|

وقتِ اشاعت :   October 31 – 2020

منگچر: بلوچ رابطہ اتفاق تحریک (برات)کے سربراہ،خان آف قلات کے چچا اورسابق وفاقی وزیرپرنس محی الدین بلوچ نے مدرسہ بحرالعلوم پس شہر قلات کے آٹھ سالہ معصوم بچے کے ساتھ زیادتی اوراسے قتل کرنے پر اس وقعہ کو دردناک افسوسناک اورشرمناک قراردیکر اس پرافسوس کااظہار کیا اوراس کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کاگھنانا اورسفاک اقدام بلوچ معاشرے میں ناقابل تلافی اورناقابل معافی جرم ہے۔

اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ان خیالات کااظہارانہوں نے گزشتہ روزمیڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ ایسے افسوسناک واقعہ کے بعدجس طرح پولیس نے دن رات کام کرکے شواہد اکھٹے کرکے تین روز کے مختصر مدت میں اس واقعہ میں ملوث تینوں ملزمان کوگرفتارکرنا اس کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔

انہوں نے آئی جی پولیس بلوچستان محسن حسن بٹ کاخصوصی شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ آئی جی بلوچستان محسن حسن بٹ نے اس معاملے کابروقت نوٹس لیکر کرائم برانچ کوئٹہ کے ڈی آئی جی کا ٹیم تشکیل دیکر جس طرح قلات پولیس کی مدد اورتعاون کی جس کے با عث ملزمان گرفتارہوئے اس معاملے میں آئی جی پولیس کو ذاتی دلچسپی لینے پرانہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے دن رات کام کر نے والے ملزمان کا۔

سراغ لگاکرگرفتارکرنے پرڈی آئی پولیس قلات رینج جاوید اختراوڈھو، ڈی آئی آئی کرائم برانچ کوئٹہ وزیرخانناصر، ایس ایس پی قلات ارباب امجد کاسی، ڈی ایس پی قلات غلام حسین باجوئی، ایس ایچ او حبیب اللہ نیچاری، ودیگر پولیس آفیسران اورجوانوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے انتہائی خلوص ایمانداری سے کام کرکے ملزمان کوجلد گرفتارکرلیا انہوں نے وزیراعلی بلوچستان جام کمال عالیانی سے اپیل کی ہے کہ اس نازک اورسنگین نوعیت کے جرم میں ملوث ملزمان کی گرفتاری پر پولیس کے آفیسروں اورجوانوں کو نقدانعامات اورمتاثرہ خاندان کے لیے امدادی پیکیج کا اعلان کریں۔