|

وقتِ اشاعت :   November 12 – 2020

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون کا زونل اجلاس جامعہ بلوچستان میں گزشتہ روز زونل آرگنائزر حسیب بلوچ کے زیر صدارت منعقد ہوا جس کے مہمان خصوصی مرکزی سیکریٹری اطلاعات اورنگزیب بلوچ تھے۔ اجلاس میں بی ایس او کی قیادت نے 27 نومبر کو کوئٹہ کے مقام پر “طلباء طاقت بحالی مارچ” کا تاریخ ساز فیصلہ کر کے تمام طلباء کے ارمانوں کی جراتمندانہ ترجمانی کی ہے۔

اور یہ مارچ طلبہ سیاست میں سنگ میل ثابت ہوگی۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن 27 نومبر کے طلبہ مارچ میں تمام ترقی پسند طلباء قوتوں کے ساتھ مل کر طلباء سیاست اور طلباء قوت کی بحالی کا پرچم بلند کریگی۔ اجلاس میں موجودہ علاقائی و عالمی تناظر، تنظیمی امور سمیت آئندہ کے لائحہ عمل میں ‘طلبہ طاقت بحالی مارچ’، شال زون کی جنرل باڈی اجلاس اور دیگر ایجنڈے زیر بحث رہے اور اہم فیصلے کئے گئے۔

اجلاس نے عالمی و علاقائی صورت حال پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ آج سرمایہ دارانہ دنیا ایک بہت بڑی معاشی بحران کا شکار ہے جبکہ سرمایہ دارانہ ریاستیں زیادہ سے زیادہ منڈیوں پر رسائی کی دوڈ میں محاذ آراء ہیں۔ طاقت کی اس لڑائی میں بڑی قوتیں ایک دوسرے کے خلاف عسکری اور سٹریٹیجک محاذوں پر بھرپور زور آزمائی کر رہی ہیں اور اس چپقلش میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

عالمی قوتوں کی رسہ کشی میں محکوم اقوام اور محنت کش عوام کی استحصال میں اصافہ بڑھتا جا رہا ہے جس سے محکوم عوام کی چیلنجز مزید پیچیدہ ہوتی ہوئی بڑھ رہی ہیں۔ اجلاس کے بحث میں کہا گیا کہ بلوچ سرزمین کی اسٹریٹجک حیثیت نے اسے عالمی آکاڑے کا مرکز بنا دیا ہے اور سبھی طاقتوں کی نظریں بلوچ سرزمین پر لگی ہوئی ہیں جبکہ اس کے باسیوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور اپنی دھرتی پر بلوچ قوم عدم تحفظ اور افلاس کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دی گئی ہے۔

اجلاس نے مزید کہا کہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ بلوچ قوم اپنے اندر قائدانہ صلاحیت پیدا کرتے ہوئے متحد اور متحرک ہو جائے تاکہ نئے دور کی چیلنجوں پر قابو پایا جا سکے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی و سماجی علم کی درسگاہ بی ایس او کو فعال، مضبوط اور منظم کیا جائے جس سے قیادت کی بحران پر قابو پا کر انقلابی قیادت پیدا کی جائے۔

اسی فکر کے پیش نظر بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی قیادت اپنی تاریخی فرض نبھاتے ہوئے کیمپسز کے اندر اسٹوڈنٹس کی فکری و سیاسی تربیت پر مکمل توجہ مرکوز کر چکی ہے اور جہدمسلسل کے فلسفے کے تحت سرگرم عمل ہے۔اجلاس میں یکم دسمبر کو شال زون کے جنرل باڈی سمیت دیگر اہم فیصلہ کئے گئے۔