کوئٹہ: صدرمملکت عارف علوی کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے رجوع کرنے سمیت کسی بھی معاملے پر رائے کی تبدیلی بری بات نہیں۔ حقائق جاننے پر رائے بدلنا یوٹرن نہیں بلکہ فخر کی بات ہے۔ کوئٹہ میں پانی کے بحران کے حل کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ سیوریج کے پانی کو استعمال میں لانے کیلئے منصوبہ بندی کی جائے گی۔وفاق بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن تعاون کرے گا۔
یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں گورنر ہاؤس کوئٹہ میں گورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی ، وزیراعلیٰ جام کمال خان اور بلوچستان کابینہ کے ارکان سے ملاقاتوں اورڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی والدہ کی وفات پر تعزیت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر گورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی ،وزیراعلیٰ جام کمال اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری بھی موجود تھے۔ صدرمملکت عارف علوی نے کہا کہ آج کوئٹہ آنے کا مقصد نہ صرف قاسم سوری کی والدہ پر تعزیت کرنا بلکہ بلوچستان کے مسائل سے متعلق پہلے سے طے شدہ اجلاسو ں میں شرکت کرنا بھی تھی۔
گورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی ملاقات ہوئی۔ وزیراعلیٰ جام کمال اور صوبائی کابینہ کے ارکان سے بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔ بلوچستان خاص طور پر کوئٹہ میں پانی کی قلت دور کرنے کیلئے بعض امور طے کئے گئے۔
یہ طے پایا کہ کوئٹہ کے سوریج کے پانی کو صاف کرکے کم سے کم گرین بیلٹ کیلئے اورگھروں کے اندر فلیشنگ کیلئے استعمال میں لایا جائے۔ یہ ایک فوری حل ہے اوراس سلسلے میں وفاقی وزیر قدرتی و آبی وسائل سے بھی بات ہوئی ہے انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اس منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ دیکھیں اور پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے ذریعے بھی یہ منصوبہ قابل عمل بنایا جاسکتا ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ وزیر کو ہدایت کردی گئی ہیکہ سال کے اندر اس کا پراجیکٹ سامنے آنا چاہیے۔سیوریج کے پانی کو استعمال میں لانے کا فیصلہ بہت بڑا ہے۔ کراچی میں بھی اس طرح کا منصوبہ آنا چاہیے کیونکہ وہاں ساڑھے چار سو ملین گیلن پانی روزانہ سمندر میں گررہا ہے جس میں سے کم از کم دو سو ملین پانی انڈسٹڑیز اور درختوں کو دیاجاسکتا ہے۔ پانی کے بحران میں یہ پانی استعمال میں لانا بہت اہمیت رکھتا ہے۔
عارف علوی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سے ڈیموں کی تعمیر سے متعلق بھی بات چیت ہوئی۔ کاغذی کارروائی کو جلد آگے بڑھایا جائیگا۔ اسی طرح گورنر بلوچستان سے یونیورسٹیوں کے قیام سے متعلق بات چیت ہوئی۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی یہاں اپنا کیمپس بنانا چاہتی ہے اور غلام اسحاق خان یونیورسٹی بھی کسی یونیورسٹی یا کالج سے الحاق کرنا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ عمران خان کے گرین اینڈ کلین پاکستان سے متعلق بھی بات چیت ہوئی۔
مشیر برائے ماحولیات امین اسلم اگلے دورے میں ہمارے ساتھ آئیں گے۔ یہاں پر صنوبر کے جنگلات کی افزائش کی ضرورت ہے کیونکہ یہ قدرت کا نظام ہے جہاں درخت ہوتے ہیں وہاں بارش بھی زیادہ ہوتی ہے۔
