|

وقتِ اشاعت :   October 16 – 2020

وزیراطلاعات شبلی فراز نے اپوزیشن کو چیلنج کیا ہے کہ گوجرانوالہ میں جناح اسٹیڈیم کو بھر کے دکھائیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پی ڈی ایم کو جناح اسٹیڈیم گوجرانوالہ میں جلسے کی اجازت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کسی بھی سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے لیکن سڑک یا لوگوں کے گزرنے کی جگہ پر جلسے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔پی ڈی ایم کی قیادت سے کہا گیا ہے کہ وہ جلسے کے دوران ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ سے اجازت ملنے پر پی ڈی ایم نے جناح اسٹیڈیم میں جلسے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

جناح اسٹیڈیم6 ایکڑ پر محیط ہے اس میں 35 ہزار افراد کی گنجائش ہے۔دوسری جانب گوجرانوالہ میں بغیر اجازت کارنر میٹنگ اور کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 7 مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔مقدمات میں ٹینٹ سروس اور ساؤنڈ سسٹم لگانے والوں سمیت 100 سے زائد افراد نامزد ہیں۔ پولیس نے مقدمات ضلع کے مختلف تھانوں میں درج کئے ہیں۔سی پی او گوجرانوالہ کا کہنا ہے کہ انتظامیہ سے این او سی کے بغیر کارنرمیٹنگز اور عوامی اجتماع کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی جبکہ کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

اور قانون کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیا جائے گا۔اپوزیشن کی جانب سے پہلا جلسہ16 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ پہلا جلسہ پی ڈی ایم کی تحریک کے رخ کا تعین کرے گا۔ن لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بینرز اتارنے اور پکڑ دھکڑ کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ حکومت مخالف جلسے اور قافلے نہیں رکیں گے۔ پی ڈی ایم کے جلسے کو حکومت کیخلاف ریفرنڈم بھی قرار دیا جا رہا ہے۔بہرحال جہاں گوجرانوالہ جلسے کی تیاریاں عروج پر ہیں وہیں حکومت بھی ایکشن میں دکھائی دے رہی ہے یہ کہنا کہ حکومت کوئی خطرہ محسوس کئے بغیر جلسے کی اجازت دے رہی ہے۔

ایساصرف بیانات کی حد تک ہے جس طرح کے شرائط اور اقدامات کے حوالے سے حکومت نے احکامات جاری کئے ہیں اس سے یہ تاثر بالکل واضح ہے کہ اپوزیشن کے جلسے کو کسی نہ کسی طرح روکاجائے جوکہ غیر مناسب عمل ہے کیونکہ پی ٹی آئی جب اپوزیشن میں تھی تو ملک بھر میں اس کے جلسے جلوس، ریلیاں اور طویل دھرنے ریکارڈ پر موجود ہیں اور شاید ہی کسی جگہ پر اس بات کا خیال رکھا گیا ہو کہ عوامی مشکلات سمیت دیگر مسائل پیدا نہ ہوں اور پی ٹی آئی کی قیادت یہ دعویٰ ہر جگہ کرتی دکھائی دیتی ہے کہ دھرنا اور جلسے جلوس ہم سے زیادہ کسی جماعت نے ملک میں نہیں کئے ہیں۔

تو لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ جمہوری رویہ کو برقرار رکھتے ہوئے قانون وآئین کے مطابق اپوزیشن کو جلسے کی اجازت دے اگر وہ اپوزیشن کے جلسوں کو اپنے لئے خطرہ نہیں سمجھتی مگر جس طرح کے احکامات اور اقدامات حکومتی سطح پر اٹھائے جارہے ہیں یہ اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ حکومت اپوزیشن کو آسانی سے جلسے کرنے نہیں دینا چاہتی،یہ بات الگ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں جب اقتدار میں تھیں تو وہ بھی اپوزیشن کو تُن کر رکھنے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑتی تھیں مگر اس سے عوامی مسائل کبھی حل نہ ہوئے اور نہ ہی حکومتوں کی رخصتی ایسے احتجاجات سے ہوئی ہے۔

حکومتوں نے اپنی مدت پوری کی، یہ ضرور ہے کہ عوامی مسائل حل نہیں ہوئے۔جس خوشحال معاشی انقلاب کے دعوے کئے گئے اس کا اندازہ موجودہ معاشی صورتحال اور قرضوں کے بوجھ تلے معاشی تنزلی سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جس میں کسی ایک حکومت اور جماعت کو ذمہ دار تو نہیں ٹہرایاجاسکتا سب نے اپنا حصہ اس میں ڈالا ہے، کوئی ایک حکومت ایسی نہیں رہی جس نے قرض نہ لیتے ہوئے خودانحصاری کے ذریعے معیشت کے حوالے سے مستقل بنیادوں پر پالیسیاں مرتب کی ہواور اپنے ہی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے معیشت کو صحیح سمت میں آگے بڑھایا ہو۔

بہرحال عوام آج انتہائی گھمبیر صورتحال کا سامنا کررہی ہے وہ اپنے لئے ریلیف چاہتی ہے کچھ نہ سہی دو وقت کی روٹی باآسانی انہیں میسر آسکے کیونکہ حکومتوں کی تبدیلی اور انقلاب کو ستر سالوں سے زائد ادوار سے عوام دیکھتے آئے ہیں اور ان کے تاثرات کسی کیلئے بھی اچھے نہیں ہیں۔ لہٰذا حکومت جمہوری رویہ اپناتے ہوئے جلسوں کی اجازت دیتے ہوئے اپنی کارکردگی کے ذریعے بہتر انداز میں جواب دے تو شاید عوام کا جھکاؤ حکومت کی طرف ہوجائے کیونکہ غریب عوام کی دلچسپی کسی کے دعوؤں اور وعدوں سے اب نہیں جڑی۔

وہ اپنے مسائل میں اس طرح گِرے ہوئے ہیں کہ وہ کوئی معجزہ چاہتے ہیں کہ ملک میں معاشی خوشحالی آئے، مہنگائی سے نجات ملے، روزگارکامسئلہ حل ہو، بجلی وگیس کی فراہمی سمیت ان کی قیمتوں میں ریلیف مل سکے۔ خداکرے کہ کوئی ایساکرشمہ ہوجائے کہ ملک کے غریب عوام سکون کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں۔