|

وقتِ اشاعت :   July 29 – 2020

اپوزیشن نے عید کے بعد حکومت کیخلاف نئے محاذ کی تیاریاں شروع کردی ہیں اور اس سلسلے میں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔پاکستان کے تین اہم سیاسی رہنماء شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان ان دنوں لاہور میں ہیں جہاں گزشتہ روز شہباز شریف اور فضل الرحمان کی ملاقات ہوئی تھی اور گزشتہ روز ہی بلاول اور فضل الرحمان کی ملاقات بھی ہوئی۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی لاہور میں مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں عید الاضحیٰ کے بعد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مشاورت کی گئی۔بلاول بھٹو زرداری ن لیگ کے صدر شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔ ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ملاقات میں مہنگائی، بے روزگاری، عوامی مسائل پر اپوزیشن کے فیصلہ کن اقدام اورعید الاضحٰی کے بعد اے پی سی کے انعقاد پرمشاورت کی جائیگی۔

گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا تھا کہ ملکی تاریخ میں اس سے بدترین حکومت نہیں دیکھی، اس سے جان چھڑائی جائے گی۔جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اس بات پر اتفاق کیاکہ حکومت ہر حوالے سے ناکام ہو چکی،اس سے جان چھڑانے کا وقت آگیا ہے۔

ملک کی اپوزیشن جماعتوں کا اس وقت اکٹھے ہونے کی سب سے بڑی وجہ احتساب قوانین میں ترمیم کا مسئلہ ہے اور اس سے اپوزیشن کو ریلیف لینا ہے، حکومت نے بھی اس حوالے سے تیاری تو کرلی ہے مگر بعض اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان اس حوالے سے رضامند نہیں ہیں مگر انہیں راضی کرنے کیلئے دیگر حلقوں کی جانب سے بھی دباؤ بڑھایا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا نہ ہوکیونکہ ملک پہلے سے ہی معاشی بحران کا شکار ہے،بیرونی قرضے اتنے زیادہ ہوچکے ہیں کہ ماضی کے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں جبکہ اندرونی گردشی قرضہ بھی ایک بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے اس لئے حالات کو بہتر بنانے کیلئے سیاسی ماحول کو ساز گار بنانے کیلئے پوری کوشش کی جارہی ہے تاکہ ملک میں سیاسی استحکام برقرار رہے۔

دوسری طرف گرے لسٹ کی تلوار بھی لٹک رہی ہے اگر معاملات کو افہام وتفہیم سے حل نہ کیاگیا تو شاید بڑے بحرانات کی وجہ سے حالات مزید خرابی کی طرف جائیں۔ بہرحال اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نیب قوانین کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے مگر اپوزیشن نے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے، اس وقت اپوزیشن اپنے ہاتھوں سے یہ بہترین جانے نہیں دے گا اس لئے اپوزیشن کی بعض اہم شخصیات کو مکمل ریلیف فراہم کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی جس کا قوی امکان ہے کہ اس پر اپوزیشن کو کامیابی ملے گی مگر حکومت کو گھربھیجنے یا کوئی بڑی تحریک چلانے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

حالیہ اپوزیشن جماعتوں کی ملاقاتیں بھی محض سیاسی دباؤ کو برقرار رکھنے کے لیے ہیں تاکہ ماحول کو اسی طرح رکھا جاسکے جب تک وہ اپنے شرائط کو منوانہ سکیں جبکہ اے پی سی سے بھی کوئی بڑا فیصلہ متوقع نہیں لہٰذا اس وقت بڑی کوشش یہی ہے کہ ملک کو موجودہ بحرانات سے نکالنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کیا جائے تاکہ اندرون خانہ سیاسی استحکام برقرار رہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نیب قوانین میں جو ترامیم کی جائیں گی اس سے اپوزیشن کس حد تک ریلیف لینے میں کامیاب ہوگی اس کے بعد ہی سیاسی منظرنامہ واضح ہوجائے گا۔