اسی طرح وزیر ریلوے شیخ رشید احمد بھی ہمارے ساتھ کوئٹہ آئے انہوں نے بھی مختلف منصوبوں پر بریفنگ لی۔ گوادر کو ریلوے کے ساتھ منسلک ہونا چاہیے۔ اس وقت ریلوے پٹڑیوں کی حالت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ریلوے عام مال بردار ٹرانسپورٹ کا مقابلہ کرسکے۔
مسافر اورمال بردار ٹرینوں کی رفتار بڑھائے بغیرریلوے آگے نہیں جاسکتا۔ عارف علوی نے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ کے بھی بڑے مشکور ہیں جنہوں نے اپنی پوری کابینہ سے ہمیں ملوایا اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وفاق اور صوبوں کے معاملات کو دیکھتے رہے۔ ہم اس ذمہ داری کو پورے طریقے سے ادا کررہے ہیں۔
باہمی روابط کے بغیر وفاق اور صوبوں کے آپس کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔صدرمملکت نے کہا کہ وزیراعلیٰ سے ویکیشنل ٹریننگ حب سے متعلق بھی بات ہوئی ہے جس کا جائزہ لیا جائیگا۔ہم نے ایک تجویز دی کہ شہریوں اور پولیس کے درمیان رابطہ کاری کا نظام بھی رائج کیا جائے جو سندھ کے اندر رائج ہے اور بڑی کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرد علاقوں کیلئے گیس کی قیمتوں میں کمی سے متعلق درخواست پر وفاقی وزیر گیس و پٹرولیم سے بات کی جائے گی۔ بلوچستان کو اس طرح کی خاص سہولیات دینا ضروری ہے۔ بلوچستان دہشتگردی کے بحران سے گزرا ہے۔ اب دہشتگردی کا مسئلہ پورے پاکستان میں کم ہوا ہے۔
کراچی اور خیبر پشتونخوا کے حالت بھی بہتر ہوئے ہیں۔ جیسے جیسے امن ہوگا اسی طرح سرمایہ کاری بھی بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماہی گیری میں سرمایہ کاری کے بہت بڑے مواقع ہیں۔ اس وقت صورف پانچ سو ملین کی برآمد ات ہوتی ہیں۔ بلوچستان کا ساحلی علاقہ بہت بڑا ہے یہاں سے دس ارب ڈالر کی سمندری خوراک کی برآمدات ہوسکتی ہیں۔
یہ نئے پاکستان کے حوالے سے کیفیت ابھررہی ہے اس میں بلوچستان بہت اہم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مالی بحران سے متعلق چیزوں کی نشاندہی ہوئی ہے اس پر ملکر کام کیا جائیگا تاکہ صوبے کو ریلیف مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ اور وفاقی فنڈز کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔
ہم ایک بڑے مالی بحران کے اندر سانس ے لے رہے ہیں لیکن انشاء اللہ بڑی جلد تبدیلی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ سو دنوں کے پلان سے متعلق دعویٰ کا جواب وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے ارکان دینگے مگر میرا اور ہم سب کا خواب ہے کہ پاکستان کے اندر خوشحالی آئے ،کرپشن ختم ہوں اور امن آئے۔
میں پرامید ہوں کہ بلوچستان سمیت پورا ملک جلد خوشحال ہوگا۔آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے رجوع کرنے سے متعلق ماضی میں پی ٹی آئی اور عمران خان کیبیانات اور اس پر حکومت میں آنے کے بعد یوٹرن لینے کے سوال پر صدرمملکت عارف علوی نے کہا کہ فرض کریں کہ اگر میں نے دستیاب معلومات کے حوالے سے کوئی بات کی ہے اس کے بعد مجھے خیال آئے کہ مجھے رائے بدلنی چاہیے تو میں انسان ہوں اور مجھے ضرور بدلنا چاہیے۔
یہ کوئی یوٹرن نہیں بلکہ اس پر ہم فخر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے وقت ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ملکی خزانے کا اتنا برا حال ہے۔ اب ہمیں اندازہوا ہے کہ ہم کس مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں۔
بلوچستان کے مسائل حل کرنے میں تعاون کرینگے، عارف علوی
![]()
وقتِ اشاعت : November 15 – 2018