|

وقتِ اشاعت :   November 11 – 2020

تربت: صوبائی وزیر خزانہ ظہور احمد بلیدی کی زیر صدارت ان کی رہائش گاہ میں وزیراعظم عمران خان کے موقع دورہ تربت کے حوالے سے بلیدہ، زعمران، یونین کونسل شاہرک، یونین کونسل پیدارک، ہوشاب سمیت مختلف علاقوں کے معتبرین اور قبائلی عمائدین کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں انکے ہمراہ ممبر صوبائی اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹری برائے مذہبی امور لالہ رشید احمد دشتی بھی موجود تھے۔

صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے علاقہ معتبرین کو وزیراعظم پاکستان عمران خان کے متوقع دورہ تربت کے بارے میں آگاہی دی اور ان سے اس دورے کی افادیت کے بارے میں صلاح مشورہ بھی کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا دورہ تربت انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس میں وزیراعظم جنوبی بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے لیے ایک خصوصی پیکیج کا اعلان کرینگے۔

جس میں شاہراہوں کی تعمیر کے علاوہ تعلیم، صحت، آبنوشی، ڈیموں کی تعمیر اور دیگر مختلف قسم کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چونکہ جنوبی بلوچستان میں زیادہ تر موصلات، ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی، زرعی شعبے کی زبوں حالی اور پانی کی فراہمی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔اس لیے ہم نے وفاقی حکومت سے درخواست کی ہے کہ ان عوامی بہبود کے منصوبوں کو وفاقی پی ایس ڈی پی میں ترجیحی طور پر شامل کرلیا جائے تاکہ بلوچستان کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئے اور ان کے نتیجے میں لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔

اس دوران انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی بلوچستان کے پیکیج میں مواصلات کے شعبے میں خصوصی طور ترجیح دی گئی ہے اور اس حوالے سے ہوشاب آواران روڑ،بلیدہ بالگتر روڈ،بلیدہ زعمران اور مند روڑ کے علاوہ پروم پنجگور روڑ کی پیکج میں شمولیت کا قوی امکان ہے۔جبکہ دیگر منصوبوں میں تربت یونیورسٹی کی ایکسٹنشن،گیشکور ڈیم، ضلع کیچ میں ایک ٹراما سینٹر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ مکران میڈیکل کالج میں 350 بستروں پر مشتمل ایک جدید ہسپتال کی تعمیر اور سول ہسپتال تربت کی اپ گریڈیشن اور تزئین و آرائش اور دیگر کئی منصوبے بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا ضلع کیچ کے علاقائی معتبرین کے ساتھ ملاقات طے ہے جس میں ترقیاتی پیکیج اور علاقہ کے دیگر مسائل کے بارے میں تفصیلی طور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران وفاقی حکومت کے اہلکاروں کی طرف سے اس پیکج کے بارے میں تفصیلی بریفنگ بھی دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ عرصے سے ہماری حکومت جام کمال خان کی سربراہی میں وفاقی حکومت کے ساتھ ملکر اس پیکج پر کام کررہی ہے تاکہ بلوچستان کے پسماندہ اور دورافتادہ علاقوں کو ترقی کے سفر میں شامل کرکے ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لایا جسکیں۔

انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت نے دو سال کے قلیل عرصے میں عوامی بہبود کے بیشمار منصوبے شروع کیے ہیں اور ان امید ہے ان منصوبوں کی تکمیل سے بلوچستان کے بنیادی ڈھانچے میں نمایاں بہتری آئے گی اور لوگوں کی مشکلات میں کمی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے بلوچستان کے پسماندگی کو دور کرنے کے لیے تعلیم کے شعبے میں کئی منصوبے شروع کیے ہیں جنمیں تربت میں انجینئرنگ کالج کے سب کیمپس آور لا ء کالج کا قیام اور مختلف علاقوں کو طلباء کے لئے لائبریری کے پروجیکٹس شاملِ ہیں۔

انہوں نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی بلوچستان پیکج کے مکمل ہونے کے بعد بلوچستان کی مجموعی معاشی صورتحال میں بہتری آئے گی اور بے روزگاری میں خاطر خواہ کمی ہوگی۔انہوں نے کہا دو سالوں کے دوران حلقہ انتخاب میں تقریبا ساٹھ سے زائد اسکولوں کو آپ گریڈ کیا، پانچ آر ایچ سی بنائے جن میں ہوشاپ، میناز، ڈنڈار، سامی شامل ہیں جن میں کچھ آپ گریڈ کیے گئے۔

اسی طرح تیس کروس سے زائد فنڈز سے ہوشاپ، شاپک حفاظتی بندات بنائے جو علاقے میں پانی فراہمی کے لیے گیم چینجر ثابت ہوں گے، انہوں نے کہا کہ بکیدہ، تمپ سمیت مختلف کالجوں کو اپ گریڈ کر کے ڈگری کا درجہ دیا گیا اور نان ڈویلپمنٹ فنڈ کی مد میں ہر کالج کو ایک کروڑ سے زائد فنڈ ریلیز کرایا۔ انجنئیرنگ کالج تربت کے لیے تیس کروس منظورِ کیے گئے جبکہ چھ لائبریری جن میں شاہراک، ڈنڈار، ہوشاپ، بٹ بلیدہ اور میناز سمیت پیدارک کے لیے منظور کیے۔

اس کے ساتھ ڑھائی سالوں میں پانچ سو سے زائد نوکریاں دیں اور ایجوکیشن میں بند اسکولوں کو کھولنے کے لیے غیر مستقل ٹیچر بھارتی کر کے اسکول فنکشنل بنائے، سامی اور بلیدہ میں دو ڈرگ سینیئر بنائے تاکہ منشیات کا خاتمہ ممکن بنا سکیں اس کے علاوہ کولواہ اور بلیدہ میں ایگری کلچر سینٹر قائم کیے جس سے زراعت کو فروغ حاصل ہوگا۔انہوں نے کہا سامی ڈیم سے تیزی ہزار ایکڑ زمین آباد ہوگی تنک ہوشاپ اور پیدارک گورکوپ میں نئی ڈیموں کی تعمیر کے کیے آئندہ پی ایس ڈی پی میں بجٹ منظور کرائیں گے۔