رانا ثناء اللہ کو یکم جولائی کو پاکستان میں انسداد منشیات کے ادارے نے ایک شاہراہ پر مبینہ طور پر 15 کلو منشیات رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔وزیر مملکت برائے انسدادِ منشیات شہریار آفریدی نے رانا ثناء اللہ کو ’رنگے ہاتھوں‘ گرفتار کرنے اور ایک ویڈیو سمیت دیگر شواہد موجود ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ان الزامات کے تحت انسداد منشیات فورس کی عدالت میں چالان پیش کرنے کے باوجود ابھی تک رانا ثنا ء پر فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکی ہے۔
رانا ثنا ء اللہ خان کو اْن کی گرفتاری کے بعد سے ایک درجن سے زائد مرتبہ عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے۔ پہلی مرتبہ انہیں دو جولائی کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا تاہم اب ان کی ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔رانا ثناء اللہ کو اپنی رہائی کے عوض دس، دس لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کروانے ہوں گے۔ منگل کے روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس چودھری مشتاق احمد نے راناثنا ء اللہ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنایا۔ اس سے پہلے گزشتہ روز فاضل جج نے سابق وزیر قانون کی درخواست ضمانت پر دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
دوسری جانب گزشتہ روزوزیر مملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر قانون اور پاکستان مسلم لیگ کے رہنما رانا ثنا ء اللہ کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد تاثر دیا گیا کہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے، کیس ختم ہو گیا ہے اور وہ بری ہو گئے ہیں مگرمیں بتانا چاہتا ہوں کہ رانا ثناء اللہ اب بھی ملزم ہیں اور لاہور ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت کے حوالے سے آرڈر جاری نہیں کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ مختلف موقعوں پر کہا کہ رانا ثناء اللہ کے کیس میں 17 دن کے اندر اندر تمام ثبوت اور فوٹیج عدالت کے روبرو پیش کر دیے جائیں گے لیکن صحافیوں کے سوال پوچھنے پر انھوں نے اصرار کیا کہ انہوں نے کبھی ویڈیو کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا۔ہم نے 17 روز میں تمام ثبوت فراہم کر دئیے تھے، 18ویں دن ٹرائل شروع ہونا تھا مگر کیس میں تاخیری حربے استعمال کیے گئے۔
اے این ایف ایک پروفیشنل فورس ہے جس کی سربراہی میجر جنرل کرتے ہیں اور ان کے ماتحت نو بریگیڈئیر ہوتے ہیں۔میری اور وزیر اعظم کی کسی سے ذاتی رنجش نہیں ہے۔ ہم نے قانونی اور عدالتی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کی، ویسے بھی یہ ضمانتوں کا موسم ہے۔بہرحال راناثناء اللہ کی گرفتاری کے دوران ہی بہت سے سوالات جنم لے چکے تھے جس طرح سے ان کی گرفتاری اور منشیات کی برآمدگی کا معاملہ سامنے آیا تو اس دوران بعض حلقوں کی جانب سے حیرانگی اور تعجب کا اظہار بھی کیا گیا مگر وزیرمملکت برائے داخلہ شہریارآفریدی نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ تمام ثبوت موجود ہیں مخالفین حکومت کے متعلق غلط بیانی کررہے ہیں مگر جس طرح رانا ثناء اللہ کی رہائی عمل میں لائی گئی ہے۔
اس کے بعد مزید حکومت پر تنقید کی بوچھاڑ شروع ہوگئی ہے کیونکہ کسی بھی ملزم کو عدم ثبوت کی بناء پر رہائی نہیں مل سکتی جبکہ ثبوت واضح ہوجائیں تو اتنا عرصہ حراست میں رکھنے کی بجائے اسے سزا ملنی چاہئے تھی مگر ایسے شواہد ہی سامنے نہیں لائے گئے جسکی بنیاد پر راناثناء اللہ ملزم ثابت ہوتے اور انہیں سزا ملتی، یہ مسئلہ اپوزیشن اور خاص کر مسلم لیگ ن کا نہیں بلکہ اداروں کے ساتھ حکمرانی کا ہے جس پر پوری قوم کا اعتماد ہوتا ہے اگر ذرا سی غفلت اور لاپرواہی یا پھر انتقامی روش اپنائی جاتی ہے تو پوری ساکھ متاثر ہوتی ہے اور اعتماد کا فقدان جنم لیتا ہے پھر دوبارہ ایسے کیسز پر یقین کرنا مشکل ہونے کے ساتھ معذوری کی کیفیت پیدا کرنے کے اسباب بن جاتے ہیں لہٰذا گڈگورننس اور قانون کے عین مطابق عملداری کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ لوگوں کا اعتماد حکمرانوں اور اداروں پر برقرار رہے جو قومی سلامتی کے وسیع تر مفاد میں ہے کیونکہ حکمرانی ہمیشہ نہیں رہتی مگر اعمال اور رویہ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں جس کیلئے ضروری ہے کہ اچھی روایات کی بنیاد رکھی جائے تاکہ حکمرانوں کے گڈگورننس کو تاریخ میں یاد رکھاجائے۔