|

وقتِ اشاعت :   November 23 – 2019

پاکستان دنیا بھرمیں پولیو جیسے خطرناک موذی مرض کے حوالے سے سرفہرست آرہا ہے اس وقت پاکستان اور افغانستان وہ ممالک ہیں جہاں پولیو کے وائرس موجود ہیں جبکہ رواں سال تیزی کے ساتھ پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں باوجود اس کے کہ مسلسل پولیو مہم بھی جاری ہے مگر وائرس کی روک تھام نہیں ہورہی، اس کی ایک اہم وجہ پولیو ویکسیئن کے خلاف منفی پروپیگنڈہ ہے۔بغیر کسی جانکاری اور تحقیق کے عوام منفی پروپیگنڈوں کا شکار ہوجاتی ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو قطرے پلانے سے انکارکرتے ہیں افسوس کا عالم تو یہ ہے کہ جو عناصر ملک کے بچوں کی زندگی کے ساتھ کھیل رہے ہیں ان کی غلطیوں کو فراموش کرکے قطرے پلاکر شوبازی کی جاتی ہے جس کی واضح مثال رواں سال پشاور میں دیکھنے کو ملا جہاں چندمعصوم بچوں کو ڈرامائی انداز میں پولیو قطرے پلاکر تشویش پھیلائی جاتی ہے پھر سونے پہ سہاگا کہ ہماری میڈیا نے بھی حقائق جانے بغیر اس خبر کی بھرپور انداز میں تشہیر کردی حالانکہ ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تمام حقائق کو جاننے کے بعد خبر کو عوام تک پہنچائے کیونکہ یہ اہم ذمہ داری کاکام ہوتا ہے کہ لوگوں کو صحیح معلومات فراہم کی جائیں۔

بہرحال جو شخص اس پورے عمل کا ذمہ دار ہوتا ہے اس کی چند روزکیلئے گرفتاری عمل میں آتی ہے بعد میں اس کو رہا کردیا جاتا ہے اور پولیو مہم میں اسے بلاکر قطرے پلاکر معاملے کو رفع دفع کرکے مذاق بنایا جاتا ہے جبکہ ایسے افراد کو سخت سزا دینی چاہئے تاکہ کوئی آئندہ اس طرح کا گھناؤنا عمل نہ کرے۔ اب حالت یہ ہے کہ پولیو کے حوالے سے گزشتہ روز اقوام متحدہ کے زیرانتظام کام کرنے والے ادارے انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (آئی ایم بی) نے پاکستان میں پولیو کی صورتحال پر خوفناک انکشافات کئے ہیں۔پولیو کے عالمی ادارے نے پاکستان کے پولیو پروگرام کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے نئی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق رواں سال دنیا کے 80 فیصد پولیو کیسز پاکستان سے رپورٹ ہوئے۔آئی ایم بی نے پاکستان سے متعلق اپنی رپورٹ میں بتایاہے کہ 90 فیصد کیسز پولیو سے متاثرہ علاقوں کے علاوہ ہیں جبکہ کراچی اور خیبر پختونخوا میں پولیو وائرس کی موجودگی کو دنیا میں مرض کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ قرار دیاہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2018 میں پاکستان پولیو کے خاتمے کے قریب تھا لیکن پاکستان میں پولیو قطرے پلانے کی مہمات بری طرح ناکام ہوئی ہیں اور ملک میں سیاسی طور پر پولیو کے خاتمے کے لیے اتفاق رائے کا فقدان پایا گیا۔سوشل میڈیا پر پولیو کے خلاف منفی پروپیگنڈے کو بھی پولیو پروگرام کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا۔ پشاور، کراچی اور کوئٹہ کے 69 فیصد ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ لاہورمیں لیے گئے 88 فیصد ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی موجودگی پائی گئی۔رپورٹ کے مطابق کراچی کے ہر علاقے میں پولیو وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے اور پنجاب میں بھی پولیو پروگرام تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ رواں سال ستمبر میں چلائی گئی پولیو مہم میں تاریخ میں سب سے زیادہ بچے قطرے پینے سے محروم رہے اور گزشتہ سال کی نسبت رواں سال مزید 25 اضلاع سے پولیو کیسز رپورٹ ہوئے۔آئی ایم بی کے مطابق گزشتہ 9 سالوں میں رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز میں 70 فیصد بچوں نے پولیو ویکسین ہی نہیں لی تھی۔ یہ ایک تشویشناک امر ہے جس کیلئے سب سے پہلے حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے کہ کس طرح سے پولیو جیسے موذی مرض کے خاتمے کیلئے مزید اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ہمارے بچے مستقل معذوری سے بچ سکیں اورپاکستان کا دنیا بھر میں ایک بہتر امیج ابھرے، ساتھ ہی یہ تمام مکتبہ فکر کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے عوام میں شعوروآگاہی پیدا کریں تاکہ پولیوجیسے خطرناک مرض کاخاتمہ یقینی ہوسکے۔