اسلام آباد: پاکستان ریلوے کے کوئٹہ ڈویڑن کا کل روٹ 1036 کلو میٹر ہے اور اس ڈویژن کے پاس 23 ہزار 648 ایکڑ رقبہ ہے جس میں سبی کوئٹہ میں 3797 ایکڑ،کوئٹہ چمن 2834 ایکڑ،سپین نوشکی3291،نوشکی تفتان8 ہزار4 سو 72،سبی زردالو،2321 ایکڑ،بلوچستان ڑوب2933 ایکڑ رقبہ موجودہ ہے،ان میں سے 624.483 ایکڑ رقبے پر غیر قانونی طور پر قبضہ کیا گیا ہے۔
ان میں سے13.272 ایکڑ رقبہ حکومتی ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہے جبکہ 61.039 رقبہ ڈیفنس کے اداروں کے پاس ہے۔کوئٹہ ڈویژن میں 74.010 ایکڑ کمرشل زمین ہے جبکہ 98.39 زرعی زمین ہے۔کوئٹہ ڈوویژن ریلوے نے سردار بہادر خان یونیورسٹی کو لیز پر دی گئی زمین کی مد میں 55 کروڑ روپے وصول کرنے ہیں جو کہ انہیں نہیں دیئے جارہے ہیں۔
جبکہ دیگر سرکاری اداروں سے ملا کر کل 64 کروڑ39 لاکھ روپے لیز کی مد میں وصول کرنے ہیں۔تفصیلات کے مطابق آن لائن کے پاس دستیاب دستاویزات کے مطابق ریلوے کی کوئٹہ ڈوویژن کے 23 ہزار 839 ایکڑرقبہ ہے جس میں سے 624.863 ایکڑ پر غیر قانونی طور پر قبضہ کیاگیا ہے جو کہ اوسطا2.619 فیصد بنتا ہے۔قبضے کئے گئے رقبضے میں رہائشی447.356 ایکڑر قبے پر قبضہ کیا گیا ہے۔
74.012 ایکڑ کمرشل زمین پر قبضہ کیا گیا ہے۔42.076 ایکڑ زرعی زمین پر قبضے کیا گیا ہے جبکہ 61.039 ایکڑ ڈیفنس کے اداروں کے قبضے میں ہے۔گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پاکستان ریلوے نے کوئٹہ ڈوویژن سے 15.185 ایکڑ رقبہ غیر قانونی طور پر قابضین سے واگزار کرایا ہے جس میں سے 8.269 ایکڑرقبضہ کمرشل تھا اور6.916 ایکڑ رقبہ زرعی تھا۔
پاکستان ریلوے کوئٹہ ڈوویژن نے 2017-18 میں ریلوے کی زمین لیز پر دینے سے 24.123 ملین روپے حاصل کئے۔2018-19میں 142.139،2019-20 میں 25.542 اور2020-21 میں 2.290 ملین روپے حاصل کئے ہیں۔80 فیصد آمدنی جوائنٹ روڈ کوئٹہ سے حاصل کی گئی جبکہ 20 فیصد دوسری جگہ سے حاصل کی گئی۔فوڈ ڈیپارٹمنٹ چمن کے پاس 1.340 ایکڑ رقبہ قبضے میں ہے۔
بی این آر ڈیمارٹمنٹ چمن کے پاس 2.060 ایکڑ رقبضہ میں ہے۔میونسپل کارپوریشن کے پاس 2 ایکڑ،کسٹم ڈیپارٹمنٹ کے پاس3.300 ایکڑ رقبہ قبضے میں ہے۔ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے پاس چمن میں 3.230 ایکڑرقبضے میں ہے۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ مچھ میں 0.184،ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سبی کے پاس0.021 اورایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سبی کے پاس 0.022 ایکڑ رقبہ قبضے میں ہے۔
سی این ڈبلیو دلبدین کے پاس 0.358 ایکڑ رقبضے میں ہے۔ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ دلبنیدین کے پاس 0.413 ایکڑ،فوڈ ڈیپارٹمنٹ 0.114 ایکڑ رقبہ قبضے میں ہے۔ان حکومتی اداروں کے پاس کل 13.272 ایکڑ رقبہ قبضے میں ہے۔پاکستان ریلوے کوئٹہ ڈیڑن نے ریلوے کی زمین کی لیز کی مد میں 64 کروڑ 39 لاکھ روپے وصول کرنے ہیں جس میں سے سب سے زیادہ سردار بہادر خان یونیورسٹی سے55 کروڑ روپے وصول کرنے ہیں۔
فوڈ ڈیپارٹمنٹ سے2 کروڑ36 لاکھ روپے۔کوئٹہ ڈویپلمنٹ اتھارٹی سے 2کروڑ15 لاکھ روپے۔ میٹرو کارپوریشن کوئٹہ سے 84 لاکھ روپے۔ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ گرلز کالج چمن سے 65 لاکھ روپے۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے ایک کروڑ85 لاکھ روپے۔گریژن انجینئرنگ کوئٹہ کینٹ سے ایک کروڑ52 لاکھ روپے وصول کرنے ہیں۔