|

وقتِ اشاعت :   July 24 – 2020

پاکستان میں کورونا وائرس سے اموات کی مجموعی تعداد 5709 ہو گئی ہے اور 2 لاکھ 69 ہزار 191 افراداس سے متاثر ہیں۔ملک بھر میں کورونا کے دو لاکھ 13 ہزار 175 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنل سینٹر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے صرف 1763 کیسز رپورٹ ہوئے اور 32 افراد کا انتقال ہوا۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 22 ہزار 408 ٹیسٹ کیے گئے۔

ملک بھر میں مجموعی طور پر کورونا کے 17 لاکھ 99 ہزار 290 ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں۔ ملک بھر میں کورونا کے ایکٹیو کیسز کی تعداد 50 ہزار307 ہو گئی ہے۔سندھ میں کورونا مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 15 ہزار 213،خیبرپختونخوا میں 32,753، بلوچستان 11,517، اسلام آباد 14,722، آزاد جموں و کشمیر 1,961، گلگت بلتستان 1,896 اور پنجاب میں 91,129 کورونا کے مریض ہیں۔پنجاب میں کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہزار 100، سندھ میں دو ہزار 60، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 158، اسلام آباد میں 162، بلوچستان میں 136، آزاد کشمیر میں 48 اور گلگت بلتستان میں 45 ہو چکی ہے۔این سی او سی کے مطابق ملک بھرکے اسپتالوں میں 248 مریض وینٹی لیٹر پر ہیں۔

جبکہ اسپتالوں میں کورونا وینٹی لیٹرز کی تعداد ایک ہزار859 ہے۔ملک میں کورونا ٹیسٹنگ کی صلاحیت یومیہ 60 ہزار سے زائد ہوگئی ہے اور 132 ٹیسٹنگ لیبارٹریز کام کر رہی ہیں۔ 30 شہروں میں ٹریس، ٹیسٹ اورقرنطینہ حکمت عملی موثر طریقے سے کام کررہی ہے۔پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس 26 فروری کو رجسٹرڈ ہوا اور ایک ہزاراموات 21 مئی تک ہوئیں۔کورونا وائرس کے کیسزمیں کمی کے بعد وفاقی وصوبائی حکومتوں کو معاشی سرگرمیوں پراپنی تمام تر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

کیونکہ اب بھی بہت سے شعبے بند پڑے ہیں، مقامی تجارت کے حوالے سے تاجر برادری کو درپیش مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان تمام آمدن کے ذرائع کو کھولنے کی اجازت دی جائے جوکہ ایس اوپیز کے ساتھ مشروط ہوں۔ کورونا وائرس کی وباء کے دوران لاک ڈاؤن نے غریب عوام کو براہ راست متاثر کرکیا جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ لہٰذا اب جس طرح سے کیسز اور کورونا کا زور کم ہوتا جارہا ہے تو عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ خودکفیل ہوکراپنا گھربار چلاسکیں۔

کیونکہ احساس پروگرام سمیت دیگر جو سرکاری وغیرسرکاری تنظیموں کی جانب سے عوام کو راشن سمیت دیگر امداد فراہم کی گئی وہ بعض افراد تک نہیں پہنچ سکی بلکہ بعض لوگوں نے خود بھی باعزت طریقے سے روزگار کا مطالبہ کیا تاکہ وہ کسی کے محتاج ہوکر لائن میں لگ کر اپنی عزت نفس کو مجروح نہ کریں۔ بہرحال ایسی ایمرجنسی کی صورتحال ہر جگہ رہتی ہے دیگر ممالک میں بھی رہی ہے مگر ہمارے یہاں المیہ یہ ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے لیکر ہرطرح کے سرکاری پروگرام جو غریب عوام کیلئے تشکیل دیئے گئے۔

ان میں کرپشن کی گئی اور غریب کو ان کا حق نہیں ملا، اس وجہ سے عوام کا بھروسہ بھی سرکاری اداروں پر نہیں رہا،امید ہے کہ حکومت عوامی روزگار سے جڑے شعبوں کی بحالی کیلئے اقدامات اٹھاکر ان کو روزگار کے مواقع فراہم کرے گی تاکہ ان کی مشکلات کا ازالہ ہوسکے۔