|

وقتِ اشاعت :   July 25 – 2020

قومی ترقیاتی کونسل کا دوسرا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ،ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹنٹ جنرل فیض حمید، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیرمنصوبہ بندی اسدعمر، حماد اظہراورعلی حیدرزیدی، عمرایوب،مشیرخزانہ،عبدالرزاق داؤد اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ سمیت دیگراعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بلوچستان میں امن وامان کو یقینی بنانا اور سماجی واقتصادی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان کے لیے وسائل کو یکسر نظرانداز کیا جاتارہا۔

وسائل فراہم نہ ہونے سے صوبے کا بڑاحصہ پسماندگی کا شکار رہا۔ وسائل نظرانداز ہونے سے بلوچستان کے عوام میں احساس محرومی نے جنم لیا۔ بلوچستان کے عوام کی احساس محرومی کو دورکرنے کیلئے کوشش کی جا رہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ گوادرکی تعمیروترقی کا منصوبہ گیم چینجرکی حیثیت رکھتاہے۔بلوچستان میں نوجوانوں کوروزگارفراہم کرنے اورانفراسٹرکچرکے قیام پرتوجہ دی جائے۔اجلاس میں بلوچستان کے دوردرازعلاقوں میں آمدورفت کے مختلف منصوبے زیرغورآئے۔ آبی وسائل کے بہتراستعمال، زراعت، توانائی اور بارڈرمارکیٹوں کے قیام پرغور کیا گیا۔

گوادر پورٹ سے مکمل طور پر استفادہ کرنے کیلئے مختلف منصوبے زیرغور آئے۔وزیراعظم نے وزیرمنصوبہ بندی، مشیر خزانہ اور وزیراعلیٰ بلوچستان پرمشتمل کمیٹی کے قیام کی ہدایت کردی۔ بہرحال یہ خوش آئند بات ہے کہ اجلاس میں بلوچستان کی ترقی کو اہمیت دی گئی مگر اس پر عملدرآمد کتنا ہوگا یہی بنیادی سوال ہے کیونکہ اس سے قبل گزشتہ ادوار میں بھی میگامنصوبوں کی جلد تکمیل کو یقینی بنانے کے حوالے سے وعدے کئے گئے مگر بدقسمتی سے آج بھی بلوچستان اسی طرح سے پسماندہ ہے بلکہ سی پیک سے جڑے منصوبوں کودیگر صوبوں میں تیزی سے مکمل کیا گیامگر بلوچستان کو یکسر نظرانداز کیا گیا۔

آج بھی بلوچستان میں سڑکیں، پانی سمیت اہم منصوبے تاخیر کا شکار ہیں اور دیگر بنیادی مسائل اپنی جگہ برقرار ہیں۔اگر صرف بلوچستان کے موجودہ چلنے والے منصوبوں کی آمدن سے اس کاجائز حق مل جائے اور اس رقم کو صوبے کے انفراسٹراکچر پر ایمانداری سے خرچ کیا جائے تو بلوچستان دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ ترقی کرے گا۔ المیہ یہ ہے کہ وفاق سے ملنے والے فنڈزمیں ایک تو انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے جاتے اوراس کے بعد جو ملتاہے اس میں زیادہ تر فنڈز لیپس یا پھر کرپشن کی نظر ہوجاتے ہیں۔

پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں این ایف سی ایوارڈ سمیت دیگر معاشی پیکجز دیئے گئے مگر اس سے بھی عوام محروم رہ گئے جس کی ذمہ دار خود صوبائی حکومتیں رہی ہیں۔بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کو وفاق سے شکوہ ہمیشہ رہا ہے مگر اندرون خانہ جب تک کرپشن کا خاتمہ نہیں کیاجاتا یہاں پر ترقی محض ایک خواب ہی رہے گا۔ حالیہ جعلی لوکل ڈومیسائل کامعاملہ سامنے ہے کہ کتنے ذمہ داروں پر اب تک ہاتھ ڈالا گیا کیونکہ جعلی ڈومیسائل ولوکل کا اجراء اتناآسان نہیں اس میں اہم عہدوں پر فائز شخصیات کا عمل دخل زیادہ رہا ہے۔

اور مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ وہ یہ کام کرتے ہیں۔گزشتہ کتنے ادوار میں جعلی ڈومیسائل جاری ہوئے اور اس دوران کون سے آفیسران کن اضلاع میں اہم عہدوں پر فائز تھے ان سب کا ریکارڈ نکالنابھی ضروری ہے، صرف بیانات اور منسوخی کے مطالبات سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ بڑے پیمانے پر کمیٹی تشکیل دی جائے جن میں بلوچستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیاجائے تاکہ اس کی شفافیت کو یقینی بنایاجاسکے اور وفاقی محکموں میں جس طرح سے باہر کے لوگوں کی بھرتی عمل میں لائی گئی ان کے خلاف کارروائی سمیت ڈومیسائل کو منسوخ کیاجائے۔

نیز ملوث آفیسران اور ذمہ داران کے خلاف بھی سخت ایکشن لیاجائے۔ وفاقی حکومت اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے تو کسی حد تک بلوچستان کے نوجوانوں کی حق تلفی کا ازالہ ہوسکے گا اور یہ بھی ایک بہت بڑا کارنامہ ثابت ہوگا۔جہاں تک بلوچستان کی ترقی ومعاشی تبدیلی کی بات ہے تو پہلے کچھ بنیادی مسائل کو حل کرکے عوام کے اعتبار کو بحال کیاجائے پھر یقینا اس عمل کے ساتھ بلوچستان کے عوام وفاقی اور صوبائی حکومت کے ساتھ ہونگے۔