اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت کے خلاف احتجاج کا مشترکہ فیصلہ تو کیا گیا تھا مگر آزادی مارچ پنجاب کے جن مقامات سے گزری تھی وہاں پر مسلم لیگ ن کے اہم قائدین کی عدم شرکت سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ اس وقت اپوزیشن میں مکمل اتفاق رائے نہیں ہے جبکہ آزادی مارچ میں شریک شرکاء کی تیاریوں سے یہ لگ رہا ہے کہ وہ ایک دن کیلئے نہیں آرہے بلکہ جمعیت کا ارادہ طویل عرصے تک بیٹھنے کا ہے البتہ یہ واضح نہیں کہ ایک مقام پر بیٹھ کر ہی دھرنا دیا جائے گا یا پھر جگہ تبدیل کیا جائے گا۔
دوسری جانب حکومت نے بھی معاہدے کی پاسداری نہ کرنے پر تیاریاں مکمل کرلی ہیں بہرحال اسلام آباد میں لاک ڈاؤن کی بات تو اپنی جگہ مگر تعلیمی اداروں کی چھٹی، سڑکوں کی بندش،معمولات زندگی کا متاثر ہونا عوامی مشکلات کا سبب بن رہی ہے۔ جہاں تک جمعیت علمائے اسلام ف کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم مستعفی ہوجائیں اور اسی نقطہ پر بضد دکھائی دے رہی ہے لیکن اس کے امکانات بھی دکھائی نہیں دے رہے،وزیراعظم پہلے بھی کہہ چکے ہیں اور ایک بار پھر اپنا مؤقف دے چکے ہیں کہ وہ مستعفی نہیں ہونگے کیونکہ وزیراعظم کا مستعفی ہونا ویسے بھی جمہوریت کے تسلسل کے لئے بہتر نہیں۔
حیرت کی بات ہے کہ اپوزیشن مطالبہ تو وزیراعظم کے مستعفی ہونے کا کررہی ہے مگر خود اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ سے استعفیٰ نہیں دیا جوخودسیاسی تبدیلی سے متعلق متضاد رائے دکھائی دیتی ہے لیکن صورتحال جمعہ کے بعد ہی واضح ہوجائے گی، اپوزیشن کاآزادی مارچ دھرنے میں تبدیل ہوجائے گا اور اگرحکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی تو پکڑ دھکڑ سمیت جنگی ماحول کا بھی بنے گا۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے ایک بار پھر امید ظاہر کی ہے کہ مولانا فضل الرحمان معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن میں جلسہ گاہ کا انتخاب جے یو آئی نے خود کیاہے۔پرویز خٹک نے بتایا کہ جے یو آئی (ف) نے معاہدے میں کہا ہے کہ اگر آگے بڑھے تو قانونی کارروائی کی جائے جبکہ وزیراعظم کے استعفے یا دوبارہ انتخابات کے معاملے پر حزب اختلاف نے بات نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی (ف) نے مذاکرات میں اسلام آباد آنے تک کی شرط رکھی، حزب اختلاف کی تمام باتیں مانیں اب اگر خلاف ورزی کی تو کارروائی کریں گے پھر شکوہ نہ کیا جائے۔وزیر دفاع نے کہا کہ دھرنا کتنا بھی طویل ہو لیکن اس سے ملک کا نقصان نہیں ہونا چاہیے۔پرویز خٹک کا مزید کہنا تھا کہ اگر انتظامیہ نے درخواست کی تو فوج کو طلب کیا جائے گا۔
وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حزب اختلاف آپس میں ہی سیاست کر رہی ہے۔وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ حزب اختلاف کی بھٹکی ہوئی سوچ اور الجھن سب نے دیکھ لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو حزب اختلاف سے نہیں بلکہ حزب اختلاف کو حزب اختلاف سے ہی خطرہ ہے۔ جو آپس میں سچ نہیں بول سکتے وہ قوم سے کیا سچ بولیں گے۔ بہرحال سیاسی بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فی الوقت حالات اتنے سازگار نہیں جس سے سیاسی ماحول میں بہتری کی امید لگائی جاسکے مگر اس تمام صورتحال کا اثر ملکی سیاست اور معیشت پر پڑے گاکیونکہ ماضی میں انہی دھرنوں اور سیاسی احتجاج کی وجہ سے ملکی معیشت کونقصان پہنچا۔