|

وقتِ اشاعت :   July 19 – 2020

ملک میں مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے،بڑھتی بیروزگاری کی وجہ سے لوگ نفسیاتی امراض میں مبتلا ہورہے ہیں، لوگوں کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آچکی ہے ان کی زندگی میں خوشحال تبدیلی کی بجائے بدحالی آئی ہے،خوردنی اشیاء اس قدر مہنگی ہوگئی ہیں کہ عوام کی قوت خرید جواب دے چکی ہے۔دوسری جانب حکومت ریلیف فراہم کرنے کے صرف دعوے کررہی ہے اور تمام تردعوؤں کے باوجود مہنگائی کو قابو کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے بلکہ مزیدروز مرہ کی اشیاء مہنگی ہورہی ہیں عوام اپنی ضرورت کے مطابق گھر کا گزارا کررہے ہیں،پہلے نئے مکان، گاڑی اور دیگر آسائش کی تمنا رکھنے والے لوگ اب معاشی ضروریات پوری کرنے میں لگے ہوئے ہیں افسوس کی بات یہ ہے کہ ان حالات کا مقابلہ عوام کررہی ہے ظلم یہ ہے کہ اوپر سے اب ادویات کی قیمتیں بھی بڑھادی گئی ہیں۔

جو پہلے ہی کورونا وائرس کی وباء کے ساتھ مافیاز نے میڈیسن کو اسٹاک کرکے مارکیٹ سے غائب کردیا اور بعد میں مہنگے داموں مارکیٹ میں لاکر انہیں فروخت کرنا شروع کیا، اس سے بھی دوقدم آگے چل کر بعض بااثر شخصیات نے تو بیرون ملک ادویات اور ماسک اسمگل کئے مگر ہونا کیا ہے ایک تحقیقاتی کمیشن،پھر رپورٹ اور اس کے بعد سب کچھ سرد خانے کی نذر۔ گزشتہ روزحکومت نے ادویات کی قیمتوں میں 7 سے 10 فیصد تک اضافے کی اجازت دے دی۔ڈرگ ریگولیٹراتھارٹی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت،کنزیومر پرائس انڈیکس کے تحت دی گئی ہے۔

اعلامیہ کے مطابق ڈریپ نے اس ضمن میں باضابطہ ڈرگ پرائسنگ پالیسی میں ترمیم منظورکی جس کی سفارش وفاق اور ڈریپ کے پالیسی بورڈ کی جانب سے کی گئی تھی۔ اعلامیہ کے مطابق ادویہ ساز کمپنیاں اور امپورٹرز کو بنیادی ادویات کی قیمتوں میں 7 فیصد جبکہ دیگر ادویات کی قیمتوں میں 10فیصد تک اضافے کی اجازت دی گئی۔نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس بنیادی ادویات کی قیمتوں میں 5.14 فیصد اور دیگر ادویات کی قیمتوں میں 7.3410 فیصد اضافے کی اجازت دی گئی تھی۔ادویہ ساز کمپنیوں اور امپورٹرز کے لیے لازم ہوگا کہ کسی بھی دوا کی قیمت میں اضافے کے تمام ثبوت، کمپنی کے سی ای او کے دستخطوں کے ساتھ ڈریپ میں جمع کرائے۔حکومت نے اپنے انقلابی اعلانات کو پایہ تکمیل تک تو نہیں پہنچایا مگر اس کے برعکس وہ سب کچھ کررہی ہے۔

جس کی توقع عوام کو ہر گزنہیں تھی۔ پی ٹی آئی ایک بہت بڑی تبدیلی کا نعرہ لیکر آئی تھی جس میں خاص کر عوام کو سب سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا شامل تھا اور بڑی تعداد میں نہ صرف روزگار بلکہ اپنا گھرہاؤسنگ اسکیم جیسے منصوبوں کے دعوے بھی کئے تھے،ملک میں مہنگائی کرنے والے مافیاز کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلنا اور قومی خزانے سے لوٹی ہوئی رقم کو دوبارہ قومی خزانہ میں نہ صرف منتقل کرنا بلکہ بیرون ملک منتقل رقم اور جائیدادوں کی رقوم بھی واپس لاکر انہی رقوم کے ذریعے ملکی قرضوں کو دینے کا وعدہ بھی کیا تھا نیز عوام کی فلاح وبہبود پر ان پیسوں کو خرچ کرنا بھی شامل تھا۔

اب حالت یہ ہے کہ عوام زندگی بچانے والی ادویات کو خریدنے کی سکت نہیں رکھتی جو کہ پہلے سے ہی کورونا وائرس کے دوران انتہائی مہنگے کردیئے گئے ہیں شاید حکمران ایوانوں اور اپنی نجی معاملات سے باہر نکل کر جھانکتے نہیں کہ عوام اس وقت کن مشکل حالات سے گزر رہی ہے، خدارا اگر عوام کو ریلیف فراہم نہیں کرسکتے تو کم ازکم مزید مہنگائی کرکے عوام کا جینا دوبھر نہ کریں کہ ان کو زندگی جیسی نعمت بھی عذاب لگے۔