|

وقتِ اشاعت :   October 24 – 2020

وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت نوازشریف کو واپس لانے کیلئے بھرپور کوشش کر رہی ہے اور وہ 15 جنوری2021 تک پاکستان کی جیل میں ہوں گے۔نوازشریف 15 جنوری تک کوٹ لکھپت یا کسی اور جیل میں ہوں گے۔ ن لیگ میں کھینچاتانی ہو رہی ہے اور بہت جلد تقسیم ہوجائے گی۔ ووٹ کو عزت دو کانعرہ لگانے والے نوٹ کوعزت دیتے تھے۔ ہم نوازشریف سے وہ پیسہ واپس کروائیں گے جو انہوں نے غریبوں سے لوٹا ہے۔شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ن لیگی رہنماؤں اور ان کے سابق وزرا ء سب نیب زدہ ہیں۔ نوازشریف کو واپس لانے کی بات ہوئی۔

تو انہوں نے اداروں کی طرف توپوں کا رخ موڑ دیا۔جلسے توقعات کے مطابق نہیں ہوئے تواوچھے ہتھکنڈوں پراترآئے۔ اپوزیشن والے جنوری میں حکومت جانے کی باتیں کر رہے ہیں لیکن سال نہیں بتا رہے۔ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے درباری روز جھوٹ بولتے ہیں اور جھوٹ ان کی گھٹی میں شامل ہے۔ یہ خود کوسیاست کاشاہی خاندان سمجھتے ہیں۔ سندھ میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری کے متعلق وزیراطلاعات نے کہا کہ واقعے کی فوٹیج سب نے دیکھ لی ہے۔ صفدراعوان بڑے اطمینان اور سکون کے ساتھ گاڑی تک گئے۔صفدراعوان کو پولیس نے پروٹوکول دیا اور ان کے چہرے پر کوئی غصہ نہیں تھا۔

مریم نواز کے آج کے بیانات میں بھی تضاد تھا۔شبلی فراز نے کہا سندھ حکومت اور ن لیگ کے بیانات میں کوئی جوڑ نہیں۔ مجھے لگتا ہے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے ان سے والدہ کا بدلہ لے لیا۔دوسری جانب اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن کے رہنماء نے شبلی فراز کے ردعمل میں کہا ہے کہ جنوری تک شبلی فراز خود حکومت میں نہیں رہینگے۔ بہرحال حکومت اوراپوزیشن جماعتوں کے درمیان ٹکراؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ سیاسی حالات اسی طرح برقرار رہے تو یقینا ملک میں بے چینی پھیلے گی اور حالات مزید خراب ہونگے۔

گزشتہ دنوں جس طرح آئی جی سندھ سمیت پولیس آفیسران کے واقعہ کو لیکر سیاست کی گئی اس سے بھی مثبت پیغام نہیں گیا کہ کس طرح سے اداروں کو درمیان میں سیاست کیلئے گھسیٹاجارہا ہے جو موجودہ صورتحال کیلئے کسی صورت سود مند نہیں۔دونوں فریقین کو حالات کی نوعیت کو بھانپتے ہوئے ایک درمیانہ راستہ نکالنا ہوگا اور صرف ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کو حل کرنا ہوگا مگر اس میں پہل کون کرے گا یہی وہ بنیادی سوال ہے جو سیاسی ماحول کو مزید گرم کررہا ہے کہ اپوزیشن کا شکوہ ہے کہ انتقامی کارروائیوں کے ذریعے انہیں زیرکرنے کی کوشش حکومت کی جانب سے کی جارہی ہے۔

جبکہ حکومتی وزراء کا بیانیہ ہے کہ ہم لٹیروں کو کسی صورت این آر او نہیں دینگے البتہ یہ بات الگ ہے کہ حق گوئی اور اس بات کو صدق دل سے تسلیم کرنے کیلئے کوئی تیار نہیں کہ انہوں نے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا،ماضی ہو یا حالیہ حکومت کے دوران آٹااور چینی اسکینڈل کا معاملات جو سامنے آئے یہ سب کرپشن کے ہی زمرے میں آتے ہیں مگر ہر سیاسی سپاہی اپنے لیڈران کی دفاع کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاست شفافیت کی بجائے کرپشن کا دوسرا نام بن چکا ہے۔ اس سیاسی لڑائی میں عوام نے جو نقصانات اٹھائے ہیں۔

اس کا احساس شاید ہی کسی حکمران نے کیا ہو البتہ موجودہ سیاسی کشیدگی سے سیاسی عدم استحکام کو بڑھاواملے گا اور اس سے کسی کو بھی فائدہ نہیں پہنچے گا۔اب یہ سیاسی قائدین پر منحصر ہے کہ وہ ڈائیلاگ کو ترجیح دینگے یا پھر اسی ماحول کو برقرار رکھتے ہوئے انتشار کی طرف حالات کو لے جائینگے جوکسی کے مفاد میں نہیں۔ لہٰذا حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے بردباری کا مظاہرہ کرنا وقت کا عین تقاضہ ہے تاکہ کوئی اور بحران سرنہ اٹھائے۔