو نہیں کیا جاتابلکہ اس کے برعکس ایران سے سیب لانے کی اجازت دی جاتی ہے جبکہ امپورٹ پرمٹ کے بغیر بھی غیر قانونی طریقے سے پھل وغیرہ لائے جاتے ہیں بلوچستان میں گزشتہ کئی سال سے خشک سالی کا سلسلہ جاری ہے زمینداروں کو کوئی مراعات نہیں مل رہیں ہمارے صوبے کی 70لاکھ سیب کی پیٹیاں اس وقت لاہور کی منڈی میں موجود ہیں اس کے بعد ہمسایہ ملک سے سیب لانے کی اجازت دینا سمجھ سے بالاتر ہے اس کی روک تھام کی جائے ۔
پاکستان تحریک انصاف کے میر عمر خان جمالی نے کہا کہ کسی بھی فصل یا پھلوں کی تیاری سے تین ماہ قبل ان کی مارکیٹنگ کے لئے پالیسی بنائی جائے جن جن اضلاع میں سبزیوں اور پھلوں کی زیادہ پیداوار ہوتی ہے وہاں سٹوریج کی سہولت فراہم کی جائے زمینداروں کو ان کے فصلوں اور پھلوں کی بہتر قیمتوں کی ادائیگی کو یقینی بنائے بغیر زراعت کو فروغ دینا ممکن نہیں ہے ۔ مثبت پالیسیاں بنا کر ہی ہمارے زمینداروں کو مشکلات سے نجات دلائی جاسکتی ہے ۔
بلوچستان عوامی پارٹی کے محمدخان لہڑی نے کہا کہ ہمسایہ ممالک سے پھل اور سبزیاںآنے سے ہمارے زمینداروں کو شدید معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑرہاہے ہمارے ہاں جب سیب سمیت دیگر پھل ٹماٹر اور پیاز تیار ہوتے ہیں تو ہمسایہ ممالک سے بھی یہ چیزیں لانے کی اجازت دی جاتی ہے جس سے زمینداروں کو ان کی فصلوں اور پھلوں کی قیمت تو نہیں ملتی بلکہ اکثر اوقات وہ قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں اس سلسلے میں ایسی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جس سے زمینداروں کی مشکلات کا خاتمہ ہو ۔
صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ زمینداروں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے وزیراعلیٰ کی جانب سے میری سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جس کا ہم دو دن میں اجلاس بلا رہے ہیں اس میں زمینداروں کی مکمل نمائندگی ہوگی اٹھارہویں ترمیم کے بعد زراعت کا شعبہ صوبے کے پاس آگیا ہے مگر پھلوں اور دیگر سبزیوں کے امپورٹ کے لئے لائسنس وفاقی حکومت سے جاری ہوتے ہیں اس پر ہم وفاق سے بات کریں گے کہ کم از کم جب ہمارے ہاں مختلف پھل اور سبزیاں تیار ہوں تو اس دوران باہر سے ایسی کوئی چیز امپورٹ کرنے کی اجازت نہ دی جائے ہم ہر حال میں اپنے زمینداروں کے مفادات کا تحفظ کریں گے ۔ اسلام آباد میں صوبائی وزرائے زراعت کے اجلاس میں میں نے یہ موقف اٹھایا کہ زراعت کے شعبے میں وفاق مداخلت نہ کرے جس پر وفاقی حکومت کی جانب سے یقین دلایا گیا کہ وفاق بلوچستان میں کوئی مداخلت نہیں کررہا بلکہ وفاق زراعت کے شعبے میں بلوچستان کی مدد کرنا چاہتا ہے میں نے اجلاس میں واضح کیا کہ بلوچستان اپنے وسائل کے حوالے سے انتہائی امیر ترین صوبہ ہے مگر اس کے عوام انتہائی غربت کا شکار ہیں ہمارے وسائل پر ہمیں اختیار ملنا چاہئے پوری محنت کے باوجود ہمارے زمینداروں کو ان کا حق ملنا تو درکناران کے اخراجات بھی پورے نہیں ہورہے ۔
انہوں نے تجویز دی کہ قرار داد کو ایوان کی مشترکہ قرار داد کے طو رپر منظور کیا جائے بعدازاں ایوان نے قرار داد کو پورے ایوان کی مشترکہ قرار داد کے طور پر متفقہ طور پر منظور کرلیا ۔
اجلاس میں جے یوآئی کے ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ شہر و گردونواح کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کی غرض سے7ارب روپے سے زائد لاگت کا ایک بڑا منصوبہ کوئٹہ واٹرسپلائی پراجیکٹ کے نام سے شروع کیا گیا جس میں شہر کے دیگر علاقوں کے علاوہ حلقہ نمبر25کی یونین کونسلز جن میں نواں کلی ، کوتوال ، کلی عمر ،شیخ ماندہ ، خیزی ، سمنگلی اور ان سے ملحق علاقے شامل ہیں میں پانی کے پائپ لائن بچھائے گئے لیکن تاحال ان یونین کونسلز اور ان سے ملحقہ علاقوں کو پینے کا پانی فراہم نہیں کیا جارہا ۔ یہ بھی طے پایا تھا کہ تکتو کے دامن میں مزید بورز لگائے جائیں گے لیکن اب تک مذکورہ علاقے میں حسب ضرورت پانی کے بورز نہیں لگائے گئے جس کی وجہ سے علاقے کے لوگ پینے ک پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں قرار ادد میں صوبائی حکومت سے سفارش کی گئی کہ وہ کوئٹہ شہر و گردونواح اور حلقہ25کی یونین کونسلز نواں کلی ، کوتوال ، کلی عمر ، شیخ ماندہ ، سمنگلی اور ان سے ملحق علاقے شامل ہیں کو فوری طور پر پانی کی فراہمی کو جلد ازجلد یقینی بنانے کے لئے تکتو کے دامن میں حسب ضرورت پانی کے مزید بورز لگانے کو یقینی بنائے تاکہ کوئٹہ شہر کے عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور احساس محرومی کا ازالہ ممکن ہوسکے ۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے اراکین احمد نواز بلوچ ، اختر حسین لانگو ، پشتونخوا میپ کے نصراللہ خان زیرئے ، تحریک انصاف کے مبین خلجی نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں پانی کی فراہمی کے لئے 2003ء میں آٹھ ارب روپے سے شروع ہونے والا منصوبے کا تخمینہ اب 28ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے مذکورہ ٹھیکے کو بغیر کسی ٹینڈر کے این سی بی کو دیاگیا تھا جس نے فیز ون اور فیز ٹو پر کام شروع کرنے کی بجائے فیز تھری پر کام شروع کرکے اربوں روپے کے پائپ لائن زیر زمین بچھاکر منصوبے کی افادیت کو نقصان پہنچایا ۔
انہوں نے کہا کہ کوہ مردار اورکوہ تکتو میں ڈیمز قائم کرکے کوئٹہ شہر کو پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے جبکہ مانگی ڈیم کی تعمیر کا کام تیز کرکے منصوبے کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں اکثر سروس سٹیشنز کو واسا کی پائپ لائنوں سے پانی فراہم کیا جارہا ہے جنہیں منقطع کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں گزشتہ دور حکومتوں کے ادوار میں 265ٹیوب ویل لگائے گئے جن میں 117ٹیوب ویل اس وقت غیر فعال ہیں جنہیں واسا ٹیک اوور کرنے پر رضامند ہی نہیں ۔
گھروں،پارکوں،سرکاری دفاتر اور عمارتوں میں لگائے گئے سبزہ زاروں کو پینے کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ مانگی ڈیم اور کوہ مردار اور تکتو کے دامن میں نصب ٹیوب ویلز کا پانی کوئٹہ تک پہنچایا جائے تو پانی کا 50فیصد مسئلہ حل ہوجائے گا اراکین اسمبلی نے اس بات پر شدید تشویش کااظہار کیا کہ شہر میں ٹینکر مافیا نے عوام کو یرغمال بنارکھا ہے جن کو اراکین کے بقول محکمہ واسا کی پشت پناہی حاصل ہے اور این اوسی لئے بغیر سینکڑوں ٹیوب ویل نصب کئے گئے ہیں جن سے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔
انہوں نے تجویز دی کہ پارلیمانی کمیٹی قائم کرکے اس حوالے سے تحقیقات کی جائیں ۔صوبائی وزیر خزانہ میر عارف محمد حسنی نے ایوان کو یقین دلایا کہ اس ضمن میں واسا حکام کو ایک دو روز میں طلب کریں گے تاکہ وہ اراکین اسمبلی کو بریفنگ دے سکیں بعدازاں صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ چونکہ قرار داد میں جن علاقوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کے حوالے سے میرے پاس معلومات نہیں وزیراعلیٰ اور صوبائی وزیر پی ایچ ای کے آنے تک معزز رکن اپنی قرار داد موخر کرنے کی اجازت دیں آئندہ اجلاس میں اس پر تفصیل سے بات کی جائے گی ۔ صوبائی وزیر کی استدعا پر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے اپنی قرار داد موخر کرنے پر اعتراض نہیں کیا جس پر سپیکر نے ان کی قرار داد اگلے اجلاس تک موخر کرنے کی رولنگ دی اور بعدازاں اجلاس یکم اکتوبر تک ملتوی کردیاگیا۔
بجلی کی قیمتیں کم کی جائیں، بلوچستان اسمبلی کا ڈیمز کی تعمیر کیلئے وفاق سے رابطے کا فیصلہ
![]()
وقتِ اشاعت : September 29 – 2018