کوئٹہ: ڈائریکٹر جنرل انڈسٹریز و چیئرمین ضلعی پرائس کنٹرول کمیٹی کوئٹہ محمد داؤد بازئی نے کوئٹہ میں 250گرام روٹی 20روپے میں فروخت کرنے کا نیاحکم نامہ جاری کردیا دوسری جانب نان بائیان ایسوسی ایشن کے صدر محمد رضا خلجی نے نئے نرخنامہ کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیاکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نیا اور مناسب ریٹ دینے کی بجائے ان کے ساتھ سنگین مذاق کیا گیا ہے۔
تاہم نیا نرخنامہ جاری ہونے کے بعد کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں تندور کھولنا شروع ہوگئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق نان بائیان ایسوسی ایشن کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نیا نرخنامہ جاری نہ ہونے کے خلاف گزشتہ 12دنوں سے ہڑتال جاری تھا اس دوران شہر کے مختلف علاقوں میں بلیک میں 30سے 50روپے فی روٹی بھیجنے کا سلسلہ بھی جاری رہا، تندور مالکان اور انتظامیہ کے درمیان بارہاں ملاقاتیں اور مذاکرات ہوئے۔
تاہم بار بار مذاکرات ناکامی سے دوچار ہونے کے بعد نان بائیان ایسوسی ایشن 2دھڑوں میں تقسیم ہوگیا ایک دھڑے نے ہڑتال ختم کرکے تندورکھولنے کا اعلان کیا جبکہ دوسرا دھڑا ہڑتال جاری رکھنے پر بضد تھا ا س دوران پشتون آباد و دیگر علاقوں میں کھلے تندوروں کو نامعلوم افراد کی جانب سے بند کرنے کی بھی اطلاعات موصول ہوتی رہی۔
گزشتہ روز نان بائیان ایسوسی ایشن کی جانب سے نیا نرخنامہ جاری ہونے کے خلاف وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنے کی کال دی گئی تاہم اس دوران نان بائیان ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد نعیم خلجی و دیگرکو زبردستی تندور بند کرانے کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا۔ محمد نعیم خلجی کی ساتھیوں سمیت گرفتاری کے بعد پاکستان سٹیزن لیبریشن فورم، نان بائیان ایسوسی ایشن اور مرکزی انجمن تاجران کے نمائندوں نے پریس کانفرنس کے ذریعے وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنے کو موخر کرنے کا اعلان کردیا۔
اور ساتھ ہی ضلعی انتظامیہ کو ایک دن کا وقت دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر نیا نرخنامہ جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ایسوسی ایشن کے چیئرمین کو ساتھیوں سمیت رہا کیا جائے۔ پیر کے روز ڈائریکٹر جنرل انڈسٹریز و چیئرمین ضلعی پرائس کنٹرول کمیٹی کوئٹہ محمد داؤد بازئی کے دستخط سے نیا نرخنامہ نامہ جاری ہوا جس کے مطابق 250گرام روٹی 20روپے میں فروخت کی جائے گی۔
اس سلسلے میں نان بائیان ایسوسی ایشن کے صدر محمد رضا نے مذکورہ نرخنامے کو مسترد کرتے ہوئے اسے تندور مالکان کے ساتھ سنگین مذاق قرار دیا تاہم نیا نرخنامہ جاری ہونے کے بعد پیر کی شام کو کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں تندور کھولنا شروع ہوگئے۔