|

وقتِ اشاعت :   February 4 – 2019

کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں و اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کے سیاسی و سماجی میدان میں خواتین کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ خواتین کے استعداد کار میں اضافے کیلئے حکومت ڈویلپمنٹ کے شعبے پر توجہ دے رہی ہے ۔ صوبے کی ترقی و خوشحالی کیلئے وفاقی و صوبائی حکومتیں ایک پیج پر ہیں ۔

گزشتہ 70 سالوں میں قوم پرست اور مذہبی جماعتوں نے بلوچستان سے نفرتوں کے خاتمہ کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے ہیں ان خیالات کا اظہار بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما پرنس آغا عمر احمدزئی ،پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی منورہ منیر،پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی مبین خلجی ،بلوچستان وومن بزنس فورم ایسوسی ایشن کی چیئرپرسن ثناء درانی ،وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی بلال کاکڑ، بی اے پی کے مرکزی رہنما رحیم آغا ،علی محمد ناصر،گل حسن درانی ودیگر نے بلوچستان وومن بزنس فورم ایسوسی ایشن کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پربی اے پی کے مرکزی رہنما پرنس آغا عمراحمدزئی نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی اتحادی جماعتوں کو ساتھ لیکر صوبے سے پسماندگی، غربت اور بے روزگاری کے خاتمہ کیلئے ایک حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔ عوام صوبائی حکومت کے چھ ماہ کی کارکردگی کے نتائج آئندہ آنے والے دنوں میں محسوس کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ خواتین گھریلوں منصوعات کی تیاری میں مہارت حاصل کرتے ہوئے صوبے کی ترقی میں حکومت کے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کریں ۔انہوں نے کہا کہ جلد سریاب روڈ پر خواتین کیلئے ٹریننگ سینٹر کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جہاں خواتین کو مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کرکے انکے استعداد کارمیں اضافہ کیا جائے گا۔

پی ٹی آئی بلوچستان خواتین ونگ کی صدر و رکن قومی اسمبلی منورہ منیر نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں محض انہیں مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے وفاقی حکومت صوبے کی ترقی و خوشحالی کیلئے صوبائی حکومت کوساتھ لیکر چل رہی ہے تاکہ عوام سے جو وعدے کئے گئے تھے انہیں عملی جامہ پہنایا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ گھریلو سطح پر تیار ہونے والی اشیاء کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کروا کرروزگار کے مواقع پیداکئے جائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو مردوں کے برابر حقوق فراہم کرنے کیلئے قوانین میں تبدیلی لائی جائے گی ۔رکن صوبائی اسمبلی مبین خلجی نے کہا کہ پاکستان کی نصف آبادی خواتین پرمشتمل ہے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا ۔

انہوں نے کہا کہ جو کام حکومت کو کرنا چاہئے تھا وہ بلوچستان وومن بزنس فورم ایسوسی ایشن کی رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ نئی پی ایس ڈی پی میں خواتین کے لئے تربیتی مراکز قائم کرنے کیلئے فنڈز مختص کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین کسی بھی شعبے میں دیگر صوبوں کی خواتین سے پیچھے نہیں محض حکومتی سطح پر انکی سرپرستی کرنے کی ضرورت ہے۔ 

وفاقی حکومت نے خواتین کی تعمیر و ترقی سے متعلق صوبائی حکومت کو ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔بلوچستان بزنس فورم ایسوسی ایشن کی چیئرپرسن ثناء درانی نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کے حقوق کاتحفظ کرنے کیلئے قوانین میں تبدیلی لانے کی ضروت ہے گزشتہ 70سال کے دوران کسی سیاسی و مذہبی جماعت نے اس جانب توجہ نہیں دی ۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کے استعداد کار میں اضافے کیلئے ڈویلپمنٹ کے شعبے پر توجہ دینے سے معاشرے کو پستی سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان وومن بزنس فورم ایسوسی ایشن کی جانب سے خواتین کو ہنرمند بنانے کیلئے کاوششوں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ 

تقریب سے وزیراعلیٰ کے معاون کے خصوصی بلال کاکڑ، بی اے پی کے مرکزی رہنما رحیم آغا ،علی محمد ناصر،گل حسن درانی اوردیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پرآفس مینجمنٹ ، کوکنک، ڈئیزائنگ،ڈریسنگ،بیوٹیشن کے شعبوں میں تربیت حاصل کرنے والی خواتین اوربچیوں میں لیپ ٹاپ اور اسناد تقسیم کی گئیں۔