|

وقتِ اشاعت :   October 29 – 2020

کوئٹہ: آل بلوچستان پروگریسو پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن رہنماوں نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے دوران بلوچستا ن میں 300سے زائد پرائیویٹ اسکولز بند ہوگئے ہیں ان تعلیمی اداروں میں ہزاروں کی تعداد میں طلباء زیر تعلیم تھے جن کا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ ہے،صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم پرائیویٹ اسکولز کی مالی امداد کرے تاکہ جوپرائیوٹ اسکولز بند ہوئے ہیں انہیں دوبارہ کھولاجاسکے۔

یہ بات آل بلوچستان پروگریسو پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کیچیئرمین محمد عارف،صدر محمد نواز پندرانی سرپرست اعلی محمد وسیم خان یوسفزئی نائب صدر کنیز فاطمہ مینگل، جنرل سیکریٹری لیاقت علی ہزارہ، فنانس سیکریٹری عبد الوہاب کاکڑنے کوئٹہ پریس کلب میں آل ڈسٹرکٹ ہیڈ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

تقریب میں میروائس خان خلجی۔ خادم حسین مینگل، حافظ نعمت اللہ کاکڑ، قاری محمد فیصل، نثار احمد مشوانی، پروفیسر محمد ابراہیم ابڑو، امان اللہ ترین، محی الدین مری، غلام قادر سموں، حاجی نصیر ترین، منظور احمد پندرانی، میڈم صابرہ طارق، عبد الرحمن لونی، شراف الدین مردانزئی، محمد نبی، عبد الجبار بنگلزئی، کلیم اللہ اچکزئی،زاھد حسین شر۔ عتیق بلوچ، اور بلوچستان کے دیگر اضلاع کے صدور جنرل سیکریٹری و کوئٹہ یونٹس زمہ داران نے شرکت کی۔

اور کانفرنس میں پرائیویٹ اسکولز کو درپیش مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد عارف اور محمد نواز پندرانی نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی سال مارچ میں شروع ہوتا ہے جیسی نیا تعلیم سال شروع ہوا تو کوروناوائرس کے باعث تمام اسکولز بند کردیئے گئے انہوں نے کہاکہ اکثر پرائیوٹ اسکولز کرایہ کی بلڈنگز میں قائم ہیں جن کے مالکان نے پرائیویٹ اسکولز مالکان سے کرایہ طلب کیا۔

اور کرایہ نہ دینے پراسکول خالی کرنے کی دھمکیاں دی گئیں اور 300 کے قریب پرائیویٹ سکولز بلوچستان میں بند ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولز بند ہونے کی وجہ سے والدین نے بھی اپنے بچوں کی فیسیں جمع نہیں کرائی اور نہ ہی حکومتی سطح پر پرائیویٹ اسکولز مالکان کے ساتھ کوئی تعاون کیا گیا جس سے پرائیویٹ اسکولوں کے مالکان بلڈنگ کا کرایہ اور اساتذہ کو تنخواہیں ادا نہیں کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو چاہئے کہ وہ پرائیویٹ اسکولوں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے انہیں فنڈز فراہم کرے تاکہ وہ بلڈنگ کا کرایہ اور اساتذہ کو تنخواہیں ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ کئی ماہ کی بندش کے بعد اسکول کھل چکے ہیں لیکن سکولز میں طلبہ کا نصف حصہ اب تک غیر حاضر ہیں جس کہ وجہ سے پرائیویٹ سکولز مزید مشکلات کا شکار ہوئے ہیں۔

اس کے باوجود علم کا شمع روشن رکھتے ہوئے تمام اسکولوں میں کورونا وائرس سے بچاو کیلئے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کیاجارہا ہے تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکا جاسکے آخر میں ڈسٹرکٹ ھیڈز نے حکومت بلوچستان سے اپیل کی کہ پرائیویٹ سکولز کہ مسائل حل کرنے میں ھمارا ساتھ دیں۔

اور متفقہ طور پہ قراردا پاس کرتے ہوئے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ پرائیویٹ سکولز ترمیمی بل 2020 کو جلد از جلد پاس کیا جائے دیگر صورت میں بلوچستان کہ تمام اضلاع میں احتجاجی سلسلہ دوبارہ جاری کیا جائیگا اور ساتھ ہی بلوچستان ھائی کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کیا جائے گی۔