کوئٹہ: برطرف اساتذہ کیچ نے 11نومبر سے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کا اعلان کردیا۔ یہ بات گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کیچ کے صدر اکبر علی اکبرنے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لگائے گئے احتجاجی کیمپ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔اکبر علی اکبر نے کہاکہ ضلع کیچ کے ایک سو 14 اساتذہ پچھلے سال سے برطرف ہیں جن میں 65خواتین اساتذہ بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ان میں 2اساتذہ ایسے بھی ہیں جو فوت ہوچکے تھے تاہم محکمہ تعلیم کی غفلت کے باعث انہیں فوت ہونے کے بعد برطرف کیا گیا جس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ محکمہ تعلیم میں بیٹھے آفیسران اپنے محکمے سے متعلق کتنے سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ 12روز سے پریس کلب کے سامنے کیمپ لگا کر علامتی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں ان کے ساتھ ان کے بچے بھی کیمپ میں موجود ہیں۔
شدید سردی کے باعث 12خواتین، 2مرد اور 2بچیاں بیمار ہو گئی ہیں تاہم حکمران ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی وزیر د اخلہ نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی مگر وہ بھی صرف یقین دہانی ہی ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ اگرفوری طورپر مذکورہ اساتذہ کے بحالی کا اعلان نہ کیا گیا تو 11نومبر کو 5فی میل اور 5میل برطرف اساتذہ کے ساتھ تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت اور محکمہ کے ساتھ ساتھ جی ٹی اے بی کیچ کے کابینہ کے دیگر عہدیداروں نے بھی مایوس کیا ہے برطرف اساتذہ گزشتہ 17دنوں سے احتجاج پر ہے مگر کسی نے ان کے ساتھ اظہاریکجہتی نہیں کی جس پر افسوس ہے۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ ان کے احتجاج کو کوریج دے کر ان کی آواز اعلیٰ حکام تک پہنچائیں۔