کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے بلوچستان میں 27 سو اسکول اساتذہ کے نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑھے ہوئے ہیں بلوچستان میں 60 فیصد سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہے حکومتی و این جی اوز کے نام نہاد تعلیمی مہم صرف کاغذوں و اخبارات تک محدود ہے جبکہ سی ٹی ایس پی کے تحت شارٹلسٹڈ اساتذہ کرام گذشتہ ایک کئی عرصے سے پریس کلب کوئٹہ و مختلف اضلاع میں سرآپا احتجاج ہے۔
دھرنے کے وقت اساتذہ کرام سے وعدہ کیا گیا کہ انکی تعنیاتی دو ہفتوں میں مکمل کی جائے گی لیکن تاحال بھرتیوں کو مکمل نہ کرنے سے احتجاجی اساتذہ کرام شدید زہنی کوفت کا شکار ہے جوکہ تعلیم یافتہ طبقے کے ساتھ ناانصافی ہے جلد از جلد اساتذہ کرام کو اسکولوں میں تعنیات کیا جائے تاکہ اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کیا جاسکے دوسری جانب موجودہ آسامیوں کے ساتھ ہزاروں کے تعداد میں اساتذہ کے آسامیاں خالی ہے۔
جنکو بھرتیوں کے لئے جلد از جلد مشتہر کی جائے تاکہ تعلیمی اداروں میں بہتری لائی جاسکے انہوں نے کہا ہے جدید صدی میں 27 سو سے زائد اسکولوں کی بندش اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بلوچستان میں بنیادی انسانی حق تعلیم پر کوئی توجہ نہیں دی گئی یے نام نہاد ترقی کے اعلانات محض کاغذی و لفاظی ہے حقیقی حوالے سے بلوچستان کے ترقی کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہے۔