کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے بار بار جنوبی بلوچستان کا لفظ استعمال کرنا قابل مذمت عمل ہے جنوبی بلوچستان کا لفظ حکمرانوں کی سازش گردانہ جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ بلوچستان میں کوئی شمالی‘ مشرقی‘ مغرب‘ جنوبی نہیں بلوچستان ایک ہے صوبے بھر کے عوام ہمارے لئے قابل احترام ہیں لیکن جس طرح جرائز پر آرڈیننس کے ذریعے قبضہ کیا گیا۔
اس کے بعد جنوبی بلوچستان کی اصطلاح یقینا سازش کی کڑی ہے جسے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائیگا اگر حکمرانوں نے بلوچستان میں ترقی و خوشحالی چاہتے ہیں تو اضلاع و ڈویڑن کے نام استعمال کر سکتے ہیں لیکن جنوبی‘ مشرقی‘ شمالی کسی بھی استحصال کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی گھناونی سازشوں کو برداشت کیا جائیگا بلوچستان کے حوالے سے اس سے پہلے بھی حکمرانوں نے بیانات دیئے اور اب ایک بار پھر سازش کے تحت دوبارہ عزائم کی تکمیل کرنا چا رہے ہیں۔
آئین میں صوبہ بلوچستان ہے وفاقی حکومت کے ارباب واختیار اور حکمرانوں کی جانب سے ماورائے آئین اقدامات قابل مذمت ہیں بی این پی ایسے کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کریگی حکمرانوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ بلوچستان کا نام استعمال کیا جائے غیر سیاسی‘ غیر سنجیدہ بیانات کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اس کے برعکس بی این پی پارلیمنٹ میں آواز بلند کرے گی حکمران غیر آئینی اقدامات کے مرتکب بنتے چلے آ رہے ہیں۔