سیاسی جماعتوں کے درمیان کشیدگی آج کی نہیں بلکہ دہائیوں سے چلتی آرہی ہے سابقہ حریف آج اتحادی کے طور پر ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں البتہ سیاسی جماعتوں کی پالیسیاں حالات اوروقت کے تقاضوں کے مطابق تشکیل پاتی ہیں۔موجودہ سیاسی صورتحال بھی ماضی کی عکاسی کرتی دکھائی دیتی ہے بہرحال اختلافات ایک حد تک ہونی چاہئیں تاکہ اس سے منفی تاثر قطعاََ نہ جائے۔
گزشتہ دنوں جس طرح میاں محمد نواز شریف کی بیماری کا معاملہ سامنے آیا تو یہ تاثر پھیل گیاکہ انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے اس طرح کے عمل کئے جارہے ہیں مگر وزیراعظم عمران خان نے نوازشریف کی طبی سہولیات کے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے علاج ومعالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی، یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کیونکہ اس سے حوالے سے عوام میں جو غلط پروپیگنڈہ پھیلایاجارہا ہے وہ زائل ہوجائے گا۔
وزیراعظم عمران خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نوازشریف کو ان کے خاندان کی منشاء کے مطابق علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ وزیراعظم عمران خان نے محمد نواز شریف کی صحت کے متعلق پنجاب حکومت سے تفصیلات طلب کی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے نواز شریف کی صحت یابی کیلئے دعا اور نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے وزیراعظم عمران خان کو نوازشریف کے علاج معالجے کے لیے کئے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔عمران خان کو بتایا گیا کہ محمد نوازشریف کی صحت کے حوالے سے محکمہ صحت پنجاب کے حکام اور اسپتال انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کو طبیعت خراب ہونے پر گزشتہ روز جیل سے سروسز اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
اسپتال ذرائع کے مطابق نواز شریف کے پلیٹلٹس کی تعداد کم ہو گئی تھی۔نوازشریف کے لیے6 رکنی میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دے دیا گیاہے،اسپتال کے وی آئی پی کمرے کو ہی نیب کی سب جیل قرار دے دیا گیا ہے اور ڈاکٹروں کے علاوہ کسی کو سابق وزیر اعظم سے ملاقات کی اجازت نہیں۔اس سے قبل یہ باتیں سامنے آرہی تھیں کہ میاں محمد نواز شریف اور آصف علی زرداری کی طبعیت بہتر نہیں جنہیں طبی سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں، یہ شکایات دونوں جماعتوں کے رہنماؤں سمیت خاندان کے افراد بھی کررہے تھے مگر وزیراعظم نے نوٹس لیکر میاں محمد نواز شریف کو ہر قسم کی سہولیات دینے کے احکامات جاری کرکے ایک اچھا پیغام دیا ہے۔
اب اس کے ساتھ سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی علاج ومعالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ سیاسی اختلافات اس پر اثر انداز نہ ہوں کیونکہ ہماری تاریخ اس حوالے سے کچھ اچھی نہیں رہی ہے گوکہ آج دونوں جماعتیں اپوزیشن میں ہیں انہی کے دور میں ایک دوسرے کے قائدین کو ذاتی عناد کی بنیاد پر انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا جوکہ ایک رواج بنتا گیا اس لئے اس طرح کی منفی روش جلدی سر اٹھاتے ہیں سیاسی اختلافات بھی سیاسی طریقے سے حل ہوسکتے ہیں جس کی ذمہ داری تمام سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے تاکہ ملک میں سیاسی انارکی نہ پھیلے، رہی بات الزامات اور کیسز کی تو عدلیہ اپنا کام کرے گی سیاستدان اپناکام کریں۔