|

وقتِ اشاعت :   November 1 – 2020

کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی کے بانی سعید احمد ہاشمی نے کہا ہے کہ حکومت اور پی ڈی ایم کی سیاسی قیادت ملکی و بین القوامی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے سیاسی تناؤ کے درجہ حرارت کو اس قدر نہ بڑھائیں کہ اسکا نقصان جمہوری نظام کو پہنچے، سیاسی کھیل سیاسی میدان میں رہنے دیا جائے ملکی سیاسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی اسپیکرز کانفرنس طلب کریں۔

جس میں موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت اور پی ڈی ایم کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کے لئے قومی بیانیہ دیا جائے، سیاسی جنگ کے دوران بے روزگاری،مہنگائی، معاشی حالات، کورونا وائرس کی صورتحال جیسے اہم ترین عوامی مسائل یکسر نظر کردئیے گئے ہیں جن کی وجہ سے عوام کا سیاسی قیادت سے اعتما د اٹھنے کا خدشہ ہے۔ یہ بات انہوں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر اپنے پالیسی بیان میں کہی۔

سعید احمد ہاشمی نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی میدان میں جو کچھ ہورہا ہے اسکے نتائج مثبت نہیں ہونگے اپوزیشن اور حکومت نے انتہائی سخت موقف اختیار کرلیا ہے جسکی وجہ سے نہ صرف سیاسی درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے بلکہ ملک میں ڈائیلاک کا سلسلہ بھی جمود کا شکار ہوگیا ہے ملکی وبین القوامی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی قیادت کو قومی ڈائیلا گ کی ضرورت ہے اور موجودہ حالات میں اسپیکر ز کانفرنس کا انعقاد ایک ایسا بہترین فورم ثابت ہوسکتی ہے۔

جس میں قومی اسمبلی سمیت تمام صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکرز جو آئینی طور پر غیر جانبدار ہیں حکومت اور پی ڈی ایم کے درمیان رابطے اور مکالمے میں کردار ادا کرتے ہوئے سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے کے لئے حکومت اور پی ڈی ایم کو بات چیت کی میز پر لا سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ سیاسی حالات میں حکومت اور اپوزیشن (پی ڈی ایم)کو چاہیے کہ وہ ملکی و بین القوامی اور خطے کے حالات کو مدنظر رکھیں سیاسی کھیل کو سیاسی میدان تک محدود رکھنا چاہیے۔

اگر یہ سیاسی کھیل میدان سے باہر نکلا تو اسکے منفی اثرات جمہوری نظام پر مرتب ہونگے انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتیں بھی ملکی حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ ملک کی 22کروڑ عوام بھی سیاسی قیادت کی طرف دیکھ رہی ہے کہ وہ کب بے روزگاری، مہنگائی،معاشی بدحالی، کورونا وائرس جیسے عوامی مسائل پر بات اور انکے حل کے لئے کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اختلافات کو حل کرنے کے لئے سیاسی رہنماؤں کو سنجیدہ طریقہ کار اپنانا ہوگا تاکہ عوام کا اعتماد سیاسی رہنماؤں پر قائم رہنے کے ساتھ ساتھ ہم عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط اور سنجیدہ سیاسی ملک کے طور پر جانے جائیں ایسی حرکتوں سے گریز کیا جائے جن کا آگے چل کر نقصان ملک اور عوام اور جمہوری نظام کو ہو۔