|

وقتِ اشاعت :   November 8 – 2020

کوئٹہ: پاکستان مسلم لیگ(ن)کے سینئر رہنماوں نے کہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) بلوچستان میں کوئی دھڑے بندی نہیں ہے چند افراد کے پارٹی چھوڑ کرجانے سے نہ پارٹی پر کوئی اثر پڑے گا اور نہ ہی پارٹی ختم ہوگی نظریاتی اور حقیقی متوالے آج ی پارٹی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں،جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ جعلی طریقے سے صوبائی انٹراپارٹی الیکشن کے ذریعے صدربنے تھے۔

یہ بات مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنماوں میر اصغر مری،اشرف ساگر،ہاشم خان بڑیچ،جہانگیر خان خروٹی،مرزا شمشاد،ضلع پشین کے صدر عبدالظاہرآغا،اجمل اعوان،ایڈووکیٹ عمران علوی،ظہوردرانی،کریم خلجی اوردیگر نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہاکہ 2018ء کو بلوچستان میں اسوقت کے عبوری صدر جنرل(ر)عبدالقادر بلوچ نے بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صوبائی انٹر پارٹی الیکشن جعلی۔

اور غیر آئینی بنیادوں پرمنعقد کروائے جس پر پارٹی کے نظریاتی و سینئر رہنماوں سمیت صوبہ بھر کے ورکرز نے اس جعلی اور غیر آئینی عمل کو مسترد کرکے سیاسی دائرے میں رہ کر تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کرتے ہوئے مرکزی قائدین کو تحریری طورپر صورتحال سے آگاہ کیااورالیکشن کمیشن آف پاکستان اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس غیر آئینی عمل کے خلاف پٹیشن دائر کی کیونکہ صوبائی سطح پر جو جعلی الیکشن کروائے گئے تھے۔

ااور جعلی نوٹیفکیشن کے ذریعے غیر مسلم لیگیوں کو پارٹی پر مسلط کرنے کی کوشش کی جس پر پارٹی کے نظریاتی اورسینئر ساتھی ڈٹ کر کھڑے رہے اورآج الحمد اللہ ہمارا موقف سچ ثابت ہواہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) سمندرکی مانند ایک بہت بڑی ملک غیر سیاسی جماعت کے طور ر موجود ہے جس کی جڑیں خیبر سے لیکر گوادر تک پھیلی ہوئی ہیں چند افراد کے پارٹی چھوڑ کر جانے سے نہ پارٹی پر کوئی اثر پڑے گا۔

اور نہ ہی پارٹی ختم ہوگی بلوچستان میں مسلم لیگ(ن) کے نظریاتی اور حقیقی متوالے آج بھی اپنی پارٹی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں پارٹیاں چند افراد کے جانے سے ختم نہیں ہوتیں بلکہ سیاست میں ایسے نشیب و فراز سیاست کا حصہ ہوتے ہیں جو لوگ یہ کہہ کر پارٹی چھوڑ کر چلے گئے کہ اب مسلم لیگ(ن) بلوچستان سے ختم ہوگئی ہے دراصل وہ خود بہت بڑی غلط فہمی کا شکارہیں۔